گریٹ نکوبار پروجیکٹ پر جے رام رمیش کا حملہ، کہا- ’ماحولیاتی اثرات کے جائزے کا مذاق بنایا گیا‘
کانگریس رہنما جے رام رمیش نے گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے ماحولیاتی اثرات کے جائزے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت پر سائنسی اصولوں اور شفافیت کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے گریٹ نکوبار ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کو لے کر مرکزی حکومت اور ماحولیات کی وزارت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر ماحولیات کو ایک تفصیلی خط لکھ کر الزام لگایا کہ حکومت جس مضبوط اور جامع ماحولیاتی اثرات کے جائزے یعنی ای آئی اے کا دعویٰ کر رہی ہے، وہ حقیقت میں دستاویزات اور رپورٹوں میں کہیں نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے لیے کیے گئے ماحولیاتی مطالعے محدود، نامکمل اور سائنسی معیار کے خلاف ہیں۔
جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت نے یکم مئی کو جاری کردہ ’گریٹ نکوبار پروجیکٹ: اکثر پوچھے جانے والے سوالات‘ میں دعویٰ کیا تھا کہ منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا مکمل مطالعہ کیا گیا ہے اور ان کا مؤثر انداز میں انتظام کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دستیاب ریکارڈ اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
انہوں نے ماحولیات کی وزارت کے 3 نومبر 2009 کے دفتر ی میمورنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانچ ملین ٹن سالانہ سے بڑے بندرگاہی منصوبوں کے لیے جامع ای آئی اے، ریاضیاتی ماڈلنگ اور زمینی تصدیق لازمی ہے۔ ان کے مطابق حساس علاقوں، خاص طور پر انڈمان نکوبار جیسے جزائر میں کم از کم تین موسموں پر مشتمل تفصیلی مطالعہ ضروری ہوتا ہے تاکہ حیاتیاتی تنوع اور ماحولیات پر اثرات کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ کی حتمی ای آئی اے رپورٹ خود اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بنیادی مطالعہ صرف دسمبر 2020 سے فروری 2021 تک، یعنی صرف ایک موسم میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کا فوری سروے بھی صرف چند دنوں تک محدود رہا جبکہ لیدربیک کچھوؤں پر تحقیق بھی مختصر مدت میں مکمل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں یہ اعتراف موجود ہے کہ گھنے جنگلات کی وجہ سے کئی علاقوں میں تفصیلی سروے ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں ماحولیاتی منظوری دینا ’’سائنس کی توہین‘‘ اور ای آئی اے عمل کا مذاق ہے۔
کانگریس رہنما نے قومی سبز ٹریبونل کے 3 اپریل 2023 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ماحولیاتی منظوری میں کئی ’’غیر حل شدہ خامیوں‘‘ کی نشاندہی کی تھی اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پوری منظوری کا عمل عوامی تھا تو پھر اس کمیٹی کی رپورٹ کو خفیہ کیوں رکھا گیا۔
جے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ شفافیت اور عوامی مفاد کے پیش نظر اعلیٰ سطحی کمیٹی کی رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹ نکوبار کی حیاتیاتی تنوع دنیا میں منفرد حیثیت رکھتی ہے اور موجودہ منصوبہ پورے ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
