چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے 12 ویں کے امتحان میں اجتماعی نقل کی سازش، 3 اساتذہ سمیت 4 معطل

جانچ میں پتہ چلا ہے کہ امتحان کے دوران سوال نامے کی فوٹو باہر بھیجی گئی تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے سوالات کے جوابات چیٹ جی پی ٹی سے تلاش کیے اور انہیں پرنٹ کر کے امتحانی مرکز تک پہنچانے کی کوشش کی

<div class="paragraphs"><p>چیٹ جی پی ٹی آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

قومی راجدھانی میں ایک طرف اے آئی امپیکٹ سمٹ ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کی عالمی طاقت کے طور پر قائم کرنے کی سمت میں بڑا قدم ثابت ہو رہی ہے وہیں دوسری طرف ملک کی اقتصادی راجدھانی مہاراشٹر سے اے آئی کے غلط استعمال کی چونکا دینے والی خبر نے ٹیکنالوجی کے تاریک پہلو کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ 18 فروری کو گڑچرولی ضلع کے چامورشی میں جے کے بومن وار جونیئر سائنس اینڈ آرٹس کالج واقع امتحانی مرکز میں 12 ویں جماعت کے پولیٹیکل سائنس پیپر میں اجتماعی نقل کی بڑی سازش کا پردہ فاش کیا گیا۔

سوال نامے کی تصویر باہربھیج کرچیٹ جی پی ٹی سے جواب نکال کر ان کی پرنٹ کاپی مرکز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اس سنسنی خیزمعاملے میں 3 اساتذہ اور ایک چپراسی کو معطل کر دیا گیا ہے اور پولیس مقدمہ درج کرکے مزید کارروائی کررہی ہے۔ اطلاع کے مطابق ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سوہاس گاڈے نے 18 فروری کو پولیٹیکل سائنس امتحان کے دوران مرکز کا اچانک معائنہ کیا۔ اسی وقت مرکز کے باہر متعلقہ مضمون کے مائیکرو نوٹ اور جاری پیپر کے سوال ناموں کے چیٹ جی پی ٹی سے نکالے گئے پرنٹ آؤٹ برآمد ہوئے۔ اس سے اجتماعی نقل کی سازش کا انکشاف ہوا۔


جانچ میں پتہ چلا ہے کہ امتحان کے دوران سوال نامے کی تصویر باہر بھیجی گئی تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے سوالات کے جوابات چیٹ جی پی ٹی سے تلاش کیے اور انہیں پرنٹ کرکے امتحانی مرکز تک پہنچانے کی کوشش کی۔ وقت رہتے چھاپے ماری کے سبب یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ معاملے کو سنگین مانتے ہوئے سی ای او نے فوری طور پر جانچ کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کی رپورٹ میں بڑے پیمانے پر نقل کی کوشش کی تصدیق ہونے کے بعد انچارج گروپ ایجوکیشن آفیسر سدھیر اکھاڑے کی شکایت پر چامورشی پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا۔ سنٹر ہیڈ سمیت 3 اساتذہ اور ایک چپراسی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

محکمہ تعلیم نے ملزم تمام ملازمین کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ جاتی تفتیش بھی شروع ہوگئی ہے تاکہ یہ پتا لگایا جاسکے کہ اس سازش میں اور کون کون ملوث تھے۔ وہیں افسران نے پورے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ اس واقعہ سےگڑچرولی ضلع کے محکمہ تعلیم میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ تمام امتحانی مراکز پرنگرانی سخت کرنے اور اچانک معائنہ تیزکرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ امتحانی عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے اضافی چوکسی برتی جارہی ہے۔ افسران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی طرح کی نقل یا ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔