اپنی طالبہ کے ساتھ پاکستانی عالم دین کی غلط حرکت، جنسی استحصال کے الزام میں کیس درج

متاثرہ طالبہ کا کہنا ہے کہ ’’میرے اوپر دھوکہ دہی کا الزام لگایا گیا تھا اور مفتی عزیز الرحمن نے وعدہ کیا تھا کہ سیکس کے بعد میرے اوپر لگی پابندیوں کو منسوخ کر دیا جائے گا۔‘‘

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

تنویر

پاکستان کے مشہور و معروف عالم دین مفتی عزیز الرحمن پر جنسی استحصال کا ایک سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف اپنی ہی طالبہ کے ساتھ غلط حرکت کرنے کی بات سامنے آ رہی ہے جس کے پیش نظر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو سے سامنے آیا جس میں مفتی عزیزالرحمن اپنی طالبہ کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں نظر آ رہے ہیں۔ متاثرہ طالبہ نے مفتی پر جنسی استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لاہور کے شمالی کینٹ پولس تھانہ میں عزیزالرحمن کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 377 (غیر فطری جنسی رشتہ) اور دفعہ 506 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ اسے جامعہ منظورالاسلامیہ میں 2013 میں داخلہ ملا تھا۔ طالبہ نے بتایا کہ امتحان کے دوران مفتی عزیزالرحمن نے اس پر اور ایک دیگر طالبہ پر امتحان میں دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا تھا۔ پاکستانی اخبار ’ڈان‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق طالبہ کا الزام ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ دوسری طالبہ کو بھی وفاق المدارس میں تین سال کے لیے امتحان دینے پر پابندی لگا دی گئی۔


ایف آئی آر میں طالبہ نے کہا ہے کہ ’’میں نے مولوی عزیز الرحمن سے رحم کی گہار لگائی لیکن انھوں نے ایک نہ سنی۔ بعد میں انھوں نے کہا کہ اگر میں ان کے ساتھ جنسی رشتہ بنا کر انھیں خوش کرتا ہوں تو وہ اس کے بارے میں کچھ سوچ سکتے ہیں۔‘‘ متاثرہ کا کہنا تھا کہ اس کے پاس جنسی استحصال کا شکار ہونے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا۔ شکایت میں طالبہ نے یہ بھی بتایا کہ ’’مفتی عزیز الرحمن نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ سیکس کے بعد میرے اوپر لگی پابندیوں کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ مفتی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ مجھے امتحان میں پاس بھی کر دے گا۔ اس دوران تین سال تک ہر جمعہ کو میرے ساتھ سیکس کرنے کے باوجود مفتی عزیز الرحمن نے کچھ نہیں کیا۔ انھوں نے مزید سیکس کی ڈیمانڈ کرتے ہوئے مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔‘‘

متاثرہ طالبہ کا کہنا ہے کہ اس نے مدرسہ انتظامیہ سے اس معاملے کی شکایت کی تھی لیکن انھوں نے بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے بتایا کہ ’’مدرسہ کے لیے مفتی عزیزالرحمن عظیم اور پاکیزہ شخصیت ہیں اس لیے ان کے خلاف شکایت سننے کی جگہ مجھ پر ہی جھوٹا بیان دینے کا الزام عائد کیا گیا۔‘‘ طالبہ کا کہنا ہے کہ کوئی راستہ نظر نہیں آنے پر اس نے مفتی عزیز الرحمن کا ویڈیو ریکارڈ کیا اور اسے وفاق المدارس العرب ناظم کو دکھایا۔ اس کے بعد مفتی عزیز الرحمن نے اسے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دینا شروع کر دیا۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے سبب جامعہ منظورالاسلامیہ کی انتظامیہ نے مفتی عزیز الرحمن کو ہٹا دیا۔ اس واقعہ سے ناراض مفتی عزیز الرحمن اور ان کے بیٹے لگاتار دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اپنی شکایت میں متاثرہ طالبہ نے مفتی عزیز الرحمن کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 Jun 2021, 9:11 PM