یہ حادثہ نہیں قتل ہے، بی جے پی کے سسٹم نے یوراج کی جان لے لی: کانگریس
کانگریس کے ذریعہ شیئر کی گئی ویڈیو میں افسوس ظاہر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ’’2 گھنٹے تک یوراج لڑتا رہا، اپنی جان بچانے کی گزارش کرتا رہا، لیکن آخر میں یوراج ہار گیا۔ ڈوبنے سے اس کی موت ہو گئی۔‘‘

اتر پردیش کے نوئیڈا میں گزشتہ دنوں 27 سالہ نوجوان انجینئر یوراج مہتا کی پانی سے بھرے گڈھے میں ڈوب کر ہوئی موت نے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کانگریس نے اس موت کو ’حادثہ‘ ماننے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ’قتل‘ ہے۔ کانگریس نے بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سسٹم کی ناکامی نے یوراج کی جان لی، کیونکہ پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیم جائے وقوع پر پہنچ کر بھی یوراج کی جان نہیں بچا سکی۔
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ویڈیو جاری کر بی جے پی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ’’نوئیڈا، رات کے گھنے کہرے میں 27 سال کے یوراج مہتا کی کار ایک پانی سے بھرے گڈھے میں جا گری۔ گڈھا ایک بلڈر نے کھدوایا تھا، جس میں بارش کا پانی بھر گیا تھا۔‘‘ آگے جانکاری دی گئی ہے کہ ’’یوراج نے ہمت جٹائی اور کسی طرح گاڑی کی چھت پر پہنچ گیا۔ اپنے والد کو فون کیا ’پاپا میں ڈوب رہا ہوں، مجھے بچا لو‘۔ والد نے فوراً یوپی پولیس کو خبر دی۔ موقع پر یوپی پولیس، فائر بریگیڈ اور ایس ڈی آر ایف کے 80 لوگ پہنچے، لیکن کوئی پانی میں نہیں اترا کیونکہ پانی ٹھنڈا تھا۔‘‘
ویڈیو میں افسوس ظاہر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ’’2 گھنٹے تک یوراج لڑتا رہا، اپنی جان بچانے کی گزارش کرتا رہا، لیکن آخر میں یوراج ہار گیا۔ ڈوبنے سے اس کی موت ہو گئی۔ بے بس والد اپنی آنکھوں کے سامنے جوان بیٹے کو تِل تِل کر موت کے قریب جاتے دیکھتے رہے۔‘‘ مقامی انتظامیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’یوپی پولیس، فائر بریگیڈ اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیم وہاں کھڑی تماشہ دیکھتی رہی۔ نوئیڈا جیسے بڑے شہر میں یہ ہے بی جے پی کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم۔ یوراج کی موت حادثہ نہیں، قتل ہے۔ اس سڑے گلے سسٹم نے یوراج کا قتل کیا ہے۔‘‘
کانگریس نے ایک دیگر ٹوئٹ میں اس بات پر حیرانی ظاہر کی ہے کہ فائر بریگیڈ اور ایس ڈی آر ایف کے پاس ایسے آلات ہی نہیں تھے، جس سے یوراج کا ریسکیو کیا جا سکے۔ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے ’آج تک‘ چینل کی ایک ویڈیو بھی منسلک کی ہے، جس میں رپورٹر بتا رہا ہے کہ کس طرح انتظامیہ کی لاپروائی نے نوجوان انجینئر کی جان لے لی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔