ذات پر مبنی مردم شماری: کانگریس نے مودی حکومت کی نیت پر اٹھائے سوال، سبھی پارٹیوں سے بات چیت کا کیا مطالبہ

جئے رام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت نے پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کی تھی، لیکن بعد میں راہل گاندھی اور کانگریس کے دباؤ میں حکومت کو جھکنا ہی پڑا۔

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری معاملہ میں مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے پہلے مرحلہ، یعنی مکانات کی فہرست سازی (ہاؤس لسٹنگ) کے لیے جو سوالات تیار کیے گئے ہیں، وہ حکومت کی حقیقی منشا پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے طریقۂ کار طے کرنے سے قبل حکومت کو سیاسی پارٹیوں، ریاستوں و سماجی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’مردم شماری 2027‘ کا کام بہت تاخیر سے چل رہا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ اپریل سے ستمبر 2026 کے درمیان ہوگا۔ دوسرا مرحلہ، جس میں آبادی کی گنتی ہوگی، وہ فروری 2027 میں ہوگا۔ حالانکہ ہماچل اور جموں و کشمیر جیسے برفیلے علاقوں میں یہ عمل ستمبر 2026 میں ہی انجام پا جائے گا۔


یہ تبصرہ جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ مودی حکومت نے پہلے تو ذات پر مبنی مردم شماری کی مخالفت کی تھی۔ وزیر اعظم نے اسے شہری نکسلی سوچ بتایا تھا۔ لیکن بعد میں راہل گاندھی اور کانگریس کے دباؤ میں حکومت کو جھکنا پڑا اور انھوں نے اسے مردم شماری 2027 میں شامل کرنے کی بات مان لی۔

جئے رمیش نے بتایا کہ حکومت نے مکانات کی فہرست بنانے کے لیے جو فارم جاری کی ہے، اس میں سوال نمبر 12 فکر انگیز ہے۔ اس میں پوچھا گیا ہے کہ کیا گھر کا سربراہ درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل یا ’دیگر‘ زمرہ سے ہے۔ اس میں او بی سی اور جنرل کیٹگری کے بارے میں صاف طور پر نہیں پوچھا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق یہ طریقہ بتاتا ہے کہ حکومت غیر جانبدار طریقے سے ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو تلنگانہ حکومت کے 2025 والے سروے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ وہاں تعلیم، روزگار اور آمدنی سے متعلق جانکاری ذات کو سامنے رکھتے ہوئے پیش کی گئی تھی۔ سماجی انصاف کے لیے ایسی جانکاری ضروری ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔