دہلی میں 9 سالہ دلت بچی کی عصمت دری اور قتل کے خلاف کانگریس سراپا احتجاج

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار کا کہنا ہے کہ ’’کیجریوال حکومت میں راجدھانی میں خواتین و بچیوں کے ساتھ بڑھتے جرائم کے معاملوں نے حالات کو فکر انگیز بنا دیا ہے۔‘‘

تصویر ویپن/قومی آواز
تصویر ویپن/قومی آواز
user

تنویر

دہلی میں 9 سالہ دلت بچی کی عصمت دری اور قتل معاملہ کو لے کر کانگریس نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے دہلی کی کیجریوال حکومت اور دہلی پولیس کے ساتھ ساتھ مرکز کی مودی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آج اس سلسلے میں کانگریس نے سڑک پر نکل کر مہلوک دلت بچی کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کا مطالبہ بھی کیا اور پریس کانفرنس کر کے میڈیا کے سامنے دہلی حکومت کی ناکامیوں کو بھی سامنے رکھا۔

دہلی مہیلا کانگریس لیڈران و کارکنان نے آج صبح سڑک پر نکل کر دلت بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر حیرانی ظاہر کی۔ دہلی مہیلا کانگریس لیڈران نے 9 سالہ دلت بچی کی عصمت دری اور اس کے قتل کو مرکز کے زیر انتظام خطہ دہلی میں بدانتظامی و بدانصرامی کی مثال قرار دیا اور کہا کہ نہ ہی مرکز کی مودی حکومت لاء اینڈ آرڈر قائم کرنے میں کامیاب نظر آ رہی ہے اور نہ ہی دہلی کی کیجریوال حکومت خواتین کے تحفظ کو لے کر کوئی خاطرخواہ قدم اٹھا رہی ہے۔


دوسری طرف دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار نے پریس کانفرنس کر معصوم دلت بچی کے ساتھ جنسی استحصال اور قتل معاملے پر کیجریوال حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’راجدھانی میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ بڑھتے مجرمانہ واقعات کے سبب دہلی کی حالت فکر انگیز ہو گئی ہے۔ آج کیجریوال دہلی چھاؤنی کے اولڈ نانگل رائے گاؤں کی 9 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ عصمت دری کے بعد قتل کے معاملے پر پوری طرح خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جب کہ دہلی پولیس نے اس خطرناک جرم کو پوری طرح دبانے کی کوشش کی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے نربھیا واقعہ کے خلاف تحریک چلا کر دہلی کا اقتدار سنبھالا تھا، لیکن آج دلت بچی کے ساتھ ہوئے ظلم پر وہ خاموش ہیں۔‘‘

تصویر ویپن/قومی آواز
تصویر ویپن/قومی آواز

اس سے قبل چودھری انل کمار نے اولڈ نانگل گاؤں میں متاثرہ دلت فیملی سے ملاقات کی اور واقعہ کی پوری جانکاری حاصل کی۔ انھوں نے بتایا کہ کانگریس لیڈروں اور کارکنوں کے دباؤ کے بعد ہی پولیس نے جرائم پیشوں کو پکڑا اور دلت بیٹی کے نصف جلے جسم کو پوسٹ مارٹم اور فورنسک جانچ کے لیے بھیجا۔


پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے چودھری انل کمار نے کہا کہ دہلی چھاؤنی کے اولڈ نانگل گاؤں میں اتوار کی شام نانگل شمشان گھاٹ میں دلت فیملی کی 9 سالہ لڑکی پانی لینے گئی تو وہ کبھی واپس نہیں لوٹ پائی، کیونکہ مجرمانہ روش کے لوگوں نے اس کے ساتھ عصمت دری کر کے اسے مار ڈالا اور بغیر والدین کی اجازت سے جبراً آخری رسومات ادا کر دی۔ والدین کی شکایت کے چار پانچ گھنٹے بعد واقعہ کی جانکاری پولیس کو ملی۔ دہلی کانگریس کے صدر نے مزید بتایا کہ کانگریس کارکنان کے ذریعہ دلت فیملی کی مدد کی گئی اور پولیس پر دباؤ بنانے کے بعد ہی لڑکی کے ساتھ عصمت دری ہونے اور قتل کا معاملہ درج کیا گیا۔ اس سے قبل اتوار کی شب کو پولیس کے ذریعہ یہ بیان دیا گیا کہ کرنٹ لگنے کی وجہ سے لڑکی کی موت ہوئی اور معاملہ ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت چاروں ملزمین کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 304، 342 ور 201 کے مطابق درج کیا تھا۔ چودھری انل کمار نے متاثرہ فیملی کو کانگریس کی جانب سے ہر طرح کی قانونی مدد دینے کا اعلان کیا تاکہ انصاف کیا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔