’گریٹ نکوبار جزیرہ پروجیکٹ اپنی موجودہ شکل میں ماحولیاتی تباہی کا نسخہ ہے‘، جے رام رمیش کا وزیر دفاع کو خط
جے رام رمیش نے کہا کہ ’’مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی اور وزیر برائے قبائلی امور کو خط لکھنے کے بعد میں نے گریٹ نکوبار جزیرہ پروجیکٹ کے سلسلے میں وزیر دفاع کو بھی خط لکھا ہے۔‘‘

مرکزی حکومت کے ’گریٹ نکوبار جزیرہ‘ پروجیکٹ پر کانگریس مسلسل سوالات اٹھا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں اتوار (17 مئی) کو کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے ماحولیاتی منظوری، قبائلی حقوق اور اس پروجیکٹ کو اسٹریٹجک بنیادوں پر جائز ٹھہرائے جانے پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی اور مرکزی وزیر برائے قبائلی امور کو خط لکھنے کے بعد اب میں نے گریٹ نکوبار جزیرہ پروجیکٹ کے سلسلے میں وزیر دفاع کو بھی خط لکھا ہے۔‘‘
اپنے خط میں جے رام رمیش نے یکم مئی کو حکومت کی جانب سے ’دی گریٹ نکوبار جزیرہ پروجیکٹ: اکثر پوچھے جانے والے سوالات‘ کے عنوان سے جاری کردہ پریس نوٹ پر سوال اٹھائے۔ اس میں انہوں نے 10 مئی کو مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی اور پھر 13 مئی کو مرکزی وزیر برائے قبائلی امور کو لکھے گئے خطوط کا بھی ذکر کیا۔ کانگریس لیڈر نے لکھا کہ ’اکثر پوچھے جانے والے سوالات‘ پروجیکٹ کو ملی ماحولیاتی منظوریوں کے حوالے سے مکمل طور پر گمراہ کن تصویر پیش کرتے ہیں، جو حقیقت میں انتہائی مشکوک بنیادوں پر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ منظوری کے عمل کے تحت فارسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کی دفعات پر عمل درآمد کی صورتحال کو بالکل غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں۔
جے رام رمیش نے مزید لکھا کہ اصل میں یہ عمل پارلیمنٹ کی جانب سے قبائلی برادریوں کو دیے گئے انفرادی اور اجتماعی حقوق کی روح اور قانون دونوں سطحوں پر کھلی خلاف ورزی کرتا ہے۔ راجناتھ سنگھ کو لکھے خط میں کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ پروجیکٹ بنیادی طور پر ایک کمرشل وینچر ہے اور اس کی وجہ سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کو لے کر بڑھتی ہوئی عوامی تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔ اسے حکومت کی جانب سے نام نہاد طور پر سب سے اہم دفاعی وجوہات کی بنیاد پر جائز ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ ہندوستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو معتبر طریقے سے ظاہر کرنے کی ضرورت پر بھی کوئی اختلاف رائے نہیں ہو سکتا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ گریٹ نکوبار جزیرے کے کیمپبل بے میں واقع ’آئی این ایس باز‘ کو جولائی 2012 میں کمیشن کیا گیا تھا۔ لیکن موجودہ رن وے کی لمبائی کو کم از کم 3 گنا بڑھانے اور ایک بحری جیٹی بنانے کے منصوبے تقریباً 5 سالوں سے منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان منصوبوں کے ماحولیات پر منفی اثرات بھی کہیں کم ہیں۔
کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ انڈمان اور نکوبار کمانڈ کے پاس ایسے اثاثے بھی موجود ہیں جو کئی سال پہلے (2014 سے بھی بہت پہلے) بنائے گئے تھے اور جن کی توسیع ماحولیات کو پہنچنے والے شدید نقصان کے بغیر بھی کی جا سکتی ہے۔ ان میں آئی این ایس کارڈپ، آئی این ایس کوہاسا، آئی این ایس اتکروش، آئی این ایس جراوا اور کار نکوبار ایئرفورس اسٹیشن شامل ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ گریٹ نکوبار جزیرہ پروجیکٹ کا ایک اہم حصہ ٹرانس شپمنٹ پورٹ اور ٹاؤن شپ ہیں، جن سے ہمارے ملک کی فوجی صلاحیت میں کسی بھی طرح کا اضافہ نہیں ہوتا۔ پھر بھی اب اچانک انہیں درست ٹھہرانے کے لیے اسی کو ایک بڑی بنیاد بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
جے رام رمیش نے اپنی بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’گریٹ نکوبار جزیرہ پروجیکٹ اپنی موجودہ شکل میں ماحولیاتی تباہی کا نسخہ ہے۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ اوپر بتائے گئے ان متبادلات پر سنجیدگی سے غور کریں، جنہیں خود معزز بحری افسران نے اپنی تحریروں میں تجویز کیا ہے۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
