قومی راجدھانی میں پھر افراتفری، مختلف علاقوں میں 9 بڑے اسکولوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکی

دھمکی آمیز ای میل میں اشتعال انگیز اور پیغامات لکھے گئے ہیں جس میں’’ دہلی بنے گا خالصتان‘‘ اور ’’افضل گرو کی یاد میں‘‘ جیسے الفاظ کااستعمال کیا گیا اورخود کو’خالصتان نیشنل آرمی‘ سے منسوب کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی فائر سروس کی گاڑی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

قومی راجدھانی دہلی میں پیر کی صبح اس وقت ایک بار پھرافرا تفری مچ گئی جب شہر کے مختلف علاقوں میں واقع 9 بڑے اسکولوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکی کی کال موصول ہوئی۔ اسکولوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ جس کے بعد دہلی پولیس، فائر بریگیڈ اور بم اسکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ اس دوران بچوں اورعملے کو حفاظت کے پیش نطرباہر نکالا گیا اوراسکول کی مکمل تلاشی شروع کی گئی۔

بتایا جارہا ہے کہ تمام کالیں تقریباً ایک ہی وقت میں آئیں، اس لیے ایجنسیاں چوکس ہوگئی ہیں۔ پولیس فی الحال فون کرنے والے کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جن 9 اسکولوں کو بم کی دھمکیاں ملی ہیں ان میں دہلی کینٹ کا لوریٹو کانوینٹ اسکول، سری نواس پوری کا کیمبرج اسکول، صادق نگر کا انڈین اسکول، روہنی کا سی ایم شری اسکول، آئ این اے کا ڈی ٹی اے اسکول، روہنی کا بال بھارتی اسکول اور نیو راجندر نگر کا ونستھلی اسکول شامل ہیں۔ ان سبھی اسکولوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے شروع کردی ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔


دھمکی آمیز ای میل میں اشتعال انگیز اور پیغامات لکھے گئے ہیں جس میں’’ دہلی بنے گا خالصتان‘‘ اور ’’افضل گرو کی یاد میں‘‘ جیسے الفاظ کااستعمال کیا گیا ہے۔ ای میل میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 13 فروری کو دوپہر 1:11 بجے اسکول میں دھماکہ ہوگا اور آخر میں خود کو’’ خالصتان نیشنل آرمی‘‘ سے منسوب کیا گیا۔ حالانکہ اس طرح کے پیغامات کو سیکورٹی ایجنسیاں بہت سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کرتی ہیں اور عام طور پر لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ایسے دعوؤں پر گھبرانے کے بجائے سرکاری معلومات کا انتظار کریں۔

یادرہے کہ جنوری اور فروری 2026 کے درمیان دہلی-این سی آر میں اسکولوں کو بم کی دھمکیوں کا سلسلہ مسلسل دیکھا گیا ہے۔اس سے پہلے 7 فروری کو بڑے پیمانے پر بھیجے گئے ایک ای میل کے بعد 50 سے زیادہ اسکولوں کو خالی کرایا گیا تھا جسے بعد میں وزارت داخلہ نے فرضی قرار دیا۔ اس سے قبل 28-29 جنوری کو سردار پٹیل ودیالیہ، لوریٹو کانونٹ اور ڈان باسکو سمیت 5 اسکولوں کو دھمکیاں موصول ہوئی تھیں لیکن تحقیقات سے کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا اور کیمپس کو چند گھنٹوں میں ہی محفوظ قرار دے دیا گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔