لو جہاد: بریلی میں فرضی نکلا جبراً مذہب تبدیلی کا معاملہ، یوگی کی پولس پھر کٹہرے میں!

بریلی کے فرید پور میں ایک شادی شدہ خاتون نے تین مسلم نوجوانوں پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے راستے میں روک کر اس پر مذہب تبدیل کرنے اور نکاح کا دباؤ بنایا۔ جانچ کے دوران یہ الزام غلط ثابت ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

مشاہد رفعت

اتر پردیش کی پولس جبراً مذہب تبدیلی کا معاملہ درج کرنے میں بہت جلدبازی دکھا رہی ہے اور اس وجہ سے اسے کئی بار سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لو جہاد قانون (جبراً مذہب تبدیلی قانون) کے تحت پہلا مقدمہ درج کرنے کا تمغہ اپنے سینے پر لٹکانے کے بعد بریلی پولس نے ایک بار پھر آناً فاناً میں جبراً مذہب تبدیلی کا مقدمہ درج کر کے تین مسلم نوجوانوں کو مصیبت میں ڈال دیا۔ لیکن اب پولس جانچ میں ہی یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ معاملہ پوری طرح سے فرضی تھا۔

بریلی کے ایس ایس پی روہت سنگھ سجوان کا کہنا ہے کہ خاتون نے جو الزام عائد کیا تھا وہ غلط نکلا ہے۔ جس دن کا واقعہ بتایا گیا اس دن ملزمین وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ خاتون کچھ دن پہلے انہی میں سے ایک نوجوان کے ساتھ دہلی چلی گئی تھی اور واپس آنے پر گھر والوں نے اس کی شادی بھی کر دی تھی۔

یہ معاملہ بریلی واقع فریدپور تحصیل کا ہے۔ مقدمہ درج کرانے والی خاتون کی عمر 24 سال ہے۔ اس نے یکم جنوری کو اپنے شکایتی خط میں الزام لگایا تھا کہ ابرار، میسور اور ارشاد نے بریلی سے فرید پور آتے وقت نوگواں پر اس کو اسکوٹی سے کھینچا اور زبردست مذہب تبدیل کر کے ابرار سے نکاح کرنے کا دباؤ بنانے لگے۔ خاتون نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ یہ واقعہ یکم دسمبر یعنی ایک مہینے پہلے پیش آیا تھا۔ ایس ایس پی روہت سنگھ رجوان کا کہنا ہے کہ پولس کو اسی بات پر شبہ ہوا اور جب جانچ کرائی گئی تو پتہ چلا کہ یکم دسمبر کو تینوں نوجوان خاتون کی بتائی گئی جگہ پر موجود ہی نہیں تھے۔

ایس ایس پی رجوان نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً چار مہینے قبل 9 ستمبر کو یہ لڑکی ابرار کے ساتھ کہیں چلی گئی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ دونوں دہلی کے تغلق آباد علاقے میں 15 دن تک رہے۔ اس درمیان فرید پور تھانہ میں خاتون کے اغوا کی رپورٹ درج کر لی گئی۔ کچھ دن بعد جب وہ گھر واپس لوٹی تو جانچ میں اس کے بالغ ہونے کی تصدیق ہوئی۔ خاتون کے والدین کی موت ہو چکی ہے اور وہ اپنے ماما کے گھر رہتی ہے۔ لوٹ کر آنے کے بعد گھر والوں نے 11 دسمبر کو بریلی کی آنولہ تحصیل کے رہنے والے ایک نوجوان سے اس کی شادی کرا دی۔

راستے میں روک کر زبردستی مذہب تبدیلی کا دباؤ بنانے کا الزام غلط ثابت ہونے کے بعد اب پولس اس الزام کی جانچ کر رہی ہے کہ ابرار نے آنولہ میں خاتون کے سسرال جا کر اسے دھمکایا تھا یا نہیں۔ حالانکہ پولس کی یہ کوشش اس معاملے میں کسی طرح نوجوانوں کو قصوروار ٹھہرا کر اپنی ساکھ بچانے کی ہے۔ اب جانچ میں جو بھی نکلے، لیکن یہ طے ہے کہ جلدبازی میں بریلی پولس نے اپنی فضیحت کرا لی ہے۔

مبینہ لو جہاد معاملے میں پولس کی سبکی کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ دراصل اتر پردیش کی بی جے پی حکومت 24 نومبر کو لوجہاد روکنے کے نام پر مذہب تبدیلی آرڈیننس-2020 لائی تھی۔ اس میں دھوکہ یا لالچ دے کر یا پھر زبردست مذہب تبدیلی کرانے کا الزام ثابت ہونے پر 10 سال تک کی قید اور 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ رکھا گیا۔ آرڈیننس آنے کے بعد سے اتر پردیش پولس نے کئی اضلاع میں یکے بعد دیگرے کئی معاملے درج کر کے مسلم نوجوانوں اور ان کے گھر والوں پر کارروائی شروع کر دی۔

لو جہاد کے خلاف نئے قانون کے تحت پہلا معاملہ بھی بریلی میں ہی درج کیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں بھی بریلی پولس کی بہت فضیحت ہوئی تھی کیونکہ لڑکی کی شادی اسی کے مذہب سے تعلق رکھنے والے لڑکے سے ہو چکی تھی اور لڑکی کے بھائی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ پولس پرانے معاملے کو پھر سے کھلوانے کے لیے خود ان کے گھر آئی تھی۔ اب فریدپور کے تازہ معاملہ میں بھی پولس کی جلدبازی کا نتیجہ سامنے آ گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next