شمالی بنگال کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ کو پڑ سکتا ہے مہنگا!

بی جے پی رکن پارلیمنٹ جوہن برلا نے کہا ہے کہ ’’جنوبی بنگال نے ہمیشہ ہی شمالی بنگال کو نظرانداز کیا ہے، یہاں کا محصول جنوبی بنگال میں چلا گیا ہے لیکن شمالی بنگال کے عوام کو ترقی نہیں ملی ہے۔‘‘

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

کولکاتا: شمالی بنگال کے ساتھ نا انصافی کی بات کہہ کر علاحد ہ ریاست کی تشکیل کامطالبہ اب بی جے پی کےلئے گلے کی ہڈی بنتی جارہی ہے۔علی پور دورار سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جوہن برلا نےکہا تھا کہ نا انصافی کے ازالے کےلئے ضروری ہے کہ شمالی بنگال کو ایک علاحدہ ریاست کا درجہ دیا جائے ۔ وہ جلد ہی پارلیمنٹ میں اس کا مطالبہ پیش کریں گے۔

خیال رہے کہ بنگال میں علاحدہ ریاست کی تحریکیں کافی پرانی ہیں ۔چند سال قبل تک علاحدہ گورکھا لینڈ کی تشکیل مطالبہ زوروں پر تھا۔اس کے علاوہ کامتاپور کی تحریک بھی چل چکی ہے ۔مگر گورکھا لیڈروں میں اختلافات کی وجہ سے علاحدہ گورکھا لینڈ کی تشکیل کا مطالبہ پس و پیش میں پھنس چکا ہے ۔مگر اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جوہن برلا نے مطالبہ کیا ہے کہ شمالی بنگال کو ایک علیحدہ ریاست کا درجہ دیا جائے۔علی پورڈوار سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس ہوتے ہی وہ مطالبہ کریں گے۔


ممتا بنرجی سمیت ترنمول کانگریس کے دیگرلیڈران اس کو بی جے پی کی سازش قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی بنگال کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے اور اسی یہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔جوہن برلا نے حال ہی میں ایک مقامی نیپالی زبان کے نیوز پورٹل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شمالی بنگال کے ساتھ نا انصافیاں ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور لداخ کو علیحدہ مرکزی خطے کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے الفاظ میں جنوبی بنگال نے ہمیشہ ہی شمالی بنگال کو نظرانداز کیا ہے، یہاں کا محصول جنوبی بنگال میں چلا گیا ہے لیکن شمالی بنگال کے عوام کو ترقی نہیں ملی ہے۔ اس لئے میں شمالی بنگال کی علیحدہ ریاست کا درجہ چاہتا ہوں، مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد ہی یہاں کے لوگ خوش ہوں گے اور حقیقی ترقی ہوگی۔

بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد ہی ممتا بنرجی نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ میں دوبارہ بنگال کی تقسیم کی اجازت نہیں دوں گی’’یونین ٹیریٹریری کا کیا مطلب ہے؟جلپائی گوڑی، علی پور دوار اور سلی گوڑی کی زمین فروخت کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔چین کی مخالفت میں آواز نہیں نکل رہی ہے ۔یہ لوگ چین کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔‘‘


ترنمول کانگریس کے سکریٹری جنرل اور ریاستی وزیر پارتھو چٹرجی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو مئی کے نتیجے سے سبق سیکھنا چاہیے۔بنگال کی تقسیم کی سازش کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی ۔بنگال میں تشدد کا کوئی زہر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اداکارہ سیانتیکا جنہوں نے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر اسمبلی انتخاب میں حصہ لیا تھا کہ لکھا ہے کہ ہم بنگال میں بی جے پی کی تقسیم کا بیج قبول نہیں کریں گے۔ میں بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ جان برلا کے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصرے کی شدید مذمت کرتی ہوں۔اس کے لئے ایک ہیش ٹیگ بھی چلایا جارہا ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ کا یہ تبصرہ بنگال بی جے پی کےلئے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔ ترنمول کانگریس اس بات کو زور شور سے اٹھارہی ہے کہ الیکشن ہارنے کے بعد بی جے پی اب بنگال کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔بی جے پی کے ریاستی لیڈرسیانتان باسو نے کہا کہ کیا بی جے پی نے کبھی کہا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو وہ الگ ریاست بنائے گی؟یہ ایک رکن پارلیمنٹ کی اپنی بات ہے۔بی جے پی کا یہ موقف نہیں ہے ۔مگر انہوں نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کی کوئی بات نہیں کہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔