بنگال میں ترنمول، تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی زبردست واپسی

بنگال الیکشن میں وزیراعظم کے ممتا بنرجی کو ’دیدی او دیدی‘ مخاطب کرنے کی سوشل میڈیا پر کافی مذمت کی گئی تھی اور کہا گیا کہ اس طرح کا خطاب وزیراعظم کے وقار کے خلاف ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے 200 سیٹوں سے زیادہ پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے اور تمل ناڈومیں دروڈ مونیترکزگم بھی اپنے مخالفین کو زبردست پٹخنی دے رہی ہے، مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی ووٹ شماری کے رجحانات نے انتخابی ماہرین اور بی جے پی کے لیڈران کو بھی چونکا دیا ہے۔ بی جے پی ریاست میں اقتدارمخالف لہر کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔

مغربی بنگال میں بی جے پی نے اپنی تشہیرمیں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ وزیراعظم نریندرمودی، وزیرداخلہ امت شاہ، اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ متعدد رہنماوں نے انتخابی تشہیرمیں کوئی کسرنہیں چھوڑی تھی۔ وزیراعظم کے ممتا بنرجی کو ’دیدی او دیدی‘ مخاطب کرنے کی سوشل میڈیا پر کافی مذمت کی گئی تھی اور کہا گیا کہ اس طرح کا خطاب وزیراعظم کے وقار کے خلاف ہے۔

ادھر، تمل ناڈو میں ایک واقعہ میں ایم کے اسٹالن کی سربراہی والی دروڈمونیترکزگم اورکانگریس اتحاد یہاں کے 10 سال پرانے آل انڈیا دروڈمونیترکزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کی حکمرانی کو ختم کرنے کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔ ریاست کی 234 سیٹوں میں سے ڈی ایم کے 119 اوراے آئی اے ڈی ایم کے 81 سیٹوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔

کیرالا میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ اقتدار میں آئے گا اور یہاں بایاں محاذ 86 اور اور اپوزیشن کانگریس کی زیرقیادت متحدہ ڈیموکریٹک مورچہ 42 سیٹوں پرآگے چل رہا ہے اور بی جے پی کی زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد محض چارسیٹوں پر آگے ہے۔ آسام میں سروانند کی سربراہی میں این ڈی اے ایک بارپھر ریاست میں اقتدار میں واپسی کی جانب گامزن ہے اور یہ 120 سیٹوں میں سے 66 پرآگے چل رہا ہے جبکہ متحدہ ترقی پسند اتحاد 43 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہے۔

پڈوچیری میں این آر کانگریس کی سربراہی میں بی جے پی اتحاد کے جیت کے اچھے آثار نظر آرہے ہیں اور وہ آٹھ سیٹوں اور کانگریس محض تین سیٹوں پر آگے ہے۔ ریاست میں کانگریس کے متعدد اراکین اسمبلی کے استعفیٰ دینے کے بعد اسے اسمبلی میں کافی نقصان ہوا ہے۔ بنگال میں ممتا بنرجی کی پارٹی کے شاندار انتخابی رجحانات پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے انہیں مبارک باد کے پیغام بھیجے ہیں۔

ملک میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے انتخابات میں کامیابی کے بعد کسی بھی پارٹی کے انتخابی جلوس اور لوگوں کے ایک ساتھ جمع ہونے سے متعلق ریاست کے چیف سکریٹریوں کو انہیں روکنے کے لئے ہدایت دی ہے۔ ان تمام چار ریاستوں اور پڈوچیری میں 27 مارچ سے 29 اپریل تک انتخابات منعقد کرائے گئے تھے۔ مغربی بنگال میں آٹھ مراحل میں انتخاب کرائے گئے تھے، جبکہ دوسیٹوں پر امیدواروں کی موت ہوجانے کے بعد الیکشن ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ آسام میں تین اور تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری میں ایک ایک دور میں ووٹنگ ہوئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔