سرسید احمد خاں: تاریخ نویس سے تعلیمی میدان کے مرد مجاہد تک

یوم پیدائش پر خصوصی پیش کش: سرسید نے سب سے پہلے مسلمانوں کے تئیں انگریزوں کی غلط فہمی کا ازالہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ جس کے لیے انہوں نے بڑی حق گوئی، بے باکی اور راست بازی سے اسباب بغاوت ہند لکھی

سرسید احمد خاں: تاریخ نویس سے تعلیمی میدان کے مرد مجاہد تک
سرسید احمد خاں: تاریخ نویس سے تعلیمی میدان کے مرد مجاہد تک
user

شاہد صدیقی علیگ

سرسید احمدخاں کا شمار ہندوستان کی ان عظیم اور ممتاز شخصیتوں میں ہوتا ہے جن کا نام ان کے وقار ،تمکنت ،علم وادب میں سربلندی ،سیاست وفراست اور مصلح قوم کی وجہ سے صفحۂ تاریخ پر ہمیشہ درخشاں ستارے کی مانند چمکتا رہے گا۔جنہوں نے وقت کے ہاتھوں ایک تہذ یب کو ابھر تے ہوئے دیکھا تو دوسری تہذیب کو مٹتے ہوئے دیکھا ۔ تو وہ ایسے دور ابتلأ میں ہندوستانی نشاۃ ثانیہ کے امین بن کر سامنے آتے ہیں اور یکے بعد دیگر ے تاریخی تصانیف سے سرسید کی شناخت میدانِ فن تاریخ کے ایک ابھرتے ہوئے مورخ کی ہونے لگتی ہے ۔لیکن اتفاقا ً میرٹھ سے اٹھی ایک چنگاری جس نے پلک جھپکتے ہی شمالی ہند کے بیشتر حصوں کو اپنی آغوش میںلے لیا۔ اس نے سرسید کے دل ودماغ پر ایسے انقلاب آفریں اثرات مرتسم کیے جس نے سرسید کو تاریخ نویسی کے بجائے تعلیمی میدان کا سب سے بڑا مجاہد اورمفکر عظیم بناکر چھوڑا ۔

سرسید کی پیدائش ایک ایسے خاندان میں ہوئی جن کے قلعہ معلی سے قریبی روابط تھے ۔لہٰذا انہیں بھی وہاں کے شب روزکو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔سرسید احمد خاں کو آخری مغل با دشاہ بہادر شاہ ظفر نے عارف جنگ کے خطاب سے بھی نوازا تھا ۔ روشن ضمیر اور نباض وقت سرسید احمد خاں نے جلدہی اپنی فراست سے بھانپ لیا کہ عنقریب مغلیہ شہنشایت کے سورج کو گرہن لگنا طے ہے ۔ چنانچہ انہوں نے خاندانی وراثت یعنی جد امجد کی روش اختیار کرنے کے بجائے کمپنی کی ملازمت کو ترجیح دی ۔

دوران ملازمت ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک ایسے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس کی سرکش موجوں میں فرنگیوں کی کشتی ڈوبتے ڈوبتے بچی۔ سرسید احمد خاں اس طوفان یعنی پہلی جنگ آزادی 1857ء کے عینی شاہد ہیں۔جب بھی انقلابِ میرٹھ کا تذکرہ ہو گا توان کی معرکۃ الآ را تصانیف کا ذکر بھی ضرور ہوگا۔ جنہوں نے اپنے نوک قلم سے ’’سرکشی بجنور ، اسباب بغاوت ہند اور رسالہ خیر خواہ مسلمان‘‘ میں ایام غدر کے پرآشوب دور کی ایسی منظرکشی کی ہے کہ تمام پس منظر آنکھوںکے سامنے گھومنے لگتے ہیں اور سرسید کے فکری اور بنیادی افکا ر بھی عیاں ہوجاتے ہیں ۔

جب انگریزوں کے خلاف 10؍مئی 1857ء کو دیسی سپاہیوں نے بغاوت کا علم بلند کیا تو سرسید بجنورمیں صدر امین تھے ۔ جنہیں اپنے علم وحکمت ،شعور و آگہی اور بصیرت وبصارت سے اندازہ ہوگیا تھا کہ جذباتی وطن پرستوں کے فرسودہ ہتھیار وں اور جدید تکنیک سے آراستہ انگریزوں کے مابین مقابلے سے کچھ حاصل نہیں ہونے وا لا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے چنانچہ انہوں نے مصالحت کی چادر تان کر پوری قوت ارادی سے صریحاً انگریز حکام کا ساتھ دیا۔ سرسیدنے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بجنور میں رونما ہونے والے تمام حالات کا سینہ سپر ہوکر مقابلہ کیا۔ پیش بین سرسید نے مجاہد آزادی نواب نجیب آباد محمود علی خاں کو ہر زاویے اور نقطہ نظر سے سمجھانے کی کوشش کی :

’’خداکی قسم نواب صاحب میں تمہاری خیر خواہی سے کہتاہوں کہ تم اس ارادہ کو دل سے نکال دو ،حکام انگریزی کی عملداری کبھی نہیں جائے گی اگرفرض کرو کہ تمام ہندوستان سے انگریز چلے گئے تو بھی حکام انگریزی کے سوا کوئی عملداری ہندوستان میں نہ کر سکے گا او ر میں نے کہا کہ تم اطاعت سرکار اپنے ہاتھ سے مت دواگر بالفر ض انگریز جاتے رہے جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو تم نواب بنے بنائے ہوتمہا ر ی نوابی کوئی نہیں چھینتا اوراگر میرا خیال سچ ہے تو تم خیرخواہ سرکار ہوگے تو سرکار کی طرف سے تمہاری ترقی اور بہت قدر ہووے گی ۔‘‘

لیکن وطن پر ستی کے نشے سے سرشار غیور روہیلے سردار نواب محمود علی خاں سرسید احمد خاں کے مشورے کو خاطر میں نہ لا ئے ، الٹے انہوں نے سر سید اور ان کے ساتھیوں پر گھیرا تنگ کردیا۔ اپنوں کی کارستانیوں کے سبب جگہ جگہ انقلابی شعلے سرد پڑ تے جارہے تھے ۔ 21؍اپریل کو نگینہ کی معرکہ آرائی آخری لڑائی ثابت ہوئی اور 23؍اپریل1858ء کوبجنور پر دوبارہ انگریزوں کا قبضہ ہوگیا ۔ چنانچہ نواب محمود علی خاں کو انقلابیوں کے ساتھ مجبوراً شہر کو الوداع کہنا پڑااور زندگی کے آخری ایام نیپال کے جنگلات میں بسر کر نے پڑے۔انقلابیوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے مابین تقربیاً دو سال کی سخت مزاحمت کے بعد عنان حکومت ملکہ وکٹوریہ کے ہاتھوںمیں آگئی۔ سرسید کے دل میں جو خدشات تھے اس کے نتائج سب کے سامنے تھے۔

سرسید نے جس جرأت مندی، بے باکی اور ہمت کے ساتھ ایام سرکشی میں انقلابیوں کا سامنا کیا۔ اس نے انگریزی حکام کو ان کا گرویدہ بنا دیا ۔ ان کی سادگی ،دیانت داری اور ایمانداری کے انگریز بڑے قائل ہوئے اور ان کے ہم خیال ا ور ہم نوابنتے چلے گئے۔

اگرچہ 1857ء کی مہم کا آغاز ہندوستان کے ہر کس وناکس نے کیا تھا لیکن ان کے عتاب کے شکار بیشتر مسلمان ہوئے کیونکہ تحریک جدوجہد آزادی کی عنان مغلیہ خاندان کے آخری چشم وچراغ سرا ج الدین بہادر شاہ ظفر کے ہاتھوں میں تھی۔ جوش انتقام میں انگریزوں نے عدل و انصاف کے مغائر مجاہد ین کے ساتھ ساتھ نہتے شہریوں پر حیوانیت ،جبر واستبداد کے ایسے پہاڑ توڑے کہ ہلاکو ،چنگیز اور نادر شاہ کی روحیں بھی کانپ اٹھیں۔ رعایا تباہ و برباد ہوئی اسے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑی۔تختہ دار پر چڑھائے جانے والے ستائیس ہزار افراد میں سے بیشتر بے گناہوں کو شبہ خفیف میں سولی پر لٹکا دیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ دلّی سے لے کر لاہور تک کوئی درخت ایسا نہیں تھا جس پر کسی سفید ریش کی لاش نہ جھول رہی ہو۔ مسلمانوں کے لیے انگریزی ملازمت کے دروازے بند کردیے گئے۔ انگریزوں کی بربریت حیوانت اور شقاوت نے سرسید جیسی درد مند شخصیت کو جھنجوڈ کر رکھ دیا ۔ لیکن حالات سے فراری سرسید کی سرشت میں نہ تھی چنانچہ انہوں نے پوری شدت سے ان کا سامنا کرنے کے لیے کمرکس لی۔

سرسید احمد خاں نے سب سے پہلے مسلمانوں کے تئیں انگریزوں کی غلط فہمی کا ازالہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ جس کے لیے انہوں نے بڑی حق گوئی، بے باکی اور راست بازی سے اسباب بغاوت ہند لکھی۔ انگلستان میں بیٹھے ہندوستانیوں کے مقدر کا فیصلہ کرنے والوں کو حقا ئق سے روشناس کرایا۔ سرسید نے اس تصنیف میں جس عزم اور حوصلہ کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرانگریزوں سے بات کہنے کا طریقہ اختیار کیا، اسے دیکھ کر ان کے حامی بھی خوف زدہ ہوگئے۔

’’میرٹھ میں سپاہ کو بہت سخت سزا دی گئی جس کو ہر ایک عقل مند بہت برا اور نا پسند جانتاہے ،اس سزا کا رنج جو کچھ فوج کے دل پر گزرا بیان سے باہر ہے جہاں جہاں فوج میں یہ خبر پہنچی تمام فوج زیادہ تر رنجید ہ ہوئی میرٹھ کی فوج سے جو حرکت ہوئی تھی اس سے تمام ہندوستانی فوج نے جان لیا تھا کہ اب سرکار کو ہندوستانی فوج کا اعتبار نہ رہا۔سرکا روقت پاکر سب کو سزا دے گی اور اس سبب سے تمام فوج کو اپنے افسروں کے فعل اور قول کا اعتبار اور اعتماد نہ تھا۔‘‘

سرسید احمد خاں نے جس دور میں مذکورہ باتیں رقم کرکے انگریزوں کو آئینہ دکھایا تھا۔ اسے لکھنے کے لیے بھی ایک کلیجہ چاہیے۔ آج اس کا قیاس کرنا بھی مشکل ہے ۔ بقول اکبر الہ بادہ ’اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں۔ کیونکہ انگریزی عمل داری کے خلاف لب ہلانے کی سزا تختہ دار سے کم نہ تھی لیکن حقیقت پسندی سرسید جیسی مرد آہن شخصیت کا حصہ رہی ہے۔ لہٰذا جس نے اپنا ہر سانس بے یار ومددگار قوم کے نام کردیا وہ اس کے لیے ہر سزا بھگتنے کو تیار تھے ۔ان کی باتوں کو انگلستان میں سنجیدگی ومتانت سے سنا گیا ۔لیکن انگریزوں کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں شک وشہبا ت پوری طرح رفع نہ ہوسکے ۔فرنگی انہیں اپنا دشمن نمبر اول گردانتے تھے تو سرسید نے پھر قلم اٹھا یا اور رسالہ خیر خواہ مسلمان لکھ کر انگریز حکام کے ہاتھوں میں پہنچایا ۔جس کے مطالعے نے آہستہ آہستہ برطانوی حکام کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے لیے مجبور کیا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرسید نے جہاں بے لوث ابنائے وطن کے لیے درشت الفاظ اور سخت لہجہ اختیار کیا وہیں اجنبی سفید فام لوگوں کے لیے نرمی کا اظہار کیا۔

لیکن سرسید موقع پرست اور ابن الوقت نہیں تھے بلکہ وہ ایک باضمیر اور صاحب کردار انسان تھے۔ جنہوں نے اپنی قوم کی حالت زار کے مستقبل کو دیکھ کر فیصلہ لیا تھا لہٰذا ان کے کمٹ منٹ پر انگلی اٹھا نا بھی سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ طوفان گزرنے کے بعددوسرے برطانوی بہی خواہوں کی طرح سرسید کو بھی حکام نے حسن خدمات غدر کے صلے میں انعام دینے کی کوشش کی تو انہوں نے وا ضح الفاظ میں انکار کردیا۔حیات جاوید میں حالی لکھتے ہیں کہ:

’’مسٹر شکسپیر رپورٹ کرنی چاہتے تھے کہ منجملہ تعلقہ ٔ چا ند پور کے ا یک معقول جائداد سید احمد خاں کو بعوض خدمات ایام غدر کے ملنی چاہیے مگر جب انہوں نے سرسید سے اس بات میں استمزاج لیا تو انہوں نے اس کے لینے سے انکار کیا اور کہا کہ میرا ارادہ ہندوستان میں رہنے کا نہیں ہے۔‘‘

لہٰذا مذکورہ واقع سے یہ بات صادق ہوتی ہے کہ سرسید احمد خاں نے اس قیامت کی گھڑی میں فر نگیوں کی خدمت کسی حر ص وطمع کے لیے نہیں کی تھی بلکہ اپنی مر دم شناسی اور اعلیٰ فراست سے تقاضا ئے وقت کے تحت کی تھی۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کبھی بھی انگریزی نوازی کا ذاتی طور پرفائدہ نہیں اٹھا یا بلکہ ان کی ہمیشہ مالی حالت خراب رہی ۔یہاں تک کہ جب وہ اپنے فرزند سید محمود کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی غرض سے انگلینڈ لے گئے تو ’’اپنی کتابیں اونے پونے بیچ کر اور اپنی کوٹھی پر روپیہ قرض لے کر سرمایہ فراہم کیا۔‘‘

انقلاب 1857ء کی تصانیف کے مشاہدے سے سرسید کی شبیہ ایک بے باک ،حقیقت پسند او ر حق گو کی شکل میں منظر عام پر آتی ہے جو بڑی سادگی سے بغاوت کی ساری ذمہ داری ضدی انگریز حکا م کے کاندھوں پر ڈال دیتے ہیںاور بڑی خاموشی سے ناامیدی ویاس کے غار میں ڈوبی ہوئی قوم کو نکالنے کے لیے مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں جس میں سب سے اہم تدبیر تعلیمی میدان کا انتخاب ہے اور اس کے لیے سرسید احمد خاں آخری سانس تک کوشاں رہے ۔ جس کے نتیجے میں ان کے خوابوں کی تعبیر علی گڈھ مسلم یونیورسٹی آج علم وا دب کا ایسا سر چشمہ ہے جس سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پورا عالم گزشتہ ایک صدی کے زائد عرصہ سے سرسبز ہو رہا ہے۔

next