ضمنی انتخاب میں کانگریس کا کمال، بی جے پی ہوئی بے حال

ہندوستان کی 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطہ دادر اینڈ ناگر حویلی سمیت تین لوک سبھا سیٹوں اور 29 اسمبلی سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی ہوئی، مجموعی طور پر بی جے پی کی حالت خستہ نظر آئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطہ دادر اینڈ ناگر حویلی میں گزشتہ دنوں ضمنی انتخابات ہوئے تھے۔ آج ان کا نتیجہ برآمد ہوا جو کانگریس کے لیے خوش آئند اور بی جے پی ے لیے مایوس کن ثابت ہوا۔ دادر اینڈ ناگر حویلی سمیت تین لوک سبھا سیٹوں اور مختلف ریاستوں کی 29 اسمبلی سیٹوں پر آج ووٹ شماری ہوئی۔ ایک طرف کانگریس نے ہماچل میں کلین سوئپ کیا، وہیں مغربی بنگال میں ٹی ایم سی نے بی جے پی کو ایک بار پھر سبق سکھایا۔ علاوہ ازیں کرناٹک میں جن دو اسمبلی سیٹوں کے لیے انتخاب ہوئے تھے، ان میں کانگریس اور بی جے پی کو ایک ایک سیٹ حاصل ہوئی ہے۔

ہماچل میں بی جے پی کا صفایا:

ہماچل پردیش میں منڈی لوک سبھا سمیت تین اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کا صفایا ہو گیا ہے۔ کانگریس نے چاروں سیٹوں پر کلین سوئپ کیا ہے برسراقتدار بی جے پی کے لیے یہ بہت ہی بڑا جھٹکا ہے۔ اس ضمنی انتخاب میں بی جے پی دو بار سے لگاتار جیت رہی منڈی لوک سبھا سیٹ کو بھی نہیں بچا پائی ہے۔ وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کے آبائی ضلع منڈی میں کانگریس کی جیت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اَرکی، فتح پور اور جبل-کوٹکھائی میں بھی بی جے پی کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا ہے۔


ہماچل پردیش میں ایک لوک سبھا اور 3 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخاب میں جیت درج کرنے کے بعد کانگریس کے انچارج جنرل سکریٹری راجیو شکلا نے کہا کہ ملک بھر میں ضمنی انتخاب کے نتائج کے بعد قومی سطح پر تبدیلی کا اشارہ مل گیا ہے۔ ہماچل پردیش میں چاروں سیٹوں پر کانگریس کی جیت ہوئی ہے، جس میں ایک لوک سبھا اور تین اسمبلی سیٹ ہیں۔ ریاست کی عوام کو شکریہ جس نے بی جے پی کو ہٹانے کا ذہن تیار کر لیا ہے۔

راجستھان کی دونوں سیٹوں پر کانگریس کی جیت:

راجستھان کے دھریاود میں کانگریس نے جیت درج کی ہے۔ یہاں اپنے ہی علاقہ میں بی جے پی تیسرے نمبر پر رہی۔ ولبھ نگر میں بھی کانگریس نے جیت حاصل کی ہے۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اس کامیابی کے بعد کہا کہ ’’کانگریس صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی کی پالیسیوں، پروگراموں اور ریاستی حکومت کے بہترین انتظام پر عوام نے مہر لگائی ہے۔ کانگریس امیدواروں کو اپنی دعائیں اور حمایت دے کر عوام نے ہماری حکومت کو مزید مضبوطی فراہم کی ہے، ترقی کا سلسلہ جوڑا ہے اور ایک بڑا پیغام دیا ہے۔‘‘


مغربی بنگال میں بھی بی جے پی کا برا حال:

مغربی بنگال کی چار اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب میں ترنمول کانگریس نے کلین سوئپ کیا ہے۔ ان سیٹوں کے لیے ہوئے ضمنی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی سخت سیکورٹی کے درمیان منگل کی صبح 8 بجے شروع کی گئی تھی۔ ٹی ایم سی نے گوسابا، دنہاٹا، کھرداہ اور شانتی پور میں جیت حاصل کر لی ہے۔

مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’چاروں کامیاب امیدواروں کو میری طرف سے دلی مبارکباد۔ یہ جیت لوگوں کی جیت ہے، کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح بنگال ہمیشہ تشہیر اور نفرت کی سیاست پر ترقی اور اتحاد کا انتخاب کرے گا۔ لوگوں کی دعاؤں سے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بنگال کو مزید اونچائیوں پر لے جانا جاری رہے گا۔


ہریانہ میں آئی این ایل ڈی کی جیت:

ہریانہ کی اعلان آباد سیٹ پر انڈین نیشنل لوک دل سربراہ اوم پرکاش چوٹالہ کے بیٹے ابھے چوٹالہ نے کانگریس امیدوار پون بینیوال اور بی جے پی-جے جے پی امیدوار گووند کانڈا کو ہرا دیا ہے۔ یہ سیٹ ابھے کے ہی استعفیٰ دینے سے خالی ہوئی تھی۔ جیت کے بعد ابھے چوٹالہ نے کہا کہ دیوالی کے بعد ٹیکری اور سنگھو بارڈر جاؤں گا۔ کسان کہیں گے تو دوبارہ استعفیٰ دے دوں گا۔

کلاوتی ڈیلکر کی 50 ہزار ووٹوں سے تاریخی جیت:

دادر اینڈ ناگر حویلی کے لوک سبھا ضمنی انتخاب میں شیوسینا امیدوار اور آنجہانی موہن ڈیلکر کی بیوہ کلاوتی ڈیلکر نے اپنے بی جے پی حریف پر 50 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے تاریخی جیت حاصل کی۔ انھوں نے منگل کو نتیجہ برآمد ہونے کے بعد لوگوں کو موہن ڈیلکر کے تئیں عزت کا جذبہ رکھنے اور ان پر بھروسہ کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔