زرعی قوانین: مودی حکومت نے ’کسان تحریک‘ کی پاکیزگی پر اٹھایا سوال

متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف جدوجہد کر رہے کسانوں اور ضدی مودی حکومت کے درمیان اب تلخیاں بڑھ گئی ہیں۔ آج کی میٹنگ ناکام ہونے کے بعد تکبر میں ڈوبی حکومت نے کسانوں کی تحریک کو ناپاک تک ٹھہرا دیا۔

سنگھو بارڈر پر مظاہرہ کرتے کسان / تصویر آئی اے این ایس
سنگھو بارڈر پر مظاہرہ کرتے کسان / تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مرکز کی نریندر مودی حکومت کا تکبر اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ جمعہ کو کسانوں کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں حکومت نے کسانوں کو گھنٹوں انتظار کرا کر نہ صرف ملک کے اَن داتا کی بے عزتی کی، بلکہ بعد میں ہوئی پریس کانفرنس میں مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسانوں کی تحریک کو ’ناپاک‘ تک کہہ دیا۔

جمعہ کی میٹنگ سے قبل کسانوں کی طرف سے تو یہ پہلے ہی طے تھا کہ زرعی قوانین کی واپسی سے کم پر کوئی بات نہیں ہوگی، کیونکہ اگر متنازعہ قوانین کو ملتوی کرنے کی تجویز پر ہی بات بنتی تو سپریم کورٹ کے ذریعہ اس بارے میں دیے گئے حکم کے بعد ہی کسان تحریک ختم ہو جاتی۔ پھر بھی کسان اپنے پرامن مظاہرہ کے درمیان حکومت کے ساتھ بیٹھے کہ ہو سکتا ہے حکومت سردی کے ستم کو دیکھتے ہوئے کسانوں کے مطالبات کو سمجھے اور ایک حل نکالے۔ لیکن ہوا اس کا برعکس۔

جمعہ کے روز کسانوں اور حکومت کے درمیان یوں تو میٹنگ کی مدت تقریباً چار گھنٹے کہی جا سکتی ہے، لیکن اس میں بات چیت تو محض 10 منٹ ہی ہوئی۔ وہ بھی رعب کے ساتھ کہ ’جو پیشکش حکومت کی طرف سے کی گئی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ملے گا، مانو یا نہ مانو۔‘ اتنا ہی نہیں، ساتھ ہی حکومت نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب آگے بات نہیں ہوگی۔ یعنی اگلی کسی میٹنگ کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔

میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگلی میٹنگ کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ حکومت نے یونینوں کو دیے گئے سبھی ممکنہ متبادل کے بارے میں بتایا، ان سے کہا کہ انھیں قوانین کو ملتوی کرنے کی تجویز پر آپس میں بات چیت کرنی چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت ہند کی کوشش تھی کہ وہ صحیح راستے پر غور کریں جس کے لیے 11 دور کی بات چیت کی گئی۔ لیکن کسان یونین قانون واپسی پر بضد رہی۔ حکومت نے ایک کے بعد ایک تجویز پیش کی۔ لیکن جب تحریک کی پاکیزگی ختم ہو جاتی ہے تو فیصلہ نہیں ہوتا۔‘‘ تومر نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ ڈالا کہ کچھ تو ایسی طاقتیں ہیں جس کی وجہ سے فیصلہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

حالانکہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تومر نے اتنا ضرور کہا کہ اگر کسان زرعی قوانین کو ملتوی کرنے کی پیشکش پر غور کرنا چاہتے ہیں تو حکومت ایک اور میٹنگ کے لیے تیار ہے۔ یہ بھی کہا کہ حکومت نے کسانوں کے وقار کے لیے ان قوانین کو ملتوی رکھے جانے کی پیشکش کی۔ انھوں نے کہا کہ اس تحریک کے دوران لگاتار یہ کوشش ہوئی کہ عوام کے درمیان اور کسانوں کے درمیان غلط فہمیاں پھیلیں۔ اس کا فائدہ اٹھا کر کچھ لوگ جو ہر اچھے کام کی مخالفت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں، وہ کسانوں کے کندھے کا استعمال اپنے سیاسی فائدے کے لیے کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next