بی جے پی رکن پارلیمنٹ پر گھوٹالہ میں شامل ہونے کا الزام، کیس درج

رتلام-جھابوا سے رکن پارلیمنٹ ڈامور سیاست میں آنے سے قبل پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں چیف انجینئر تھے، اس دوران فلوروسس کنٹرول پروجیکٹ میں کروڑوں روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ گمان سنگھ ڈامور
بی جے پی رکن پارلیمنٹ گمان سنگھ ڈامور
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش کے رتلام-جھابوا پارلیمانی حلقہ سے رکن پارلیمنٹ گمان سنگھ ڈامور پر گھوٹالے میں شامل ہونے کے الزام میں کورٹ کے حکم پر پولیس کے ذریعہ کیس درج کرنے کے بعد بی جے پی بیک فٹ پر آ گئی ہے۔ چوطرفہ ہو رہی پارٹی کی تنقید کے بعد مدھیہ پردیش بی جے پی صدر وشنو دَت شرما نے رکن پارلیمنٹ ڈامور کو طلب کیا۔ جہاں ایک طرف رکن پارلیمنٹ ڈامور نے گھوٹالہ کے الزامات کو سازش قرار دیا، وہیں دوسری طرف کانگریس اور سماجوادی پارٹی بی جے پی پر حمہ آور ہیں۔

رتلام-جھابوا سے رکن پارلیمنٹ ڈامور سیاست میں آنے سے قبل پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں چیف انجینئر تھے، اس دوران فلوروسس کنٹرول پروجیکٹ میں کروڑوں روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ اس معاملے میں علی راج پور کے جیوڈیشیل مجسٹریٹ امت جین نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا جس پر پولیس نے معاملہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے ذریعہ رکن پارلیمنٹ کے علاوہ علی راج پور کے اس وقت کے کلکٹر گنیش شنکر مشرا، پی ایچ ای ڈی کے ایگزیکٹیو انجینئر سوریہ ونشی سدھیر کمار سکسینہ سمیت دیگر لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں سبھی ملزمین کو 17 جنوری تک عدالت میں پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔


اس تعلق سے سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے اور بی جے پی کے ریاستی صدر وشنو دت شرما نے رکن پارلیمنٹ کو طلب کیا تاکہ پورے معاملے کی جانکاری مل سکے۔ ڈامور پارٹی ہیڈکوارٹر سے جب وہ نکلے تو انھوں نے میڈیا کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور کسی طرح سے میڈیا کا گھیرا توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ بعد میں ڈامور نے کہا کہ گھوٹالہ کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ بڑی سازش ہے۔ وقت کے ساتھ اس سازش کا ثبوت سامنے آئے گا۔ علی راج پور اور جھابوا میں کوئی گھوٹالہ ہوا ہی نہیں ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ پر 600 کروڑ کے گھوٹالے کے الزام میں عدالت کی ہدایت پر کیس درج ہونے کے بعد کانگریس اور سماجوادی پارٹی حملہ آور ہیں۔ کانگریس ریاستی صدر کمل ناتھ کے میڈیا کوآرڈنیٹر نریندر سلوجا نے میڈیا کے درمیان پھنسے رکن پارلیمنٹ ڈامور کی ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’600 کروڑ کی بدعنوانی کے ملزم بی جے پی رکن پارلیمنٹ گمان سنگھ ڈامور کس طرح میڈیا سے بھاگ رہے ہیں اور سوالوں کا جواب تک نہیں دے پا رہے ہیں۔ شاید آج بی جے پی دفتر میں لگی واشنگ مشین میں دھل کر ایماندار ہونے آئے تھے، ان کی اس بدعنوانی پر پوری بی جے پی خاموش کیوں، ابھی تک استعفیٰ کیوں نہیں۔‘‘


سماجوادی پارٹی کے یش بھارتیہ نے ڈامور کی ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی نظر میں بدعنوان، بی جے پی کی نظر میں اخلاقیات بھاگتا ہوا۔ 600 کروڑ کی بدعنوانی کے معاملے میں عدالت کے ذریعہ معاملہ درج کرنے کی ہدایت پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ میڈیا کے سوالوں سے بھاگے، میڈیا سے دھکا مکی، یہ نظارہ پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر کا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق رکن پارلیمنٹ ڈامور جب اندور میں ایگزیکٹیو انجینئر فلوروسس کنٹرول پروجیکٹ کے عہدہ پر فائز تھے تب یہ گھوٹالہ ہوا تھا۔ انھوں نے علی راج پور اور جھابوا علاقہ میں فلوروسس کنٹرول اور پائپ لائن میٹریل خریدی اور دیگر کئی پروجیکٹس کے کروڑوں روپے کے بل خود پاس کیے تھے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ قبائلی علاقوں میں کوئی فلوروسس کنٹرول کا کام نہیں کیا گیا۔ اس کے تحت نہ تو ہینڈ پمپ لگائے گئے اور نہ ہی یونٹ کا قیام کیا گیا۔ اس معاملے پر اندور کے مہو علاقہ کے دھرمیندر شکلا نے ملزمین کے خلاف تمام دستاویز عدالت میں پیش کیے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔