کیوں نہ کہوں: نقشہ مسجد کا نہیں بلکہ قوم کے مستقبل اور سوچ کا نقشہ ہے... سید خرم رضا

جدید ڈیزائن کی مسجد اور اس کے ساتھ جدید طرز کے اسپتال کی بلڈنگ کا نقشہ دراصل یہ کسی بلڈنگ کا نقشہ نہیں ہے بلکہ ایک قوم کے مستقبل کا ہے

ایودھیا کے دھنی پور کی مسجد کا نقشہ / تصویر بشکریہ ٹوئٹر
ایودھیا کے دھنی پور کی مسجد کا نقشہ / تصویر بشکریہ ٹوئٹر
user

سید خرم رضا

اس زبردست ٹھنڈ میں بڑی تعداد میں کسان اپنا گھر بار چھوڑ کر سڑکوں پر ٹینٹ لگا کر یا اپنے ٹریکٹر ٹرالیوں میں دن رات گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کسانوں کو یقین ہے کہ اگر انہوں نے یہ لڑائی نہیں لڑی اور یہ لڑائی نہیں جیتی تو وہ آنے والامستقبل ہار جائیں گے۔ دوسری جانب حکومت کا یہ ماننا ہے کہ جو فیصلہ اس نے لیا ہے اس سے اچھا فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ان حالات میں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کسانوں کو کتنے اور دن یا مہینے اسی طرح گھر سے باہر گزارنے پڑیں گے۔ حکومت کو یہ لگ رہا ہے کہ کچھ دنوں بعد یہ کسان تھک جائیں گے، دھیرے دھیرے ان میں اختلافات بھی پیدا ہو جائیں گے اور اس دوران حکومت اپنے موقف سے زیادہ لوگوں کو سمجھا کر متاثر بھی کر لے گی۔

اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا اور کون اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا یہ تو آنے والے دن ہی طے کریں گے لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہر نئے دن کے ساتھ ایک طبقے اور حکومت کے بیچ فاصلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس سے بھی کوئی منکر نہیں ہے کہ اس دوران اقلیتوں کا اکثریتی طبقہ یعنی مسلمانوں کےساتھ حکومت کا فاصلہ پہلے سے ہی کافی بڑھا ہوا ہے۔ حکومت کے لئے طبقوں کی بڑھتی ناراضگی اور حکمراں اتحاد سے اتحادیوں کا چھوڑ کر جانا ہمیشہ تشویش کا پہلو ہونا چاہیے۔

کسانوں کے لئے یہ وقت تکلیفوں بھرا ضرور ہے لیکن اس کو اپنی زمینی حقیقت اور کھیتی سے متعلق دشواریوں اور مسائل کو ملک گیر پیمانے پر سمجھنے اور سمجھانے کا ایک موقع بھی ہے۔ اس تحریک سے کسانوں اور غریبوں میں اتحاد پیدا ہو سکتا ہے جو آنے والے دنوں میں ان کے لئے حکومت میں حصہ داری کا راستہ بھی کھول سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے سردی میں پڑے یہ کسان بھی اسی احساس کا شکار ہو جائیں جس کا شکار شہریت ترمیمی قانون کے خلاف لڑنے والی خواتین اور لوگ ہو گئے تھے۔ کسانوں کا حال بھی کہیں ملک کی اقلیتوں کی اکثریت مسلمانوں جیسا نہ ہو جہاں مایوسی اور ناکامی ان کو اپنا مقدر لگنے لگے۔

ملک کے مسلمانوں کو چاہے لگتا ہو کہ اس دور حکومت میں ان کے لئے زندگی کے مواقع تنگ ہو گئے ہیں اور ان کو اپنا مستقبل تاریک لگنے لگا ہو لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ بھی سبھی جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی کیا سوچ ہے اور اس حقیقت سے بھی سبھی واقف ہیں کہ جب تک کیجریوال اور اویسی جیسے رہنما موجود ہیں تو موجودہ حکومت کے لئے حکمرانی اور انتخابی سیاست میں کامیابی حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ نئی سوچ کی سیاست کے نام پر ووٹوں کی تقسیم ہو یا پھر خود مسلمانوں کو مضبوط کرنے اور اپنی آواز بننے کی بات ہو اس میں کامیابی حکمراں جماعت کی ہی ہے۔

مایوسی تو ویسےبھی کفر ہے اور ان تبدیلیوں سے مایوس ہونے کی ضرورت تو بالکل نہیں ہے اور اس کے کہنے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے اور ایسا ہی کچھ حکومت کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے۔ دوسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس دور نے مسلمانوں کو اپنی سوچ اور اپنے رویوں میں تبدیلی کے مواقع فراہم کئے ہیں اور خود بخود کچھ چیزیں بہت اچھی ہو گئی ہیں۔

طلاق ثلاثہ کو لے کر ہندوستان کا مسلم سماج پہلے سے ہی بہت پریشان تھا اور اصلاحات کرنا چاہتا تھا لیکن سیاسی اور مسلکی اختلافات کی وجہ سے اس معاملہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پا رہی تھی اور حکومت کے اس فیصلہ سے مسلمانوں کو ایک بڑی خامی سے نجات مل گئی۔ مسلمانوں میں خواتین کو وہ درجہ حاصل نہیں تھا جو اسلام نے مسلم خواتین کو دیا ہوا تھا لیکن شہریت ترمیمی قانون پاس ہوا اور جامعہ کے واقعہ کے بعد جس انداز میں مسلم خواتین نے میدان میں اتر کر مورچہ سنبھالا اس نے مسلم خواتین کو ایک پہچان اور اعتماد بخشا۔ حکومت کے اس فیصلہ سے گھروں میں قید مسلم خواتین کو باہر کی دنیا اور اس کے مسائل سمجھنے کا موقع ملا۔ بائیں محاذ یعنی کمیونزم سے مسلمانوں کی ہمیشہ سے دشمنی رہی جس کی وجہ سے ایک سوچ سے ہمیشہ رابطہ منقتع رہا لیکن حکومت کے فیصلوں نے ان دو دشمنوں کو ایک ہی صف میں لا کر کھڑا کر دیا یعنی مسلمان اس سوچ کے بہاؤ سے مستفیض ہونا شروع ہو گئے اور اس نے ان میں ایک نئے اعتماد اور سوچ کو جنم دیا۔ حکومت کے ذریعہ منافرت کو نہ روکنے کی وجہ سے مسلمانوں میں تو اتحاد پیدا ہوا ہی ساتھ میں مسلمانوں کی سوچ کا دائرہ وسیع ہوا اور خامیوں کے خاتمہ کے ساتھ اعتماد بھی پیدا ہوا۔

گاڑی صرف یہیں نہیں رکی۔ برسووں سے جس بابری مسجد کے تنازعہ کو لے کر مسلمان اور ملک پریشان تھا، عدالتی فیصلہ نے مسلمانوں کے ہر دعوے کو صحیح ٹھہرایا لیکن فیصلہ ان کے حق میں نہیں دیا جس کی وجہ سے مختلف حلقوں میں سوال ضرور کھڑے ہوئے لیکن فیصلہ قبول کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کی پوری دنیا میں پذیرائی ہوئی۔ اس فیصلہ میں مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لئے ایک جگہ دی گئی اور اس جگہ میں مسجد کے نقشہ کے ساتھ جو ایک اسپتال کی بلڈنگ کا نقشہ پیش کیا گیا اس نے اس پوری کہانی کو پلٹ دیا۔ جدید ڈیزائن کی مسجد اور اس کے ساتھ جدید طرز کے اسپتال کی بلڈنگ کا نقشہ دراصل یہ کسی بلڈنگ کا نقشہ نہیں ہے بلکہ ایک قوم کے مستقبل کا نقشہ ہے۔ ایک طرف جہاں ملک کی اکثریت کو ایک مذہبی جنون کی جانب دھکیلا جا رہا ہے وہیں مسلمانوں کی سوچ میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے کہ وہ مذہب کے ساتھ انسانیت کے پہلو کو اہمیت دے رہے ہیں یعنی وہ مذہب کی اصل روح کو سمجھ رہے ہیں۔

میں ’کیوں نہ کہوں‘ کہ حالات کتنے بھی خراب نظر آئیں لیکن وہ خراب حالات اپنے ساتھ کچھ اچھے پہلو ضرور لے کر آتے ہیں۔ اس لئے کسانوں کو اگر یقین ہے کہ وہ اپنی لڑائی میں حق بجانب ہیں تو وہ وقتی پریشانیوں سے دو چار ضرور ہیں لیکن ان کو ان پریشانیوں کے بعد راحت ضرور ملے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 20 Dec 2020, 12:27 PM
next