دہلی فساد: جمعیۃ علماء ہند کی کوشش سے مزید 24 لوگوں کی ضمانتیں منظور

مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے اتحاد، سالمیت اور اس کی گنگا-جمنی تہذیب کے لئے فسادات کوئی اچھی علامت نہیں، وہ مملکتیں تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں جو اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتیں، یہ ایک بڑی سچائی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ مسلم ملزمان کی ضمانت عرضداشتوں کی منظوری کا سلسلہ جاری ہے، آج مزید 24 افراد کی ضمانت کی عرضیاں جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کی کوششوں سے منظور ہوگئیں، قابل ذکر ہے کہ اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے کل تیس افراد کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں، نیز مسلم نوجوانوں کی جیل سے رہائی کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے، گزشتہ روزایک ملزم کی جیل سے رہائی ہوئی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس شریش کیت نے ملزمین ریحان پردھان، ارشد قیوم، ارشاد احمد، محمد ریحان، ریاست علی، شاہ عالم، راشید سیفی اور زبیر احمد کی مشروط ضمانت منظور کی ہے، جبکہ ملزم زبیر احمد کی جیل سے رہائی عمل میں آچکی ہے۔ ان تمام ملزمین کی ضمانتیں ایف آئی ار نمبر 117/2020, 80/2020,120/2020,119/2020 میں عمل آئی ہیں، جبکہ اس سے قبل ملزمین ریاست علی، شاہ عالم، راشید سیفی، ارشد قیوم،، محمد شاداب، محمد عابد، و دیگر ملزمین کی ضمانتیں کڑکڑڈوما سیشن عدالت کے جج ونود کمار یادو نے منظور کی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ اور نچلی عدالت نے ملزمین کو پچیس ہزار روپئے کے ذاتی مچلکہ پر ضمانت پر رہا کیے جانے کے احکامات جاری کیے، حالانکہ سرکاری وکیل نے ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی سخت لفظوں میں مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمین کی ضمانت پر رہائی سے نقض امن میں خلل پڑسکتا ہے، لیکن عدالت نے دفاعی وکلا کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزمین کی ضمانت عرضداشت منظور کرلی۔

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ ظہیر الدین بابر چوہان او ر ان کے معاون وکیل ایڈوکیٹ دنیش نے کی اور عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پولیس کی جانب سے چار ج شیٹ داخل کی جاچکی ہے اور ملزمین کے خلاف الزامات ڈائرکٹ ثبوت نہیں ہیں، لہذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے، ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147,148,149,436, 427 (خطرناک ہتھیاروں سے فساد برپا کرنا، آتش گیر مادہ یا آگ زنی سے گھروں کو نقصان پہنچانا،غیر قانونی طور پر جمع ہونا) اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 (عوامی املاک کو آتش گیر مادہ یا آگ زنی سے نقصان پہنچانا) کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ملزمین گزشتہ تین ماہ سے زائد عرصہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے۔

جمعیۃ علماء کے توسط سے ابت ک دہلی ہائی کورٹ اور سیشن عدالت سے 30 ضمانت عرضداشتیں منظور ہوچکی ہیں، امید کی جاتی ہے کہ باقی لوگوں کی بھی ضمانتیں جلد منظور ہوجائیں گی۔ جمعیۃ علماء ہند نے دہلی فسادات میں پھنسائے گے سیکڑوں مسلمانوں کے مقدمات لڑنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت پر ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے لئے سیشن عدالت سے لیکر دہلی ہائی کورٹ تک عرضیاں زیر سماعت ہیں۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے دہلی فساد میں پولیس کے ذریعہ جبراً ماخوذ کیے گئے مزید 24 لوگوں کی ضمانت پر رہائی کا استقبال کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ محض ضمانت پر رہائی جمعیۃعلماء ہند کا مقصود نہیں بلکہ اس کی کوشش ہے کہ جن بے گناہ لوگوں کو فساد میں جبراً ملوث کیا گیا ہے ان کو قانونی طورپر انصاف دلایا جائے۔

مولانا سید ارشد نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء کی ٹیم اسی نکتہ پر کام کر رہی ہے اور ان لوگوں کی ضمانت پر رہائی وکلاء کے ٹیم کی پہلی کامیابی ہے لیکن ایسے لوگوں کو مکمل انصاف دلانے تک ہماری یہ قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ کچھ اخبارات اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں نے دہلی فساد کی اصل کہانی کا پردہ چاک کر دیا ہے، یہ افسوسناک سچائی دنیا کے سامنے آچکی ہے کہ تفتیش اور کارروائی کے نام پر اصل خاطیوں کو پولیس نے بچالیا، اور ان بے گناہ لوگوں کو جن کا دور دور تک اس فساد سے کوئی تعلق نہیں تھا ملزم بنادیا گیا، اس کھلی ہوئی ناانصافی پر جمعیۃعلماء ہند خاموش بیٹھی نہیں رہ سکتی تھی، چنانچہ اس نے متاثرین کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے تجربہ کار وکلاء کا باقاعدہ ایک پینل بھی تشکیل کیا۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ پچھلے 70 برسوں سے مذہب کی بنیاد پر ہونے والے تشدد، مظالم اور فسادات کے خلاف جمعیۃعلماء ہند ایک سخت قانون بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے، جس میں کہیں فسادہونے کی صورت میں وہاں کی ضلع انتظامیہ کو جوابدہ بنانے کا التزام ہو، مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارا طویل تجربہ یہ ہے کہ ڈی ایم اورایس پی کو اگر اس بات کا خطرہ ہو کہ فساد ہونے کی صورت میں خود ان کی اپنی گردن میں قانون کا پھندا پڑ سکتا ہے تو کسی کے چاہنے سے بھی کہیں فساد نہیں ہوسکتا، انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اس طرح کی قانون سازی کے ساتھ ساتھ ایک ایسے قانون کی بھی ضرورت ہے جو راحت، ریلیف اور باز آبادکاری کے کاموں میں بھی یکسانیت لائے اور حکام کو اس کا پابند بھی بنائے، لیکن افسوس ہندوستان جیسے عظیم کثیر تہذیبی اور کثیر مذہبی ملک میں اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ اس بات میں اب کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ دہلی فساد منصوبہ بند فساد تھا اور اس کے پیچھے فرقہ پرست طاقتیں کام کر رہی تھیں، لیکن یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ بے گناہوں کو گرفتار کر کے تفتیش کی فائل کو تقریباً بند کردیا گیا، جو کردار اس فساد میں مسلسل سامنے آتے رہے وہ اب بھی موجود ہیں اور اسی طرح زہر افشانی بھی کر رہے ہیں، مگر ان کو بے نقاب کرنے اور قانون کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کے اتحاد، سالمیت اور اس کی گنگا-جمنی تہذیب کے لئے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے، وہ مملکتیں تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں جو اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتیں، یہ ایک بڑی سچائی ہے اور دنیا کی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، ملک اور قوم کی ترقی کا راز اتحاد میں ہی پوشیدہ ہیں انتشاروتفریق میں نہیں، اپنے ہی لوگوں کے ساتھ فرقے اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز اور ناانصافی کسی بھی مہذب معاشرہ کے لئے ایک بدنماداغ ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 20 Dec 2020, 6:29 PM