گروگرام: 8 مقامات پر ’نمازِ جمعہ‘ کی اجازت ختم، باقی 29 مقامات کے لیے کمیٹی تشکیل

جن مقامات پر نمازِ جمعہ اب نہیں ہو پائے گی ان میں بنگالی بستی سیکٹر 49، وی بلاک ڈی ایل ایف-3، سورت نگر فیز 1، کھیڑی ماجرا گاؤں کے باہر، دوارکا ایکسپریس وے پر دولت آباد گاؤں وغیرہ شامل ہیں۔

گروگرام میں کھلے میں نماز ادائیگی کی فائل تصویر
گروگرام میں کھلے میں نماز ادائیگی کی فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

گروگرام یعنی گڑگاؤں میں کھلے مقامات پر نمازِ جمعہ کو لے کر عجیب و غریب حالات پیدا ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے تین سال قبل مختلف طبقات کے ساتھ میٹنگ کے بعد کھلے میں نمازِ جمعہ کی اجازت کے لیے جن 37 مقامات کی نشاندہی کی تھی، اب ان میں سے 8 مقامات کی اجازت ختم کر دی گئی ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں سے ہندوتوا تنظیموں کے ذریعہ گروگرام کے کئی مقامات پر کھلے میں نمازِ جمعہ کے خلاف مظاہرہ کیا جا رہا تھا اور وشو ہندو پریشد کے ساتھ کچھ دیگر ہندوتوا تنظیموں نے مل کر آج اعلان کیا تھا کہ وہ سبھی 37 مقامات پر کھلے میں نماز کی مخالفت کریں گے۔ اب تازہ خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ مقامی لوگوں اور مکتلف ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن (آر ڈبلیو اے) کے اعتراض کے سبب گروگرام ضلع انتظامیہ نے منگل کو 8 مقررہ مقامات پر نماز ادا کرنے کی اجازت ختم کر دی۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق جن مقامات پر نمازِ جمعہ اب نہیں ہو پائے گی ان میں بنگالی بستی سیکٹر 49، وی بلاک ڈی ایل ایف-3، سورت نگر فیز 1، کھیڑی ماجرا گاؤں کے باہر، دوارکا ایکسپریس وے پر دولت آباد گاؤں کے پاس، سیکٹر 68 گاؤں رام گڑھ کے پاس، ڈی ایل ایف اسکوائر ٹاور کے پاس اور گاؤں رام پور سے نکھڈولا شامل ہیں۔


انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ میں اس تعلق سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر گروگرام کے ذریعہ نماز ادا کرنے کے مقامات کی شناخت کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں ایس ڈی ایم، اے سی پی، ہندو/مسلم تنظیموں کے اراکین اور دیگر سماجی تنظیموں کے اراکین شامل کیے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سبھی فریقین سے بات چیت کرنے کے بعد یہ کمیٹی طے کرے گی کہ مستقبل میں نماز ادا کرنے کے لیے کن مقامات کا استعمال کیا جائے گا تاکہ مقامی لوگوں کو کوئی پریشانی نہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق یہ کمیٹی یہ بھی یقینی بنائے گی کہ کسی سڑک یا عوامی جگہ پر نماز نہ پڑھی جائے۔ ساتھ ہی مقامی لوگوں کو نماز کے لیے جگہ طے کرنے میں کوئی اعتراض نہ ہو۔ گروگرام پولیس کے ترجمان سبھاش بوکین کا ایک بیان میں سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ نماز صرف عیدگاہ، مسجد یا نشان زد مقامات پر ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ اس معاملے میں کمیٹی کے ذریعہ لیے گئے فیصلے سے دونوں تنظیموں کا بھائی چارہ اور سماجی یگانگت برقرار رکھنے کی کوشش کمیٹی کرے گی۔ اس کے لیے دونوں فریقین کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔


یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ ہندوتوا تنظیمیں گزشتہ کئی ہفتوں سے گروگرام کے سیکٹر 12 اور سیکٹر 47-اے پر کھلے میں جمعہ کی نماز بند کرنے کو لے کر ہنگامہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ مقامی پولیس نے 30 لوگوں کو حراست میں بھی لیا تھا، لیکن وشو ہندو پریشد نے اس مطالبہ میں مزید شدت پیدا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ گروگرام کے سیکٹر 12 اور سیکٹر 47-اے میں پہلے صرف بجرنگ دل کارکنان ہی ہنگامہ کرتے نظر آتے تھے، لیکن اب انھیں وشو ہندو پریشد کے ساتھ ساتھ دیگر ہندوتوا تنظیموں کا بھی تعاون حاصل ہوگا۔ آئندہ جمعہ کو حالات کشیدہ نہ ہو جائیں، اسی کو دیکھتے ہوئے گروگرام ضلع انتظامیہ نے 8 مقامات پر نماز کی اجازت کو ختم کر دیا ہے، اور ایک نئی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جو آگے کی کارروائی کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔