’کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے؟ مودی جی کو بتانا چاہیے‘

کپّل سبل نے کہا کہ خود بی جے پی کے کونسلروں کا کہنا ہے کہ چینی فوج نے ہندوستان کے کئی علاقوں میں اپنے فوجی سازو سامان تعینات کردیئے ہیں اور اس کے فوجی پوری تیاری کے ساتھ ہندوستانی سرزمین پر کھڑے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ چین نے وادی گلوان میں ہندوستانی حدود میں دراندازی کی ہے اور اس کے فوجی دستے ملک کے اسٹریٹجک نقطہ نظر سے متعدد اہم علاقوں میں تعینات ہیں، اس لیے اب وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ بتانا چاہiے کہ کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے۔

کانگریس کے ترجمان کپّل سبل نے ہفتہ کے روز یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ لداخ خطے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ چینی فوج نے ہندوستانی سرزمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ خود بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کونسلروں کا کہنا ہے کہ چین کے فوجی دستوں نے ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں اپنے فوجی سازو سامان تعینات کردیئے ہیں اور اس کے فوجی پوری تیاری کے ساتھ ہندوستانی سرزمین پر کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین نے وادی گلوان میں ہماری 18 کلومیٹر اراضی پر قبضہ کرلیا ہے۔ ہندوستانی چرواہوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ وہاں نہیں جا سکتے جہاں وہ اپنے مویشیوں کو ایک طویل عرصے سے چرا رہے تھے۔ انہیں وہاں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ سونم وانگ چنگ لداخ کے انجینئر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی چرواہوں کو وادی گلوان میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ 1959 میں چین نے یہ تسلیم کیا تھا کہ حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) کے مطابق پوری وادی گلوان ہندوستان کی ہے لیکن 16 جون 2020 کے بعد وادی گلوان چینی قبضے میں آگئی ہے۔ چینی فوج نے وادی گلوان میں اپنا انفراسٹرکچر نظام قائم کرلیا ہے لیکن اس ملک کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ چین ہندوستان میں داخل نہیں ہوا ہے اور ہماری کسی بھی چوکی پر چین کا قبضہ نہیں ہے۔

Published: 4 Jul 2020, 5:11 PM
next