اپوزیشن کی ’بریک فاسٹ میٹنگ‘ میں 14 جماعتوں کی شرکت، اجلاس کے بعد راہل گاندھی کا سائیکل مارچ

پارلیمنٹ میں حکومت کو پیگاسس معاملہ پر گھیرنے کے لئے راہل گاندھی نے اپوزیشن لیڈران کو ناشتہ کی دعوت دی، اس میں 14 جماعتوں کے لیڈران شریک ہوئے، اجلاس کے بعد راہل نے پارلیمنٹ تک سائیکل مارچ نکالا

راہل گاندھی کا سائیکل مارچ / قومی آواز / وپن
راہل گاندھی کا سائیکل مارچ / قومی آواز / وپن
user

عمران

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں حکومت کو پیگاسس معاملہ پر گھیرنے کے لئے راہل گاندھی نے منگل کی صبح حزب اختلاف کے لیڈران کو ناشتہ پر مدعو کیا۔ اس میں 14 جماعتوں کے لیڈران شریک ہوئے جبکہ اجلاس کے بعد راہل گاندھی نے دہلی کی سڑکوں پر سائیکل مارچ نکال کر حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔

راہل گاندھی کی طرف سے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد کی گئی بریک فاسٹ میٹنگ کے دوران تمام حزب اختلاف کی جماعتوں نے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ لڑائی جمہوریت کی بقا کی ہے اور ہم متحد ہو کر لڑیں گے۔ دریں اثنا، راہل گاندھی نے کہا کہ سبھی کو متحد ہونا ہوگا اور بی جے پی کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔


راہل گاندھی نے کہا ’’میرے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم تمام قوتوں کو یکجا کریں۔ تمام آوازیں (عوام کی) یکجا رہیں گی تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے لئے انہیں دبانا مشکل ہو جائے گا۔‘‘ خیال رہے کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں پیگاسس معاملہ پر بحث کرانا چاہتی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس پر بحث کرائی جائے۔

بریک فاسٹ میٹنگ کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ تک سائیکل مارچ نکالا۔ کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری، کارتی چدمبرم، گورو گگوئی سمیت دیگر لیڈران نے اس مارچ میں حصہ لیا۔ وہیں آر جے ڈی کی طرف سے اجلاس میں شرکت کرنے والے منوج جھا نے بھی سائیکل مارچ میں راہل گاندھی کا ساتھ دیا۔ منوج جھا نے کہا کہ مشترکہ اجلاس کے دوران کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پوری حزب اختلاف متحد ہے اور حکومت کا محاصرہ کرنے کے لئے تیار ہے۔


بریک فاسٹ میٹنگ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے قائدین حزب اختلاف سمیت کانگریس، این سی پی، شیو سینا، آر جے ڈی، سماجوادی پارٹی، سی پی آئی ایم، سی پی آئی، آئی یو ایم ایل، آر ایس پی، کے سی ایم، جے ایم ایم، این سی، ٹی ایم سی اور ایل جے ڈی کے لیڈران موجود رہے۔ جبکہ عام آدمی پارٹی اور بی ایس پی نے میٹنگ سے کنارہ کشی اختیار کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔