چرنجیت چنّی پنجاب کے 17 ویں وزیر اعلیٰ ہوں گے

حلف برداری کی تقریب آج راج بھون میں صبح 11 بجے رکھی گئی ہے جہاں گورنر بنواری لال پروہت چرنجیت چنّی کو اپنے عہدے کا حلف دلائیں گے۔

چرنجیت چنّی، تصویر آئی اے این ایس
چرنجیت چنّی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

چنڈی گڑھ: چرنجیت سنگھ چنی (58) جو پنجاب کی سبکدوش کیپٹن امریندر حکومت میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اور انڈسٹریل ٹریننگ کے وزیر تھے، آج ریاست کے 17 ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیں گے۔ حلف برداری کی تقریب آج راج بھون میں صبح 11 بجے رکھی گئی ہے جہاں گورنر بنواری لال پروہت چرنجیت چنّی کو اپنے عہدے کا حلف دلائیں گے۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی امور کے انچارج ہریش راوت، پارٹی کے مرکزی مبصر اجے ماکن اور ہریش چودھری اور کیپٹن امریندر سنگھ سمیت پارٹی کے ایم ایل اے اور دیگر سینئر لیڈرز اور سرکردہ شخصیات بھی اس موقع پر موجود ہوں گے۔

فی الوقت چرنجیت چنّی کے ہی بطور وزیر اعلیٰ حلف لینے کی بات سامنے آرہی ہے۔ تاہم، ان کے ساتھ دو نائب وزرائے اعلیٰ کے حلف برداری کے بارے میں آوازیں باز گشت کر رہی تھیں، جس میں وزیر خوراک، سپلائی اور صارفین امورکے وزیر بھارت بھوشن آشو اور سماجی تحفظ، خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر ارونا چودھری کے نام سامنے آئے تھے۔ ہائی کمان کی جانب سے اشارے یا حکم ملنے پر اس بارے میں فیصلہ حلف برداری سے عین قبل لیا جاسکتا ہے۔


اس سے قبل چرنجیت چنّی کو گزشتہ اتوار کو پنجاب کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا تھا، جس کی اطلاع ہریش راوت نے ٹوئٹ کے ذریعہ دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ چرنجیت چنّی کو پارٹی لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر منتخب ہونے کے بعد چرنجیت چنّی، ہریش راوت اور ریاستی کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو کے ہمراہ راج بھون پہنچے اور حکومت بنانے کے لیے ایم ایل اے کی حمایت کا خط گورنر کو دیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے اپنا نام فائنل کرنے پر پارٹی ہائی کمان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

چمکور صاحب اسمبلی حلقہ سے تین بار ایم ایل اے رہنے والے چرنجیت چنّی کو 16 مارچ 2017 کو کیپٹن حکومت میں کابینہ کا وزیر بنایا گیا۔ چننی ’رامداسیا سکھ برادری‘ سے تعلق رکھتے ہیں اور درج فہرست ذات کے زمرے سے ہیں، وہ ریاست کے پہلے وزیر اعلیٰ ہوں گے اور کیپٹن امریندر کی جگہ لیں گے۔


اس کے ساتھ ہی پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی اور کیپٹن امریندرسنگھ سمیت پارٹی کے کئی رہنماؤں نے چنی کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ کیپٹن نے اس امید کا اظہار کیا کہ چنی سرحدی ریاست پنجاب کو محفوظ رکھنے اور لوگوں کو سرحد کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات سے بچانے میں کامیاب ہوں گے۔

اس سے قبل اتوار کو کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر کے ناموں پر قیاس آرائیوں کا دور دن بھر جاری رہا۔ سینئر لیڈر امبیکا سونی اور سابق ریاستی کانگریس صدر سنیل جاکھڑ کے نام اس دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امبیکا اس عہدے کے لیے اس دوڑ سے دستبردار ہو گئیں اور بعد میں سنیل جاکھڑ کا نام بھی پس منظر میں چلا گیا۔ اس کے بعد سدھو اور سبکدوش ہونے والے جیل اور کو آپریٹیو کے وزیر سکھجندر سنگھ رندھاوا کا نام وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے سامنے آنے لگا، ان کی سرکاری رہائش گاہ پر پارٹی ایم ایل اے، رہنماؤں اور کارکنوں نے بھیڑ لگانا شروع کر دیا۔ الجھن کی یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہی۔ لیکن شام ڈھلتے ڈھلتے تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ اس وقت ہوگیا ہوا جب ہریش راوت نے ٹوئٹ کیا اور قانون ساز پارٹی کے لیڈر کے طور پر چرنجیت چنّی کے انتخاب کے بارے میں آگاہ کیا۔


چرنجیت چنّی کو چیف منسٹر کا چہرہ بنا کر کانگریس نے کئی طبقات اور خاص طور پر ریاست کے تقریباً 32 فیصد دلت ووٹ بینک کو ٹارگٹ کرنے کا کام کیا ہے۔ پارٹی نے یہ ٹرمپ کارڈ بھی کھیلا کیونکہ ریاستی اسمبلی اور ریاست میں اپوزیشن شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) کے انتخابات کے لیے پانچ ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، دلت ووٹ بینک پر نظر رکھتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی ایک دلت کو وزیر اعلیٰ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ چنی کو اب پارٹی کے منشور کے باقی وعدوں کو پورا کرنے کے لئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں اسمبلی انتخابات کے لیے تقریباً پانچ ماہ باقی بچے ہیں، پارٹی کو دھڑے بندی سے نکالنے اور اسے مضبوطی سے انتخابات میں کھڑا کرنے کے ان پر چیلنجز ہوں گے۔ خیال رہے اس سے قبل کیپٹن امریندر نے ہفتہ کی شام 5 بجے ہونے والی ریاستی کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ سے قبل گورنر سے ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔