بہار: 'پھسڈی بابو' نے بہار کو بدحالی کے دہانے پر لا کھڑا کیا... کانگریس

نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ کا حوالہ پیش کرتے ہوئے رندیپ سرجے والا نے کہا کہ "مودی جی کی رپورٹ اس بات کی گواہ ہے کہ نتیش کمار حکومت نے بہار کو سماجی اور معاشی پسماندگی کی کھائی میں پہنچا دیا ہے۔"

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

پی ایم نریندر مودی کی صدارت والے 'نیتی آیوگ' کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بہار اسمبلی انتخاب کی سرگرمیوں کے درمیان ایک بیان میں کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا اور پون کھیڑا نے نتیش کمار کو 'پھسڈی بابو' ٹھہراتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بہار کو بدحالی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور اس کا ثبوت نیتی آیوگ کی رپورٹ ہے۔

کانگریس ترجمان نے بیان میں کہا کہ نتیش کمار کو 'پھسڈی بابو' کا تمغہ کانگریس یا مہاگٹھ بندھن نے نہیں دیا ہے، بلکہ یہ نام خود وزیر اعظم نریندر مودی جی نے دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پی ایم مودی نے تحقیق کے بعد ایک دستاویز جاری کیا ہے جس میں بہار کی بدحالی کے لیے نتیش بابو اور جنتا دل یو-بی جے پی کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ رندیپ سرجے والا نے بتایا کہ حال ہی میں وزیر اعظم کی صدارت والے نیتی آیوگ نے 'سسٹنیبل ڈیولپمنٹ گول 20-2019 رپورٹ' جاری کی ہے۔ اس کے تحت نیتی آیوگ نے ملک کی سبھی ریاستوں کا 62 انڈیکس پر تجزیہ کیا ہے۔ اس رپورٹ میں سبھی 28 ریاستوں کو شامل کیا گیا ہے۔


کانگریس لیڈروں نے بتایا کہ بے حد شرمناک اور تکلیف دہ ریزلٹ کے ساتھ نتیش حکومت 'پھسڈی' آئی ہے۔ تقریباً سبھی پیمانوں میں نتیش بابو کی قیادت فیل ثابت ہوئی ہے۔ کانگریس ترجمان نے بہار کے تعلق سے نیتی آیوگ رپورٹ کی تفصیل بھی پیش کی جس میں بتایا کہ بہار ہندوستان میں سب سے زیادہ غریب ریاست ہے۔ رندیپ سرجے والا نے کہا کہ "اس رپورٹ میں حیران کرنے والا انکشاف ہوا ہے کہ بہار کی 33.74 فیصد آبادی غریبی لائن کے نیچے جینے کو مجبور ہے۔ آبادی کی بنیاد پر بڑی ریاستوں میں یہ سب سے زیادہ ہے۔ یعنی 2020 کی 124799926 (12.47 کروڑ) آبادی کی بنیاد پر بہار میں 42107495 (4.21 کروڑ- 33.74 فیصد) آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔"

علاوہ ازیں کانگریس کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق بہار میں بارہویں درجہ میں اسکول ڈراپ آؤٹ ریٹ ملک میں سب سے زیادہ اور ملک میں سب سے کم ٹرینڈ اسکول ٹیچر ہیں، بہار کی اعلیٰ تعلیم میں گراس انرالمنٹ تناسب (جی ای آر) ملک میں سب سے کم ہے، اسکولوں میں بیٹیوں کے لیے بیت الخلاء کی موجودگی معاملہ میں بھی بہار آخری پائیدان پر ہے، بہار میں سب سے زیادہ بچے عدم غذائیت کے شکار ہیں، بڑی ریاستوں میں خون کی کمی کی شکار سب سے زیادہ حاملہ خواتین کا تعلق بہار سے ہے اور منریگا میں محنت کش مزدوروں کو ملک میں سب سے کم کام بہار کو ملا۔


اتنا ہی نہیں، کانگریس نے جو تفصیلات پیش کی ہیں اس کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہار میں بینکوں کی سہولت اور رسائی ملک میں سب سے کم ہے، بہار میں خواتین کی 'لیبر فورس' میں شراکت داری ملک میں سب سے کم ہے، بہار میں 16 سے 64 سال کی آبادی کے لیے کام کی دستیابی ملک میں سب سے کم ہے، بہار کے شہروں میں 'سالڈ ویسٹ ٹریٹمنٹ' صفر فیصد ہے، اور پردھان منتری آواس یوجنا و ایل پی جی گیس استعمال میں بھی بہار پسماندہ ہے۔

ان تفصیلات کو پیش کرتے ہوئے رندیپ سنگھ سرجے والا نے نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ "مودی جی کی رپورٹ اس بات کی گواہ ہے کہ نتیش کمار حکومت نے بہار کو سماجی اور معاشی پسماندگی کی کھائی میں پہنچا دیا ہے۔ سوشاسن کے نام پر اقتدار کی سرپرستی نے بے روزگاری، نکماپن اور ناکارہ پن پروسا ہے، اور بہار کو بدحالی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔