تاریخ انسانی کی واحد شخصیت حضرت علیؑ... نواب علی اختر

فجر کی نماز میں سجدہ اول سے آپ نے جیسے ہی سر اٹھایا اسی وقت ابن ملجم نے شمشیر سے سر مبارک پر وار کر دیا۔ جیسے ہی امام علیہ السلام کو زہر میں بجھی ہوئی ضرب لگی، آپ نے فرمایا ’فزت برب الکعبہ‘۔

روزہ امام علیؑ نجف عراق / Getty Images
روزہ امام علیؑ نجف عراق / Getty Images
user

نواب علی اختر

اس دنیا میں انسان کے آنے کا مقصد اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی ہے۔ جو لوگ اس جہاں میں اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں، وہی حقیقت میں کامیاب ہیں۔ تخلیق آدم علیہ السلام سے آج تک، جتنے بھی توحید پرست اس دنیا میں آئے وہ آخرت کی زندگی کی کامیابی کی امید لئے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے، مگر مولائے کائنات امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام تاریخ انسانی کی واحد شخصیت ہیں جو اپنی زندگی میں ہی خدا بزرگ و برتر کی قسم کھا کر اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مشکل کشا مولا علی علیہ السلام کی ایک اور انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کی ولادت خانہ کعبہ (13 رجب المرجب) جبکہ شہادت خانہ خدا یعنی مسجد میں (21 رمضان المبارک) ہوئی تھی۔ اسی حوالے سے ایک شاعر نے آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے: ”میسر نہیں کسی کو یہ سعادت- بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت“۔ 19 رمضان کی وہ خونی سحر آج بھی مومنین و مومنات کو افسردہ کیے ہوئے ہے، جب دشمن خدا، عبد الرحمن ابن ملجم نے محراب مسجد کو مولائے کائنات علیہ السلام کے مقدس لہو سے رنگ ڈالا تھا۔


تمام شب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے بعد 19 رمضان کی صبح نماز فجر پڑھانے کی غرض سے امام علیہ السلام مسجد کی طرف روانہ ہوئے، مسجد میں داخل ہوئے تو چراغوں کی روشنی کم ہوگئی تھی۔ مسجد کے اندر نماز پڑھی اور اذان کہنے کی جگہ پر تشریف لے گئے اور اذان دی۔ اس کے بعد محراب میں تشریف لائے اور نماز شروع فرمائی۔ رکعت اول میں سجدہ اول سے سر کو اٹھایا اسی وقت ابن ملجم مرادی لعنة اللہ علیہ نے شمشیر سے آپ کے سر مبارک پروار کر دیا۔ جیسے ہی امام علیہ السلام کو زہر میں بجھی ہوئی ضرب لگی، آپ نے فرمایا: بسم اللّہ وبااللّہ وعلی ملة رسول اللّہ۔ اور فرمایا: فزت برب الکعبہ۔

اس کے ساتھ ہی فضا میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی درد میں ڈوبی ہوئی صدا بلند ہوئی کہ خدا کی قسم آج ہدایت کے ارکان گر گئے۔ آسمان کے ستاروں میں سیاہی چھاگئی، تقوی کی نشانیاں ختم ہوگئیں اور ہدایت کی مضبوط رسی آج ٹوٹ گئی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا زاد بھائی مارا گیا، مجتبیٰ علیہ السلام کا وصی آج شہید کر دیا گیا، علی مرتضی علیہ السلام آج مارے گئے ،اوصیاء کے سید اور امیر مارے گئے۔ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ کو اشقیاء میں سب سے زیادہ شقی نے مار دیا۔


مولا علی علیہ السّلام کو تعلیم و تربیت کا ایسا گہوارہ نصیب ہوا جو پوری دنیا میں کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا۔ جب مولا علی علیہ السّلام اس دنیا میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے رسولِ خدا کی زیارت کی۔ رسولِ خدا نے سب سے پہلے آپ کے منھ میں اپنی زبان مبارک دی اور آپ اس زبان کو چوستے رہے۔ بچپن سے ہی آپ کی تربیت دربارِ نبوّت میں ہوئی۔ اسی لیے رسولِ خدا نے تمام علوم چاہے وہ شریعت کے ہوں، چاہے قرآن کے ہوں، چاہے حکمت کے ہوں، چاہے اخلاق کے ہوں، چاہے ظاہری یا باطن کے ہوں، چاہے حاضر یا غائب کے ہوں، ہر علوم رسولِ خداؐ نے مولا علی علیہ السّلام کے اندر عطا کر دیئے۔ اور دربارِ نبویؐ سے آپ کو باب العلم کا خطاب ملا۔

اسی لیے اسلام نے بھی علم حاصل کرنے پر بہت زیادہ زور دیا ہے اور بہت شدت سے تاکید کی گئی ہے۔ جیسا کہ علم حاصل کرنے کے سلسلے میں رسولِ خدا نے ارشاد فرمایا ’علم حاصل کرو گہوارے سے لے کر قبر تک‘ پھر فرمایا کی علم حاصل کرنے کے لیے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ علم ایک ایسی نفسی شئی ہے کہ جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ علم ایک چراغ ہے جو جہل کی تاریکیوں کو اپنے نور سے ختم کرتا ہے۔ علم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ نہ زمان کی، چاہے کوئی بھی مذہب کا ہو، چاہے وہ سیکھ، عیسائی ہو، چاہے ہندو، مسلم ہو، چاہے کسی بھی مذہب کا انسان ہو وہ کسی بھی مذہب کے انسان سے علم حاصل کر سکتا ہے۔


کسی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ علم امام علی علیہ السلام کے حدود کو بیان کرے، کیونکہ آپ علیہ السلام کا علم رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم سے ماخوذ ہے اور رسول خدا کا علم اللہ تعالیٰ سے ماخوذ ہے۔ آپ علیہ السلام کا علم کسبی نہیں تھا بلکہ آپ علیہ السلام کا علم خدا کے فیضان کا نتیجہ تھا۔ قرآن مجید میں ہمیں بہت سی ایسی آیات دکھائی دیتی ہیں جن میں انبیاءعلیہ السلام کے علم پر بحث کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ واضح کیا ہے کہ انبیاءعلیہ السلام کے علم کا منبع ذات خداوندی ہے اور انبیاء علیہ السلام براہ راست خدا کے شاگرد ہوتے ہیں اسی لیے انبیاءعلیہ السلام کا علم حقیقی ہے اور اس میں باطل کی کوئی ملاوٹ نہیں ہے۔

مولا علی علیہ السّلام نے فرمایا کہ خدا وندعالم مال سب کو دیتا ہے چاہے اس کا دوست ہو یا دشمن مگر علم اس کو ہی دیتا ہے جو خدا سے محبت کرتا ہو۔ اگر مولا علی علیہ السّلام کو جس اعتبار سے بھی دیکھا جائے ہر رخ ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ علم و عبادت ہو، یا اشیاء و سخاوت، وغیرہ ہمیشہ فتح کا سہرا آپ کے سر پر رہا۔ آپ کے علم کو اپنوں نے بھی تقسیم کیا اور غیروں نے بھی تقسیم کیا۔ بہت ہی مشہور معروف واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ سائل نے کہا کہ اے خدا گواہ رہنا میں تیرے گھر اور تیرے رسول کی مسجد سے خالی ہاتھ جا رہا ہوں۔


بس سائل کا یہ کہنا تھا کہ مولا علی علیہ السّلام نے اپنا ہاتھ سائل کی جانب بڑھایا اور انگلی سے انگوٹھی اتارنے کا اشارہ کیا۔ سائل سمجھ گیا اور مولا علی علیہ السّلام کے ہاتھ سے انگوٹھی اتار لی۔ جب تک سائل نے بندوں سے سوال کیا تو کچھ عطا نہیں ہوا لیکن جب کہا کہ اے اللہ میں ترے گھر سے خالی ہاتھ جا رہا ہوں تو ولی اللہ مولا علی علیہ السّلام نے انگوٹھی دے کر اللہ کے گھر کی عزت کو بچا لیا۔ یہ انداز سخاوت سوائے محمد و آل محمد کے کہیں نہیں ملے گا جن کے دروازے سے کبھی کوئی سائل خالی ہاتھ نہ گیا ہو۔

مولا علی علیہ السّلام فضائل و کمالات کا ایسا پیکر سمندر ہیں جس میں انسان جتنا غوطہ لگاتا جائے اتنا کم ہے۔”تم جو چاہو مجھ سے پوچھ لو اس سے قبل کے تم مجھے نہ پاؤ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم اس وقت سے لیکر قیامت تک کہ درمیانی عرصہ کی جو بھی بات مجھ سے پوچھو گے میں تمہیں بتاؤں گا اور کسی ایسے گروہ کے متعلق دریافت کرو گے جس نے سو کو ہدایت کی ہو اور سو کو گمراہ کیا ہو تو میں اس کے للکارنے والے، اسے آگے سے کھینچنے والے، پیچھے سے دھکیلنے والے اور ان کی سواریوں کی منزل اور اس کے ساز و سامان سے لدے ہوئے پالانوں کے اترنے کی جگہ تک بتا دوں گا اور یہ بھی بتاؤں گا کہ ان میں کون قتل کیا جائے گا اور کون اپنی موت مرے گا۔“ پس ہم سب کو چاہیے کہ مولا علی علیہ السّلام کے اقوال پر عمل کریں تو ہم لوگوں کی زندگی، حقیقی زندگی بن جائے گی۔ خدا ہم سب کو زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔