گمنام مجاہد آزادی: شہید زبردست خاں... یوم شہادت پر خصوصی پیش کش

پوری دنیا نے 10مئی 1857کو دیکھا جب 85 دیسی سپاہیوں نے مضبوط برطانوی ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا تھا۔ اس کاروان آزادی کے قافلے میں ہاپوڑ کے شہید زبردست خاں بھی تھے، جنہیں 14 ستمبر کو پھانسی دی گئی

میرٹھ میں نصب کی گئی 1857 کے شہید مجاہدین آزادی کے نام کی تختی
میرٹھ میں نصب کی گئی 1857 کے شہید مجاہدین آزادی کے نام کی تختی
user

قومی آوازبیورو

شاہد صدیقی علیگ

گاہے گاہے باز خواں ایں دفترِ پارینہ را

تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را

اس بات سے کوئی منکر نہیں ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی قربانیاں تحریک آزادی ہند کے صفحات پر آب زر سے لکھی ہوئی ہے۔ معرکہ پلاسی تا پہلی جنگ آزادی 1857ء تقربیاً بیس لڑائیاں لڑیں گئیں جن میں مسلمانوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا، خصوصاً مدارس کے بوریا نشینوں نے جانثاری کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ دلّی کے چاندنی چوک سے لے کر لاہور تک کوئی ایسا درخت نہیں تھا جس پر کسی سفید ریش بزرگ کی نعش نہ جھول رہی ہو۔ شاہ عبد العزیز رحمہ نے سب سے پہلے تاجران فرنگ کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا تو حضرت سید احمد شہید نے اپنے استاد مرشد کی تحریک کو جلا بخشی۔ان عظیم مرتبت ہستیوں نے انگریزوں کے خلاف اس وقت ٹکرانے کا آغاز کیا جب ہندوستانی عوام خواب غفلت میں جکڑا ہوا تھا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ فرنگیوں کے خلاف میرٹھ سے اٹھی پہلی منظم جدوجہد آزادی 1857ء کی داغ بیل سید احمد شہید کے 1820ء کی دہائی میں دوآبے کے سفر نے ڈال دی تھی۔

بہر کیف اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے1857 کا مخصوص ہتھیار چپاتی کے موجد مولوی احمد اللہ شاہ 1856ء کے آخر میں۔ ان کے بعد نانا صاحب اور ان کے مشیر عظیم اللہ مارچ یا اپریل1857ء میں میرٹھ آئے تھے۔ علاوہ ازیں سا دھو وسنت اور فقرا کا بھی میرٹھ میں آمد رفت کا سلسلہ لگا رہا۔ جنہوں نے اہلیان میرٹھ کے اندر برطانوی قوت کے خلاف احساسات اور جذبات کو ابھارا۔ جس کا نتیجہ پوری دنیا نے 10مئی 1857ء کو دیکھا جب اس کے 85؍ دیسی سپاہیوں نے مضبوط برطانوی ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا تھا۔ اس کاروان آزادی کے قافلے میں ہاپوڑ کے شہید زبردست خاں بھی تھے۔ دھاڑی، روشن آنکھیں، رنگ گندمی اورچہرہ پہ حسین خط، زبردست خاں کو بہادر شاہ ظفر کے سمدھی مالا گڈھ کے نواب ولی داد خاں سے بڑی قربت تھی۔ جس کا اندازہ اس روایت سے بخوبی ہو جاتا ہے۔

نواب ولی داد خاں کے فرزند کی شادی نواب مظفر نگر اکرام اللہ کی اکلوتی دختر شبنم بیگم سے ہوئی تھی جب بارات مالاگڈھ سے مظفر نگر کے لئے روانہ ہوئی تو ہاپوڑ آتے ہی نواب موصوف نے بارات کی ذمہ داری زبردست خاں کو سونپ کر خود انقلابی تحریک کے پیش نظر واپس مالاگڈھ چلے گئے۔ چودھری زبردست خاں نے نوشہ میاں کے والد کے فرائض انجام دیئے۔

انگریزی غلامی کے چولے کو اتار پھینکنے اور خود مختاری کے جذبات ہر طرف کار فرما تھے۔ ایسی فضا میں گائے اور سور کی چربی لگے کارتوسوں کی خبر نے آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ جب کارتوسوں کی بات شمالی ہند کی چھاؤنیوں میں پہنچی تو سب سے مضبوط چھاؤنی میرٹھ میں پیر علی اور قدرت علی نے دیسی مسلم فوجیوں کو قرآن مجید اور ہندو سپاہ کو گنگا جل پر حلف دلایا کہ وہ مذہب کو خطرے میں ڈالنے والے چربی لگے کارتوسوں کا استعمال نہیں کریں گے۔ جس کا عمل 23؍فروری 1857ء کو نظر آیا جب بعض سپاہیوں نے انگریزی حکومت کے اس قدم کے خلاف مظاہرہ کیا۔ کارمائیکل اسمتھ کی موجودگی میں پہلے شیخ پیرعلی (نائک)اور پھر قدرت علی ( نائک) نے یہ کہہ کرمنع کر دیا کہ اگر ساری رجمنٹ لے لیں گی تب وہ بھی لیں گے۔ ان کے علاوہ یکے بعد دیگرے 85 سپاہیوں نے بھی کارتوس چھونے سے انکار کردیا۔ انگریز حکام نے جانچ کمیٹی تشکیل دے دی۔

9؍مئی کی صبح کو کورٹ مارشل کے حکم کی تعمیل ہوئی، پریڈ پر سپاہ ہندوستانی و یورپین جمع ہوئیں، تیسرے رسالہ کوحکم ہوا کہ وہ پیدل آئے، پچاسی مجرم آگے بلائے گئے وہ اپنی وردی پہنے ہوئے تھے اب بھی سپاہی معلوم ہوتے تھے، سزا کا حکم تیز آواز میں پڑھا گیا، پھران تمام کی وردیاں پیٹھ پر سے اتاری گئیں، لوہار اپنے اوزار اور بیڑیاں لے کرآئے اور جلدی سے انہوں نے پچاسی سواروں کے پیروں میں بیڑیاں ان کے ہمراہیوں کے روبرو پہنا دیں گئیں، جس سے ان کی بے عزتی کی کوئی حد باقی نہیں رہی، اس وقت یہ حالت دیکھ کر بہت آدمی افسوس کرتے تھے کہ وہ سپاہی جنہوں نے برٹش گورنمنٹ کی خدمات بڑے کڑے وقتوں میں کی تھی وہ اس طرح بندھوے گئے۔ قیدی اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر جرنیل کے آکے گڑگڑاتے تھے کہ ان پر رحم کرے اس طرح ذلیل خوار نہ کرے۔

جس طر ح سے سپاہیوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، اسے دیکھ کر دیگر دیسی سپاہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا، مگر خاموش پتھر کا بت بنے کھڑے دیکھتے رہے، کیونکہ ذلت کا گھونٹ پینے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ ان سپاہیوں کو وکٹوریہ پارک کے قید خانہ میں ڈال دیا گیا۔

جب دیسی سپاہی شام کو سیر وتفریح کے لئے صدر بازار گئے تو ان کو دیکھ کر طوائفوں نے طعنہ زنی کی۔ تم نے بڑی بڑی موچھیں لگا رکھی ہیں مگر تم مرد نہیں ہو، زنانے ہو۔ ورنہ اگر مرد ہوتے تو انگریزوں سے اپنے بھائیوں کے دوش بہ دوش کھڑے ہوکر جنگ کرتے اور ان کے وجود سے اپنے ملک کو پاک کرتے۔ مرد وہ ہیں جو انگریزوں کو قتل کر رہے اور ان کے وجود سے اپنے ملک کو پاک کر رہے ہیں۔ یہ سن کر ان کی غیرت جاگ اٹھی اور جنگ آزادی کی متعین تا ریخ 31؍مئی کا انتظار کرنا دشوار ہوگیا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ سید احمد شہید کی آمد کے بعد انگریزوں کے خلاف جہاد چھیڑنے کے مقصد سے میرٹھ میں بھی ایک جہادی مرکز قائم ہو چکا تھا۔ اس نے بھی فوراً سپاہیوں کی اس بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے شہر میں جگہ جگہ اشتہار تقسیم اور چسپاں کر دیئے۔

پورے شہر میں افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔ دوپہر تک یہ خبر عوام کے درمیان گشت کرنے لگی کہ آج کسی بھی وقت دیسی سپاہ بغاوت کرنے والے ہیں مگر انگریز حکام نے اس اطلاع کو سنجیدگی سے نہیں لیا، مگر دن ڈھلتے ڈھلتے جتنے منھ اتنی باتیں پھیلیں، تو شہر میں بھی بے چینی نظر آنے لگی انجام کار وہی ہوکر رہا جو انگریز افسران کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔

10؍ مئی 1857ء مطابق 15؍ رمضان 1274 کو تیسری کولیری کے سپاہی ہا تھوں میں بندوقیں اور برہنہ تلواریں لئے ہوئے بہ آواز بلند ہو رہی تھی، باباؤں یہ جنگ مذہب کے خلاف ہے جو ہمارے ساتھ آنا چاہے آجائے۔ جیل خانہ پر پہنچ کر دھاوا بول دیا، جہاں انہیں کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ 85 فوجیوں کو جیل سے چھڑا کرحضرت شاہ پیرؔ صاحب کے تاریخی مقبرے پر آئے اور وہاں پاؤوں کی بیڑیاں کاٹی گئیں، بیڑیاں کٹنے کے بعد سپاہیوں کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں شہر کے لوگوں نے روزہ افطار کیا۔ سپاہیوں اور عوام کے ’’دلّی چلو‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھی۔ ان باغی سپاہ کے ہمراہ تین نمبر رسالہ کے78 ؍ آدمیوں کو چھوڑ کر کل رسالہ سواروں اور رجمنٹ نمبر 20؍ اور رجمنٹ 11؍ پیدل ہندوستانی سپاہی اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہوگئے اور علی ا لصباح دلّی جا پہنچے اور آخری مغل بادشاہ سے قیادت کرنے کی درخواست کی، آخر کار بہادر شاہ ظفرؔ نے عنانِ انقلاب سنبھال لی۔ اپنے مقصد کو منزل مقصود تک پہنچانے کے بعد یہ انقلابی 11؍مئی سے 16؍مئی تک دلّی میں رہے۔ بعد ازیں کچھ باغی سپاہی انقلابی بھیڑ میں کھو ہوگئے اورکچھ اپنے آبائی وطن لوٹ کر انگریزوں کے منھ در منھ کھڑے ہوگئے۔

زبردست خاں بھی ان میں سے ایک تھے۔ جنہوں نے واپس آ کر ہاپوڑ کے محاذ پر انگریزوں کا جینا حرا م کر دیا تھا۔ ولی داد خاں کو بہادر شاہ ظفرؔ نے بلند شہر، علی گڑ ھ کا صوبہ دار مقرر کیا تو وہ بتاریخ 26؍مئی مالاگڈھ چلے آئے۔ زبردست خاں نے اس پرآشوب دور میں ولی داد خاں کا بھر پور ساتھ دیا اور دتینانہ کے حملہ میں سیکرہ راج پور اور تودور پور کے گوجر دیہات ان کے ہمراہ شریک تھے۔ انہوں نے ہاپوڑ میں انقلابیوں کی ایسی سربراہی کی جس سے جی ٹی روڑ پر مکمل غلبہ حاصل کرلیا، اب میرٹھ سے آگرہ تک کا راستہ باغیوں کے ماتحت آگیا۔ انگریزوں کو ٹیلی گراف سے بھی محروم کر دیا۔

ولی داد خاں اور زبردست خاں نے ہاپوڑ میں انگریزوں پر حملہ کرنے کی حکمت عملی بنائی مگر انگریزو ں کے جوتے سر پر رکھنے والے بھٹونہ کے جاٹ ان کی راہ کے سب سے بڑا کانٹا بن گئے۔ ہاپوڑ میں مجاہدین کی سرتابی کے لئے انگریز افسر ولیمس کو آنا پڑا۔ اس نے ہاپوڑ میں تعینات ولسن اور مخبر بھوپ سنگھ تیاگی کی مدد سے ہاپوڑ کی شورش کو دبانے میں کامیابی حاصل کی۔ بھوپ سنگھ تیاگی زبردست خاں کا سب سے بڑا رقیب تھا وہ انگریزوں کی گود میں جا بیٹھا، اس نے زبردست خاں کی کوئی تدبیر کارگر ہونے نہیں دی۔ بھوپ سنگھ تیا گی عرف بھوپا نے زبردست خاں، الفت خاں اور ان کے انقلابی ساتھیوں کو انگریزوں کے ہاتھوں گرفتار کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ فاسٹ ٹریک کورٹ نے ان تمام مجاہدوں کو بغاوت کے جرم میں طے شدہ سزائے موت سنائی۔

زبردست خاں اپنے نام کے مترادف لحیم شحیم تھے۔ جب 14؍ستمبر1857ء کو انہیں پھانسی دی گئی تو قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ تین مرتبہ ریشم سے بنی پھا نسی کی ڈوری ٹوٹ ٹوٹ گئی تو اس منظر کودیکھ کر انگریز افسر ولسنؔ (Wilson) حیرت زدہ رہ گیا اور زبردست خاںؔ کو زندہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کو تختہ دارسے اتار دیا گیا اور پانی مانگنے پر پانی پلانے کا حکم دیا مگر انگریز مخبروں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا، کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ اگر اس جانباز کو موت کی سزا نہیں دی گئی تو وہ ان کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔ اس بات کو ولسن نے بھی تسلیم کیا جب چودھری زبردست خاں پیاس بجھا رہے تھے تب اس نے انہیں اپنی بندوق کا نشانہ بنایا۔ چودھر ی زبردست خاں وطن کی حرمت پہ قربان ہوگئے۔ انگریزی افسر نے ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ زبردست خاں کے خاندان میں جتنے بھی مرد، جوان، بوڑھے یا بچے ہوں سب کو لاکر پھانسی دے د ی جائے۔ کوئی بھی مرد زندہ نہ چھوڑا جائے اور تمام جائداد ضبط کرلی جائے۔ اس حکم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے برٹش حکام نے زبردست خاں کے خاندان کے دوسرے ارکان کی دار گیر شروع کر دی۔ جن میں بیٹے امجد خاں کو انگریز افسر ان نے پکڑنے میں کامیابی حاصل کی اور امجد خاں بھی والد کی طرح آزادی کی تمنا لئے شہید ہوگئے۔

زبردست خاں کو جس پیپل کے درخت پر پھانسی پر لٹکایا گیا تھا وہاں آج ٹیلی فون ایکسچنج بنا ہوا ہے۔ ہاپوڑ میں زبردست خاں اور دیگر شہیدوں کی یاد میں ہر برس ایک میلہ لگتا ہے جو 10؍مئی سے شروع ہوکر پورے ایک ماہ چلتا ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ آج ہاپوڑ کے بیشتر لوگ شہید زبردست خاں کی قربانی تو کیا ان کے نام تک سے واقف نہیں ہیں۔

شہیدوں کے مزاروں پرلگیں گے ہر برس میلے

وطن پر مرنے والوں کا یہی باقی نشاں ہوگا

Published: 14 Sep 2020, 7:40 AM
next