بے بس اور غیر مسلح افراد کے خلاف آسام پولیس کی کارروائی وحشیانہ: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃعلماء آسام کے صدر مولانا مشتاق ابتداء ہی سے درانگ ضلع میں ہو رہی کارروائی کے تعلق سے تگ و دو کر رہے ہیں اور جمعیۃ علماء آسام مصیبت کی اس گھڑی میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے۔

مولانا سید ارشد مدنی، تصویر آئی اے این ایس
مولانا سید ارشد مدنی، تصویر آئی اے این ایس
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: صوبہ آسام کے درانگ ضلع میں دھال پور بستی میں کُل 800 گھروں کو پولیس وانتظامیہ کے ذریعہ مسمار کئے جانے کے خلاف اپنی جمہوری حق کے مطابق پرامن احتجاج کر رہے بے بس اور غیر مسلح لوگوں کے خلاف ہونے والی پولیس کارروائی کو انتہائی وحشیانہ قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ ظلم ایسا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ظلم و بربریت کا جو ننگا ناچ وہاں ہوا ہے اس کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ظلم ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ افسوس اپنے ہی ملک میں اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعہ کچلنے کے لئے غیر قانونی اور تشدد کا ایسا وحشیانہ طریقہ اختیار کرنا جسے دیکھ کر انسانیت شرمندہ ہو جائے، کسی بھی مہذب سماج کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔


مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ یہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا معاملہ ہے، اس لئے کہ اگر وہ لوگ سرکاری زمین پر آباد تھے تو قانونی طور پر پہلے نوٹس جاری کیا جانا چاہئے تھا۔ دوسرے وہ کوئی غیر ملکی نہیں ہیں، اسی ملک کے شہری ہیں، اور پچاسوں سال سے آباد ہیں، جن کو یقیناً اس وقت وہاں کی گورنمنٹ نے اجازت دی تھی اور بسایا تھا۔ اس لئے اجاڑنے سے پہلے انہیں کوئی متبادل جگہ آباد ہونے کے لئے فراہم کی جانی چاہئے تھی۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا، ہمیں بتایا گیا ہے کہ آبادیوں کے اجاڑنے کی اس مہم میں دو مسجدوں کو شہید کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مدرسہ کو بھی ملبہ کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔

مولانا مدنی نے آسام پولیس کی کارروائی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگ خود کو اس طرح جبراً بے گھر کئے جانے کے خلاف جمہوری طریقہ سے احتجاج کر رہے تھے، لیکن ریاستی سرکارکو غالباً یہ جمہوری احتجاج پسند نہیں آیا اور گولی چلوا دی، جس میں میری معلومات کے مطابق دو لوگوں کی موت ہو گئی اور بہت سے لوگ شدید زخمی ہیں۔ مولانا مدنی نے اخیر میں کہا کہ آج جمعیۃ علماء آسام کے نائب صدر رقیب الحسن گورنر سے ملاقات کر رہے ہیں۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی جوڈیشیل انکوائری کرائی جائے۔ اجاڑے گئے خاندانوں کی باز آبادکاری کا بندوبست کیا جائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت انسانی حقوق کو اولیت دیتے ہوئے مظلوموں کوانصاف دے گی اور آئندہ ایسی حرکتیں نہیں ہوں گی۔

واضح رہے کہ جمعیۃعلماء آسام کے صدر مولانا مشتاق عنفر ابتداء ہی سے اس سلسلہ میں تگ و دو کر رہے ہیں اور جمعیۃ علماء آسام مصیبت کی اس گھڑی میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔