آپریشن سندور پر ٹرمپ کا بیان، کانگریس کا طنز، ’مودی کے اچھے دوست 70 مرتبہ کر چکے دعوی‘
جے رام رمیش نے امریکی صدر ٹرمپ کے ثالثی دعوے کے بعد وزیر اعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے ’اچھے دوست‘ یہ دعویٰ 70 مرتبہ دہرا چکے ہیں، جو حکومت کے بیانیے پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے

کانگریس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مبینہ طور پر فوجی کشیدگی رکوانے کے دعوے کو ایک بار پھر نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس دعوے کو بار بار دہرا رہے ہیں اور وزیر اعظم کے قریبی تعلقات کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کانگریس کے مطابق اس معاملے میں حقائق کو سیاسی نعروں کے بجائے سرکاری بیانات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے یہ بات اب 70 مرتبہ دہرائی ہے۔ ان کے مطابق منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے پہلے اپنے ابتدائی بیان میں اور پھر سوال جواب کے مرحلے میں یہی دعویٰ کیا۔ رمیش نے طنزیہ انداز میں وزیر اعظم کے ’اچھے دوست‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی وہ شخصیت ہیں جن کے ساتھ بارہا قربت کے مناظر دکھائے گئے اور اب وہ 10 مئی 2025 کو آپریشن سندور کے اچانک روکے جانے کا سہرا خود باندھ رہے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران دعویٰ کیا کہ انہوں نے 10 مہینوں میں 8 جنگیں ختم کروائیں۔ ان کے بیان کے مطابق یہ تنازعات برسوں سے جاری تھے، جن میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ، کوسوو اور سربیا، کانگو اور روانڈا شامل ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے پاکستان اور ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں میں 8 طیارے مار گرائے گئے تھے اور ان کی مداخلت سے حالات سنبھلے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے ان کی کوششوں کو سراہا اور بڑے پیمانے پر جانیں بچنے کا ذکر کیا۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ برس مئی میں تجارت سے متعلق بات چیت کے ذریعے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی کو کم کرایا۔ تاہم ہندوستانی حکومت کا مؤقف اس سے مختلف رہا ہے۔ نئی دہلی کے مطابق پاکستان کے فوجی آپریشن کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد ہی فوجی کارروائی روکنے پر غور کیا گیا تھا، اور یہ فیصلہ دوطرفہ عسکری چینلز کے ذریعے ہوا۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں بیرونی دعووں پر انحصار کے بجائے سرکاری ریکارڈ اور سفارتی حقائق کو سامنے رکھا جانا چاہئے۔ پارٹی کے مطابق بار بار کے دعوے نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ قومی سلامتی جیسے سنجیدہ موضوع کو سیاسی بحث کا حصہ بنا دیتے ہیں، جس سے احتیاط ضروری ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔