شہید اشفاق اللہ خاں، جن کی عظیم قربانی غلامی کے گٹھاٹوپ اندھیرے میں مشعل راہ بنی

شہید اشفاق اللہ خاں کی عظیم قربانی غلامی کے گٹھاٹوپ اندھیرے میں مجاہدین آزادی کے لیے مشعل راہ بنی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

شاہد صدیقی علیگ

یوم ولادت 22 اکتوبر 1900 کے موقع پر

ہندوستان کی گزشتہ 200 سالہ تاریخ کی اگر ورق گردانی کی جائے تو قومی احساسات کی بیداری، تحریک آزادی اور بے شمار وطن پرستوں کے کارناموں کا عہد زریں سامنے آتا ہے۔ جنہوں نے اپنا لہو اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اس ملک کو دشمنوں کے آہنی پنجوں سے آزاد کرایا۔ ان میں ایک نام کاکوری کیس کے روح رواں مجاہد آزادی اشفاق اللہ خاں کا بھی ہے۔

اشفاق اللہ کی ولادت 22؍اکتوبر 1900ء کو شاہجہاں پورکے ایک معزز جاگیردار شفیق اللہ خاں کے گھر میں ہوئی۔ ان کی والدہ مظہرانساء خوبصورت، بڑی نیک سیرت اور غریب پرور خاتون تھیں۔ اشفاق کو گھر والے پیار سے اچھومیاں کہتے تھے جو اپنے چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ رب حقیقی نے ان کو حسن صورت کے ساتھ حسن سیرت سے بھی نوازا تھا۔


دوران تعلیم وہ انقلابی سرگرمیوں میں حصّہ لینے لگے اور نویں درجہ کے بعد بالآخر مشن اسکول کو خیر باد کہہ دیا۔ محض 19 سال کی عمر میں (HSRA ہندوستان سوشلیٹ ریپلک ایسوسی ایشن) کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد وہ اس کے سرگرم رکن بن گئے۔ HSRA نے برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ایک منظم حکمت عملی تیار کی، لیکن وسائل کی کمی اور پیسے کی قلت کے سبب اس منصوبے کو پائے تکمیل تک پہنچانا محال تھا۔

8 ؍اگست 1925ء کو HSRAکی ایک ہنگامی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سرکاری خزانے کو لوٹنے کی تجویز رام پرشاد بسمل نے پیش کی۔ جس کو اشفاق اللہ خاں نے عملی جا معہ پہنانے کے لیے تمام شرکاء راجندر ناتھ لہری، سچیندر ناتھ بخشی، چندر شیکھر آزاد، کیشوچٹرجی، مکندی لعل، من منتھ ناتھ گپتا، بنواری لعل اور ٹھاکر روشن سنگھ کی تائید و رضامندی حاص کیں۔ راجندر سنگھ لہری کی رہنمائی میں 10؍انقلابیوں کی ایک ٹیم 9؍اگست کو لکھنؤ پسنجر میں سوار ہوئی۔ اشفاق، سچیندر ناتھ بخشی اور راجندر سنگھ ساتھ کے سیکنڈ کلاس میں باقی تھرڈ کلاس میں بیٹھے۔ جب ٹرین نے عالم نگر اسٹیشن کی جانب رخ کیا تو سیکنڈ کلاس کے ڈبے سے زنجیر کھینچ کر سرکاری ملازمین اور مسافروں کو متنبہ کیا۔


’’آپ لو گ شانت رہیں، ہم لوگ چور یا ڈکیٹ نہیں، بلکہ انقلابی ہیں۔ ہم بدیشی حکومت کو ختم کرکے بھارت کی جنتا پر بھارتیوں کا راج کرنے کے لیے حکومت سے لڑ رہے ہیں۔ ہمارا جنتا یا سرکاری ملازمین سے کوئی جھگرا نہیں ہے، مگر جو ہمارے راستہ میں روڑہ اٹکائے گا ہم اس کو جان سے مار ڈالیں گے‘‘۔

ان حریت پسندوں نے وقفہ وقفہ سے ہوائی فائرنگ اور دھماکے کرکے ریل کے ڈرائیور اور حفاظتی عملے کو اپنے قابو میں لے لیا۔ ایک مسافر ان سے مقابلہ کرکے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ دو جنگجوؤں نے مل کر خزانے کے صندوق کو ٹرین سے گرایا، اشفاق اللہ خاں نے ہتھوڑے اور چھینی کی چند ضربوں سے بکس کو پاش پاش کردیا۔ اس واردات سے HSRA کو 4601؍ روپے15؍آنے اور 6؍پائی موصول ہوئے۔ خزانے کی لوٹ کی خبر جنگل کی آگ کی طرح چاروں طرف پھیل گئی۔ پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا۔ مسافروں سے حلیہ دریافت کرکے بڑے پیمانے پر تلاش اور داروگیر کا سلسلہ شروع ہوا۔ موقعہ واردات سے پولیس کو ایک چادر ملی جس پر شاہجہاں پورکے ایک دھوبی کی مہر تھی۔ علاوہ ازیں لو ٹ کے چند لوٹے گئے نوٹ بھی اسی شہر سے پکڑے گئے۔ اس بنا پر پولیس تحقیقات کا سارا رخ یہیں منتقل ہوگیا۔ اس ضلع کے علاوہ کانپور، بنارس اور الٰہ آباد وغیرہ سے 40؍ سے زائد جانبازوں کو پولیس نے حراست میں لیا لیکن کیس کا اصل ہیرو پولیس کی گرفت سے باہر تھا۔


برطانوی حکومت کو خزانے کے لٹنے سے زیادہ HSRA کی منصوبہ بند کارروائی اور اس کی سرگرمیوں سے تشویش تھی۔ حکومت نے اس کیس کی تفتیش کی ذمہ داری CIDکے ایک سینئر پولیس افسر تصدق حسین کے سپرد کی۔ جنہوں نے اپنی ذہانت اور دانشمندی سے HSRAکے دو اراکین بنواری لعل اور بھوپندر سانیال کو سرکاری گواہ بناکر کیس کی تہہ تک پہنچنے میں بہت جلد رسائی حاصل کرلی اور کاکوری کیس سازش کا پردہ فاش کر دیا۔ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ اس واردات کی اصل روح رام پرشاد بسمل اور اشفاق اللہ ہیں۔

اشفاق اور بسمل کے آپس میں بڑے گہرے مراسم تھے۔ دونوں ہندو-مسلم اتحاد، معاشرتی اور مذہبی اصلاحات کے کٹر حامی تھے۔ دونوں کو سیاست اور شاعری سے گہرا شغف تھا،۔ان کی انقلابی نظمیں اور تقاریر کو بڑی شو ق سے سنا جاتا تھا۔ مورخہ 25؍ستمبر1925ء رام پرشاد بسمل کو ساتھیوں کی مخبری سے گرفتار کیا جاچکا تھا لیکن اشفاق کی حالات حاضرہ پر گہری نظر تھی مگر وہ ساتھیوں کی بے وفائی سے دل برداشتہ ہوگئے اور انہوں نے اپنے آبائی وطن کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ اشفاق نے کچھ ایام گنے کے کھیت میں گزارنے کے بعد بارہ بنکی (دیوا شریف) میں اپنے پیر مرشد حضرت وارث علی شاہ کے روضہ مبارک پر حاضری دے کر بنارس ہوتے ہوئے بہار پہنچے۔ جہاں ڈالٹن گنج میں کچھ عرصے تک انہوں نے ایک انجینئرنگ فرم میں ملازمت کی۔ تقربیاً دس ماہ میں یہاں کی آب وہوا اور ماحول سے عاجز ہوکر دہلی چلے آئے۔ دوران جلاوطنی، اشفاق اپنے ساتھیوں پر گورکھپور اور لکھنؤ میں زیر سماعت مقدموں سے پوری طرح بے خبر رہے۔ ان کو حکومت کی نیت کا احساس ہوچکا تھا کہ مقدمات صرف ایک ڈھونگ کے علاوہ کچھ نہیں بلکہ حکومت تمام ملزمان کو سزاد ینے کا تہیہ کرچکی ہے۔ دہلی میں ان کی ملاقات بچپن کے ایک دوست سے ہوئی جس نے اپنے گھر پر ان کی بڑی خاطر مدارت کی، کچھ دن آرام وسکون سے گزرنے کے بعد اس دغاباز نے چند سکوں کی خاطر ان کی مخبری کر دی۔ آخر کار 8؍ستمبر1929ء علی الصبح پولیس نے ان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اشفاق اللہ خاں نے قید و بند کی صعوبتیں فیض آباد جیل میں برداشت کیں۔ جیل میں انہوں نے نماز، قرآن مجید اور روزوں کا پابندی سے پورا اہتمام کیا۔


مقدمہ کی کارروائی لکھنؤ عدالت میں شروع کر دی گئی۔ اس مقدمہ کے انچارج پولیس افسر تصدق حسین تھے۔ ان کی تمنا تھی اشفاق بھی دیگر ساتھیوں کی طرح بسمل پر سارا الزام لگا کر اپنی جان بچالیں۔ جس کے لیے انہوں نے اشفاق کو انعام و اکرام سے نوازے جانے کا لا لچ بھی دیا۔ لیکن اس مرد مجاہد کے موقف میں ذرا برابر بھی جنبش نہ آئی۔ اشفاق اللہ خاں نے تصدق حسین کو دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا۔

’’تصدق صاحب میں ایسی باتیں سننا بھی چاہتا۔ رام پرشاد بسمل اپنے دیش اور دیش واسیوں کی بھلائی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انگریزوں کی غلامی سے پنڈت جی کی سیوا کو میں اپنا دھرم سمجھتا ہوں۔ پنڈت جی کی میرے دل میں بہت عزت ہے۔ میں ان کے خلاف کوئی بات بھی سننا گوارہ نہیں کروں گا‘‘۔


لکھنؤ میں آپ کا مقدمہ ڈپٹی کلکٹر عین الدین عدالت میں پیش ہوا۔ اس کے بعد یہ مقدمہ سیشن جج ہملٹن کی عدالت میں زیر سماعت آیا۔ جس نے 6؍اپریل 1926 کو پھانسی کی سزا سنائی۔ جب اشفا ق اللہ خاں سزا سن کر عدالت سے باہر آئے تو اپنے عزیزو و اکارب اور دوستوں کو آب دیدہ دیکھ کر انہیں دلاسہ دلانے کی کوشش کی کہ ’’رونا دھونا ٹھیک نہیں ہے، آپ لوگوں کو فخر کرنا چاہیے کہ خاندان کا ایک فرد ظلم وجبر سے ٹکر لیتا ہوا تختہ دار پر چڑھ گیا۔‘‘ اس کیس میں ان کے علاوہ روشن سنگھ اور رام پرشاد بسمل کو بھی پھانسی اور 15؍ملزما ن کو پانچ سے پندرہ سال تک کی سزائیں سنائیں گئیں۔

ماہرین کے مطابق جیل ریکارڈ میں ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ موت کے مہمان کا وزن بڑھ جائے، مگر جس وقت اشفاق اللہ کو پھانسی کی سزا ہوئی تو ان کا وزن 187 پونڈ ( تقربیاً 84 ؍کلو) تھا لیکن پھانسی کے وقت وہ 203پونڈ (تقربیاً92 ؍کلو) ہوچکا تھا۔ 19؍دسمبر 1927ء کو اشفاق اللہ خاں نے فیض آباد جیل بیرک میں معمول سے قبل بیدار ہوکر غسل کیا، دھلے ہوئے کپڑے پہنے، نماز ادا کرکے تلاوت قرآن مجید کی اور بائیں باز و پر کلام الہٰی کو لٹکایا اور قرآنی آیات پڑھتے ہوئے پھانسی کے پھندے کو گلے کا ہار سمجھ کر چوما۔


جیل سپرنٹنڈنٹ نے جب ان کی آخری آرزو دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ:

کچھ آرزو نہیں ہے آرزو تو یہ ہے

رکھ دے کوئی ذرا سی خاکِ وطن کفن میں

شہید اشفاق اللہ خاں کی عظیم قربانی غلامی کے گٹھاٹوپ اندھیرے میں مجاہدین آزادی کے لیے مشعل راہ بنی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔