سنسد تو چلتی نہیں اور ’دھرم سنسد‘ کے نام پر کچھ لوگ نفرت پھیلا رہے: سچن پائلٹ

سچن پائلٹ کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ مذہب، مندر-مسجد کی باتوں کو اس لیے بڑھاوا دیتے ہیں کیونکہ وہ ترقی کے نام پر ووٹ نہیں لے پا رہے، سرخیوں میں آنے کے لیے آپ کچھ بھی بول دیجیے لیکن عوام سب سمجھ رہی ہے۔

سچن پائلٹ، تصویر آئی اے این ایس
سچن پائلٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مختلف شہروں میں ’دھرم سنسد‘ میں دیئے گئے قابل اعتراض بیانات پر کانگریس پارٹی نے تلخ رخ اختیار کر لیا ہے۔ کانگریس لیڈر اور راجستھان کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ نے بھی قابل اعتراض بیانات پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سچن پائلٹ نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ ملک کی ’سنسد‘ (پارلیمنٹ) تو چلتی نہیں اور ’دھرم سنسد‘ کے نام پر مذہب کا چولا اوڑھے لوگ اس طرح کی زبان بول رہے ہیں اور مہاتما گاندھی کی بے عزتی اور گوڈسے کی بڑائی کر رہے ہیں۔ سچن پائلٹ نے انتخابی کمیشن کے دورے اور یو پی انتخاب میں کانگریس کی حالت پر بھی اپنی بات رکھی۔

دراصل کچھ دنوں قبل کئی سادھوؤں نے دھرم سنسد کا انعقاد کر ہندو مذہب کے خطرے میں ہونے کی بات کہی تھی۔ اس میں مہاتما گاندھی پر بھی نازیبا تبصرے کیے گئے تھے۔ اس پر سچن پائلٹ نے کہا کہ یہ لوگ ان بیانات سے تصادم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شخص کسی بھی مذہب کا ہو لیکن اگر آپ بدامنی، تشدد کی بات کرتے ہیں تو اس کی مذمت ہونی چاہیے اور کسی بھی مذہب کا شخص ہو کارروائی ہونی چاہیے۔ مہاتما گاندھی کو جو شخص بے عزت کرتا ہو اسے آپ ’دھرم گرو‘ کیسے بول سکتے ہیں۔


کیا انتخاب کے مدنظر اس طرح کے بیانات دیئے جاتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سچن پائلٹ نے کہا کہ اس بات سے متفق ہوں کہ جب جب انتخاب آتے ہیں تو اس طرح کی باتوں کو طول دیا جاتا ہے اور ہمیشہ کچھ لوگ مذہب، مندر-مسجد کی باتوں کو توجہ اس لیے دینا چاہتے ہیں کیونکہ ترقی کے نام پر آپ ووٹ نہیں لے پا رہے ہیں۔ سرخیوں میں آنے کے لیے آپ کچھ بھی بول دیجیے اور لوگوں کو مشتعل کریں اور اصل ایشوز پر سے لوگوں کو دور ہٹائیں۔ لیکن عوام سب سمجھ رہی ہے۔ اب تقسیم کرنے کی کوشش لوگ کامیاب نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اب لوگ ایشوز پر ووٹ کریں گے۔

دوسری طرف کورونا کے بڑھتے اثرات کے مدنظر آئندہ اسمبلی انتخابات پر حال میں الیکشن کمیشن اور وزارت صحت کی میٹنگ ہوئی ہے اور کمیشن اتر پردیش کا دورہ کر کے حالات جاننے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس پورے مسئلہ پر سچن پائلٹ نے بتایا کہ انتخاب ملتوی کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن کا ہوگا، الیکشن کمیشن خود مختار نظر آنا چاہیے۔ کسی کے دباؤ میں کام نہیں کرنا چاہیے اور یہ سچ ہے کہ اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں بی جے پی کی زمین کھسک رہی ہے۔


سچن پائلٹ نے آگے کہا کہ الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گا، ہم اسے ضرور مانیں گے۔ لیکن لوگوں کی صحت اور جان کا تحفظ بھی لازمی ہے۔ کورونا کی دوسری لہر میں جو حالات ہوئے وہ سبھی نے دیکھا ہے، اس کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اتر پردیش انتخاب میں کانگریس پارٹی اور پرینکا گاندھی کی حالت پر سچن پائلٹ نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ جائیں تو ہزاروں کی بھیڑ آ جاتی ہے، ان کو اجازت دے دی جاتی ہے۔ کانگریس کوئی پروگرام کرتی ہے تو اس پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ نظر بند کیا جاتا ہے۔ کانگریس ایک بہتر متبادل دینے کی حالت میں ہے اور ہم بہت محنت کر رہے ہیں۔ پرینکا گاندھی کی قیادت میں یو پی میں ہم سبقت حاصل کریں گے اور حیران کرنے والے نتائج سامنے آئیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔