’پہلے آگستا بدعنوان تھا، اب بی جے پی لاؤنڈری میں دھل کر صاف ہو گیا‘، پابندی ہٹنے پر راہل گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ

کانگریس نے کہا کہ مودی حکومت نے حیرت انگیز طریقے سے آگسٹا سے جڑی کمپنی سے پابندی ہٹا دی، حکومت نے فورین انویسٹمنٹ پرموشن بورڈ کے ذریعہ آگسٹا کو سرمایہ کی منظوری دے دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کانگریس نے آگستا ویسٹ لینڈ سے جڑی اٹلی کی کمپنی لیونارڈو ایس پی اے، جسے پہلے فنمیکینکا نام سے جانا جاتا تھا، پر لگے خریداری پابندی کو ہٹانے کے مودی حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ حکومت کو بتانا چاہیے کہ آگسٹا ویسٹ لینڈ کے ساتھ کیا خفیہ معاہدہ ہوا ہے۔ وہیں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پابندی ہٹائے جانے پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’پہلے آگستا بدعنوان تھا، اب بی جے پی لاؤنڈری میں دھل کر صاف ہو گیا۔‘‘

کانگریس ترجمان گورو ولبھ نے پیر کے روز پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ایم مودی اور ان کی حکومت نے لیونارڈو ایس پی اے سے اچانک سے خریداری پر پابندی ہٹا دیا، جسے پہلے فنمیکینکا (آگستا ویسٹ لینڈ کی پیرنٹ کمپنی) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت نے خفیہ طریقے سے کمپنی کو ’بلیک لسٹ‘ سے ہٹا دیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے فورین انویسٹمنٹ پرموشن بورڈ کے ذریعہ آگستا ویسٹ لینڈ کی سرمایہ کاری کو منظوری کے ساتھ ہی بحریہ کے لیے 100 ہیلی کاپٹر خریدنے کی بولی میں بھی اسے شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔


گورو ولبھ نے کہا کہ مودی حکومت جھوٹ کے سہارے اس سازش کو چھپا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ابھی روم گئے تھے، وہاں جی-20 سمٹ میں ان کی ملاقات اٹلی کے وزیر اعظم سے ہوئی اور اس دوران دونوں کے درمیان آگستا/فنمیکینکا پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس کے بعد ہی اس کمپنی پر سے حیرت انگیز طریقے سے پابندی کو ہٹانے کا فیصلہ لے لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ 15 فروری 2013 میں ہی یو پی اے حکومت نے آگستا کو بلیک لسٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ لیکن جولائی 2014 میں مودی حکومت نے بلیک لسٹ سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔ اور اب اس پر لگی خریداری سے متعلق پابندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔

گورو ولبھ نے بتایا کہ فروری 2010 میں یو پی اے حکومت نے 12 ہیلی کاپٹر کی خرید کے لیے آگستا ویسٹ لینڈ کے ساتھ 3526 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا تھا۔ فروری 2013 میں گھوٹالہ سامنے آنے پر جانچ سی بی آئی کے سپرد کر دی گئی۔ تب تک آگستا کو 1620 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جا چکی تھی اور 3 ہیلی کاپٹر آ چکے تھے۔ لیکن بعد میں یو پی اے حکومت نے معاہدہ کو رد کر دیا اور اٹلی میں بھی آگستا کے خلاف کیس درج کرایا۔ کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ 1620 کروڑ روپے کے بدلے یو پی اے حکومت نے آگستا سے 2068 کروڑ روپے کی وصولی کی اور 886.50 کروڑ روپے کے تین ہیلی کاپٹر بھی ضبط کر لیے۔


گورو ولبھ نے سوال کیا کہ مودی حکومت اور آگستا/فنمیکینکا کے درمیان ہوئی ’سیکرٹ ڈیل‘ کیا ہے؟ کیا مودی اور ان کی حکومت کو اب ’بدعنوان اور فرضی کمپنی‘ کے ساتھ معاہدہ کرنا درست لگتا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ 2019 کے انتخاب سے قبل بنائے گئے بدعنوانی کے فرضی ماحول کو 2جی اسپیکٹرم معاملے کی طرح ہی خاموشی سے دفن کیا جا رہا ہے؟ کانگریس حکومت کی جانب سے شروع ہوئی آگستا کے خالف جانچ کا اب کیا ہوگا؟ آگستا/فنمیکینکا کے خلاف زیر التوا آربٹریشن کا کیا ہوگا؟ کیا اس سے خزانہ کو خسارہ ہوگا؟ کیونکہ یو پی اے حکومت نے 1620 کروڑ روپے کے بدلے 2954 کروڑ روپے کی وصولی کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 08 Nov 2021, 7:23 PM