میڈیا گروپوں پر انکم ٹیکس کی چھاپہ ماری منصوبہ بند ہے یا اتفاق؟ کانگریس کا پی ایم مودی سے سوال

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مودی حکومت کے خلاف کیے گئے اپنے ایک طنزیہ ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’کاغذ پر سیاہی سے سچ لکھنا، ایک کمزور حکومت کو ڈرانے کے لیے کافی ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر ابھشیک منو سنگھوی
کانگریس لیڈر ابھشیک منو سنگھوی
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان کے بڑے میڈیا گروپ دینک بھاسکر اور ٹی وی چینل بھارت سماچار کے دفاتر اور مالکان کے ٹھکانوں پر انکم ٹیکس محکمہ کے ذریعہ کی گئی چھاپہ ماری کے بعد سے اپوزیشن مودی حکومت پر حملہ آور نظر آ رہا ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ کی کارروائی کو لے کر اپوزیشن نے کہا ہے کہ یہ دونوں گروپوں کی کورونا بحران، کسان تحریک اور پیگاسس پر رپورٹنگ کو لے کر ہوئی ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت کو تلخ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی حفاظت کرنے کی جگہ مرکزی ایجنسیوں نے اب وہسل بلوور کو ڈرانے کے لیے شکاریوں کی شکل میں کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ’’دینک بھاسکر پر آئی ٹی چھاپے نے بی جے پی حکومت کی خطرناک اور سخت فطرت کو ظاہر کیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آج جو کچھ بھی ہوا، اسے ہمیں کیسے متعارف کرنا چاہیے؟ کئی الفاظ ہیں- مطلق العنانیت، ظلم، تاناشاہی، فاشزم، سیزرزم اور اسی طرح مزید آگے بھی۔‘‘ ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ اخبار کے دفتر پر چھاپہ ماری کی گئی ہے، کیونکہ اس کی رپورٹ میں گنگا میں بہتے کووڈ متاثرین کی لاش کا ایشو اٹھایا گیا تھا۔ اخبار نے اتر پردیش اور بہار کے شہروں میں ندی کنارے کووڈ متاثرین کی لاشوں کی خوفناک صورت حال کو ظاہر کیا تھا۔ ان لاشوں کو غالباً آخری رسوم کے وسائل کی کمی کے سبب ندی میں بہا دیا گیا تھا۔


پریس کانفرنس میں کانگریس نے سوال کیا کہ انکم ٹیکس کے چھاپے منصوبہ بند ہیں یا یہ محض ایک اتفاق ہے؟ ملک کو خاموش کرانے کے لیے مودی جی اداروں کا غلط استعمال کیوں کر رہے ہیں؟ سنگھوی نے آگے کہا کہ یہ غلط استعمال آپ نے کئی ٹارگیٹ کے خلاف 7 سالوں میں دیکھا ہے، آج ہم پریس اور صحافیوں کے موضوع پر فوکس کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوف کو ظاہر کرتا ہے یہ ہماری ثقافت اور آئین کے خلاف ہے، اس کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

اس تعلق سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی ایک ٹوئٹ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حکومت خوفزدہ ہے، جس کے سبب ایسی کارروائیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’کاغذ پر سیاہی سے سچ لکھنا، ایک کمزور حکومت کو ڈرانے کے لیے کافی ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انھوں نے ’ہیش ٹیگ ریڈ آن فری پریس‘ بھی لگایا ہے۔


اس کے علاوہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ ’’دینک بھاسکر اور بھارت سماچار پر انکم ٹیکس کے چھاپے میڈیا کو ڈرانے کی کوشش ہیں۔ وہ بی جے پی کے خلاف بولنے والوں کو بخشنا نہیں چاہتے۔‘‘

واضح رہے کہ انکم ٹیکس نے مبینہ ٹیکس چوری کے الزام میں ملک بھر میں کئی مقامات پر میڈیا یونٹ دینک بھاسکر کے دفاتر کی تلاشی لی ہے۔ جانکاری کے مطابق دینک بھاسکر گروپ کے بھوپال، اندور، جے پور اور احمد آباد احاطوں میں چھاپہ ماری کی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔