دراصل یہ مودی اور شاہ کے تکبر کی شکسَت ہے... سید خرم رضا

وزیر اعظم نے جتنے انتخابی جلسے مغربی بنگال میں کیے شائد ہی کسی وزیر اعظم نے کسی ریاستی انتخابات میں اتنے جلسوں سے خطاب کیا ہو اور اس کے لئے انہوں نے وبا سے متعلق ضابطوں کا بھی خیال نہیں کیا

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

وبا کے اس دور میں جب لوگ اپنی جان بچانے کی جنگ لڑ رہے ہوں، جب کورونا متاثرین خوفزدہ حالت میں آکسیجن کی دستیابی کے لئے در در ٹھوکریں کھا رہے ہوں، اور جب اس وبا سے مرنے والے لوگوں کے عزیز آخری رسومات کے لئے شمشان کے اندر قطار میں انتظار کر رہے ہوں، ایسے میں انتخابات کے نتائج کوئی معنی نہیں رکھتے۔ جب لوگ زندگی کی جنگ ہار رہے ہوں اس وقت کسی کی بھی جیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ایسے میں کسی پارٹی کی جیت یا ہار پر تجزیہ کرنا بے معنی لگتا ہے۔ لیکن جیت پر تو نہیں، ہار پر ضرور کچھ کہنا چاہوں گا۔

مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات، جن کو کروانے اور جیتنے کے لئے وزیر اعظم خود اور ان کی پارٹی کی پوری فوج لگی ہوئی تھی۔ جس کے لئے انہوں نے اس کا بھی خیال نہیں کیا کہ وبا ایک خوفناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ بہر حال انتخابات بھی ہو گئے اور نتائج بھی آ گئے اور مغربی بنگال کے عوام نے ان کے جیتنے کے ارادوں اور خوابوں کو چکنا چور بھی کر دیا۔ مغربی بنگال کے عوام نے ممتا بنرجی کو ایک بار پھر اپنا وزیر اعلی منتخب کیا۔


مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جیت نہیں ہوئی ہے، دراصل یہ مودی اور شاہ کی شکست ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے جس طرح مغربی بنگال کو جیتنا اپنے اور اپنی پارٹی کے لئے عزت کا مسئلہ بنایا ہوا تھا، وہ ان کی اقتدار کی ہوس کی عکاسی تو کرتا ہی ہے، ساتھ میں وہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ ملک میں حزب اختلاف نام کی کوئی چیز نہ رہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر یہ انتخابات آج ہوتے تو عوام میں ان کے خلاف جتنا غصہ ہے ان کو ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ عوام اس بات کو لے کر برہم ہے کہ وبا کے اس دور میں حکومت نام کی چیز کہیں نظر نہیں آئی۔

وزیر اعظم نے جتنے انتخابی جلسے مغربی بنگال میں کئے شائد ہی کسی وزیر اعظم نے کسی ریاستی انتخابات میں اتنے جلسوں سے خطاب کیا ہو اور اس کے لئے انہوں نے وبا سے متعلق ضابطوں کا بھی خیال نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے بھیڑ دیکھ کر نہ صرف بھیڑ میں آئی تعداد کا ذکر کیا بلکہ بغیر ماسک کے خطاب بھی کیا۔ کیا وبا کے اس دور میں کسی ملک کے وزیر اعظم کو یہ مثال پیش کرنی چاہئے تھی؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہی دیا جائے گا۔


میڈیا کی مدد سے وزیر اعظم کی شبیہ ناقابل تسخیر قائد کی بنائی گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی نے کچھ بڑی ریاستوں پر قبضہ تو کیا ہے لیکن جیتا نہیں ہے۔ راجستھان وہ ہارے، کرناٹک وہ ہارے، منی پور وہ ہارے، گوا وہ ہارے، مدھیہ پردیش وہ ہارے، دہلی وہ ہارے، مغربی بنگال وہ ہارے، بہار وہ ہارے اور جنوبی ریاستوں میں تو وہ قبضہ بھی نہیں کر پائے۔ بی جے پی نے کانگریس کے باغی لیڈر کی مدد سے مدھیہ پردیش پر قبضہ کیا، کرناٹک میں بھی ایسا ہی کیا، بہار میں نتیش کو توڑ کر عظیم اتحاد کی حکومت کو گرایا، منی پور اور گوا کے بارے میں سب کو معلوم ہے۔ آسام میں کانگریس کے سابق رہنما ہیمنت بسوا سرما کو توڑ کر اپنی حکومت بنوائی، پڈوچیری میں کانگریس کے قائدین کی وفاداریاں تبدیل کروا کے آج اقتدار کا دروازہ کھٹ کھٹایا۔ مغربی بنگال کی شکست میں بھی بی جے پی اپنے لئے مثبت پہلو تلاش کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ وہ تین ارکان اسمبلی سے اتنی بڑی تعداد میں پہنچ گئی ہے اوریہ ان کی بڑی کامیابی ہے۔ بی جے پی کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بایاں محاذ کا اس ریاست میں راج تھا اور آج وہ کہیں نہیں ہے۔ اس لئے جس عوام نےاس کو تین سے لا کر یہاں کھڑا کر دیا ہے وہ صفر پر بھی لا سکتی ہے۔

مغربی بنگال کےعوام نے ایک مرتبہ پھر مودی کی حقیقی شبیہ کو ملک کے عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے اور یہ بھی گنجائش نہیں چھوڑی کہ وہ دوسرے ذرائع سے اقتدار پر قبضہ کر لیں۔ ممتا بنرجی کی جیت دراصل ہندوستان کی جیت ہے، یہ ان ہندوستانی قدروں کی جیت ہے جس کے لئے ہندوستان جانا جاتا ہے۔ اس جیت نے اویسی جیسے لوگوں کے نظریات کو بھی شکست دی ہے۔ یعنی وہاں کےعوام سمجھتے ہیں کہ ملک کو کسی بھی طرح کی فرقہ پرست سیاست کی ضرورت نہیں ہے۔


ممتا بنرجی کے لئے ضروری ہے کہ وہ انکساری کا مظاہرہ کریں اور ریاست کے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دیں۔ وہ کورونا وبا سے عوام کو راحت پہنچانے کی کوشش کریں۔ اگر انہوں نے مرکز کی قیادت کے خواب دیکھنے شروع کر دئے تو مغربی بنگال کے لوگ رہنماؤں کی ایسی چالوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ مودی کی شکست میں کانگریس اور بائیں محاذ کے لئے راحت تو ہو سکتی ہے لیکن ان کو اپنے گھر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ دراصل مغربی بنگال میں بی جے پی کی شکست مودی اور شاہ کے تکبر کی شکست ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 02 May 2021, 5:11 PM