یو پی: بی جے پی صدر سے ملاقات کے بعد راجبھر نے کہا ’بی جے پی کو میں ہی نیست و نابود کروں گا‘

ایس بی ایس پی سربراہ راجبھر کا کہنا ہے کہ ’’میں گارنٹی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا سمجھوتہ بی جے پی سے نہیں ہوگا۔ بی جے پی کو اتر پردیش سے اوم پرکاش راجبھر ہی نیست و نابود کرے گا۔‘‘

اوم پرکاش راجبھر، تصویر آئی اے این ایس
اوم پرکاش راجبھر، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل کئی طرح کی سیاسی سرگرمیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، اور اس درمیان بی جے پی کی سابقہ ساتھی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے سربراہ اوم پرکاش راجبھر کی اتر پردیش بی جے پی صدر سوتنتر دیو سنگھ سے منگل کے روز ہوئی ملاقات نے سیاسی پارہ کو بڑھا دیا ہے۔ حالانکہ راجبھر نے اسے اخلاقی ملاقات سے تعبیر کیا ہے، لیکن اسدالدین اویسی کے ساتھ مل کر یو پی اسمبلی الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکے راجبھر پر اب سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔

دراصل راجبھر اور اویسی نے مل کر چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں پر مشتمل ’بھاگیداری سنکلپ مورچہ‘ تیار کیا ہے اور اسمبلی الیکشن میں کامیابی کی صورت میں کئی وزرائے اعلیٰ بنائے جانے کا منصوبہ بھی لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ ان اعلانات کے باوجود اتر پردیش بی جے پی صدر سوتنتر دیو سنگھ سے راجبھر کی ملاقات نے کئی طرح کے شبہات پیدا کر دیئے ہیں، اور یہ بھی اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ بی جے پی کی مخالفت کرنے والے اویسی اور راجبھر بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ دراصل کئی پارٹیوں نے پہلے ہی اویسی پر اس طرح کا الزام عائد کیا ہے کہ مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کے ارادے سے وہ یو پی اسمبلی الیکشن میں اتر رہے ہیں اور اس کا فائدہ بی جے پی کو ہی پہنچے گا۔


بہر حال، راجبھر نے سوتنتر دیو سنگھ کے ساتھ ہوئی اپنی میٹنگ کو اخلاقی ملاقات قرار دیا ہے اور میٹنگ کے بعد بی جے پی کے خلاف زوردار انداز میں آواز بھی بلند کی ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمارے سوتنتر دیو سنگھ کے ساتھ ذاتی تعلقات ہیں۔ کچھ کام تھا جس وجہ سے ہم ملنے گئے تھے اور اس کا کوئی سیاسی مطلب نہیں ہے۔ لوگ اس کا غلط مطلب نکال رہے ہیں۔‘‘ راجبھر نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے امکانات کو سرے سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں گارنٹی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا سمجھوتہ بی جے پی سے نہیں ہوگا۔ بی جے پی کو اتر پردیش سے اوم پرکاش راجبھر ہی نیست و نابود کرے گا۔‘‘

دوسری طرف ایک ہندی نیوز پورٹل پر شائع رپورٹ کے مطابق جلد ہی بی جے پی اور ایس بی ایس پی پھر ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی نائب صدر دیاشنکر سنگھ کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی ریاستی صدر سوتنتر دیو سنگھ اور راجبھر کی ملاقات مثبت رہی ہے اور آئندہ سال ہونے والا اتر پردیش اسمبلی الیکشن بی جے پی و ایس بی ایس پی مل کر لڑیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔