’رافیل کا جنّ‘ ایک بار پھر آیا باہر، 7.5 ملین یورو کمیشن کے فرضی بل کا انکشاف!

سوشین گپتا نے دیسالٹ ایویشن کے لیے انٹرمیڈیری کے طور پر کام کیا، سوشین کی ماریشس واقع کمپنی انٹراسٹیلر ٹیکنالوجیز کو 2007 سے 2012 کے درمیان دیسالٹ سے 7.5 ملین یورو ملے تھے۔

رافیل، تصویر آئی اے این ایس
رافیل، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان اور فرانس کے درمیان رافیل جنگی طیارہ سودے کو لے کر ایک بار پھر چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ فرانس کے پبلی کیشن ’میڈیاپارٹ‘ کے ایک دعوے کے بعد رافیل سودے میں ہوئی بدعنوانی کو لے کر سوال کا نیا دور شروع ہوا۔ دراصل ’میڈیاپارٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی کمپنی دیسالٹ ایویشن نے 36 جنگی طیارہ کے معاہدے کے لیے ایک بچولیے یعنی دلال کو 7.5 ملین یورو بطور کمیشن دیا تھا۔ میڈیاپارٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے دستاویز ہونے کے باوجود ہندوستانی ایجنسیوں نے اس معاملے میں جانچ شروع نہیں کی۔

میڈیاپارٹ کے نئے انکشاف سے متعلق ایک رپورٹ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ عمل کے لیے فرضی بل تیار کیے گئے ہیں۔ پبلی کیشن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2018 سے سی بی آئی اور ای ڈی کو بھی اس بارے میں معلوم تھا کہ دیسالٹ ایویشن نے سوشین گپتا نام کے بچولیے کو 7.5 ملین یورو (تقریباً 65 کروڑ روپے) کا کمیشن دیا تھا۔ یہ سب کمپنی نے اس لیے کیا تاکہ ہندوستان کے ساتھ 36 جنگی طیارہ کا معاہدہ مکمل ہو سکے۔


’آج تک‘ نے میڈیاپارٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سوشین گپتا نے دیسالٹ ایویشن کے لیے انٹرمیڈیری کے طور پر کام کیا۔ سوشین گپتا کی ماریشس واقع کمپنی انٹراسٹیلر ٹیکنالوجیز کو 2007 سے 2012 کے درمیان دیسالٹ سے 7.5 ملین یورو ملے تھے۔ پبلی کیشن نے انکشاف کیا ہے کہ ماریشس حکومت نے 11 اکتوبر 2018 کو اس سے جڑے دستاویز سی بی آئی کو بھی سونپے تھے، جسے بعد میں سی بی آئی نے ای ڈی سے بھی شیئر کیا تھا۔

میڈیاپارٹ کے مطابق 4 اکتوبر 2018 کو ہی سی بی آئی کو رافیل معاہدہ میں بدعنوانی ہونے کی شکایت ملی تھی، اور اس کے ایک ہفتہ بعد ہی سیکرٹ کمیشن کے دستاویز بھی ملے تھے، پھر بھی سی بی آئی نے اس معاملے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ پبلی کیشن نے انکشاف کیا کہ دیسالٹ نے 2001 میں سوشین گپتا کو بچولیے کے طور پر رکھا تھا، جب حکومت ہند نے جنگی طیارہ خریدنے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ اس کا عمل 2007 میں شروع ہوا تھا۔ سوشین گپتا آگستا ویسٹ لینڈ معاہدہ سے بھی جڑا ہوا تھا۔


’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں ایک ہندوستانی آئی ٹی کمپنی آئی ڈی ایس بھی شامل ہے۔ اس کمپنی نے یکم جون 2001 کو انٹراسٹیلر ٹیکنالوجیز کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، جس میں طے ہوا کہ دیسالٹ ایویشن اور آئی ڈی ایس کے درمیان جو بھی معاہدہ ہوگا، اس کی ویلیو کا 40 فیصد کمیشن انٹراسٹیلر ٹیکنالوجیز کو دیا جائے گا۔ آئی ڈی ایس کے ایک افسر نے سی بی آئی کو بتایا تھا کہ یہ معاہدہ سوشین گپتا کے وکیل گوتم کھیتان نے کیا تھا جو آگستا ویسٹ لینڈ معاملے میں جانچ کے دائرے میں ہے۔ سی بی آئی کے ہاتھ لگے دستاویزوں سے پتہ چلا تھا کہ سوشین گپتا کی شیل کمپنی کو اس طرح سے 2002 سے 2006 کے درمیان 9.14 لاکھ یورو ملے تھے۔ انٹراسٹیلر ٹیکنالوجیز بھی ایک شیل کمپنی ہی تھی، جس کا نہ تو کوئی دفتر تھا اور نہ ہی کوئی ملازم۔

میڈیاپارٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ای ڈی کے دستاویزوں کے مطابق سوشین گپتا نے کہا تھا کہ اس نے کئی ہندوستانی افسران کو بھی دیسالٹ کی جانب سے پیسہ دیا ہے۔ یہ بھی دعویٰ ہے کہ 2015 میں جب رافیل ڈیل آخری دور میں تھی، تب گپتا نے ہندوستانی وزارت دفاع سے کچھ خفیہ دستاویز بھی حاصل کیے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔