چرنجیت چننی حکومت کے 15 وزراء نے لیا حلف، نوجوان چہروں کو دی گئی ترجیح

گورنر بنواری لال پروہت نے راج بھون کے صحن میں منعقدہ تقریب میں وزراء کو حلف دلایا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ چرنجیت چننی، دونوں نائب وزرائے اعلیٰ، ہریش راوت، نوجوت سنگھ سدھو سمیت کئی لوگ موجود تھے۔

چرنجیت چننی کابینہ، تصویر ٹوئٹر@INCPunjab
چرنجیت چننی کابینہ، تصویر ٹوئٹر@INCPunjab
user

یو این آئی

چنڈی گڑھ: پنجاب کے پندرہ ممبر اسمبلیوں نے آج شام وزیر کے عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔ گورنر بنواری لال پروہت نے راج بھون کے صحن میں منعقدہ ایک سادہ تقریب میں وزراء کو حلف دلایا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چننی، دونوں نائب وزرائے اعلیٰ او پی سونی اور سکھجندر سنگھ رندھاوا، پنجاب امور کے انچارج ہریش راوت، ہریش چودھری، کانگریس کے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو، دونوں ایگزیکٹو سربراہ سمیت پارٹی عہدیدار اور پولیس اور انتظامی افسران موجود تھے۔

چرنجیت چننی اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ کے حلف برداری کو تقریباً پانچ دن ہوچکے ہیں لیکن وزراء کے ناموں کے حوالے سے پش و پیش کا معاملہ تھا۔ چرنجیت چننی کو ہائی کمان نے دو مرتبہ دہلی بلایا اور میراتھن میٹنگ کے بعد وزراء کے ناموں کا فیصلہ کیا گیا، لیکن کچھ کے ناموں کا فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔ دو دن پہلے جا کر ہائی کمان نے ناموں اور محکموں کی تقسیم پر مہر ثبت کی۔


برہموہندرا، منپریت بادل، ترپت راجندر باجوہ، سکھبندر سنگھ سرکاریا، رانا گرجیت سنگھ، ارونا چودھری، رضیہ سلطانہ، بھارت بھوشن آشو، وجے اندر سنگلا، رندیپ سنگھ نابھا، راجکمار ورکا، سنگت سنگھ گلجیان، امریندر راجہ وڈنگ، گرکرت کوٹلی، پرگت سنگھ کو وزیر بنایا گیا ہے۔

دہلی سے واپسی کے بعد وزیر اعلیٰ نے دوپہر کو گورنر سے ملاقات کی اور ناموں کی فہرست گورنر کے حوالے کی اور حلف برداری کی تقریب آج شام مکمل ہوئی۔ امریندر کابینہ کے آٹھ وزراء کو نئی کابینہ میں جگہ ملی ہے اور اس میں سات نئے چہروں کو شامل کیا گیا ہے۔ کلجیت ناگرا کیکے نام کی جگہ رندیپ سنگھ نابھا کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ امریندر کے حمامی پانچ وزراء کو نئی کابینہ میں جگہ نہیں ملی۔


جن پانچ وزراء کی چھٹی کی گئی ہے وہ کیپٹن امریندر کے حامی ہیں اور آج انہوں نے ایک پریس کانفرنس بلا کر نئی کابینہ میں شامل نہ کئے جانے پر احتجاج کیا اور کہا کہ آخر ان کا پچھلا ریکارڈ دیکھا جاتا۔ ہم نے ساڑھے چار سال محنت اور تندہی سے کام کیا اور اسے نظر انداز کرنے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں۔ اس طرح وزیر اعلیٰ اور دو نائب وزیر اعلیٰ کو ملاکر کابینہ میں 18 ارکان ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ بھی بدلتے سیاسی منظر نامے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کے حامیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو اس کے بعد وہ اگلا قدم اٹھائیں گے۔

ناگرا کا نام جب آخری لمحات میں فہرست سے نکالے جانے پر انہوں نے کہا کہ جب وہ ایم ایل اے ہی نہیں ہیں تو پھر وزیر کے عہدے کی بات کہاں سے اٹھتی ہے۔ وہ تو کسان تحریک کی حمایت اور تین زرعی قوانین کے سلسلے میں اپنا استعفیٰ دے چکے ہیں۔ اب پارٹی کو مضبوط کرنے پر اپنی پوری توجہ مرکوز کریں گے۔ الیکشن میں کم وقت رہ گیا ہے اور جو ذمہ داری انہیں ہائی کمان نے سونپی ہے وہ بہت بڑی ہے۔


دریں اثناء سکھ پال سنگھ کھیرا اور کچھ دیگر ارکان اسمبلی نے رانا گرجیت سنگھ کو وزیر بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس شخص کو وزیر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اسے دوبارہ بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ان کے خلاف کئی مقدمات ہیں جن کی وجہ سے انہیں کابینہ سے نکالا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔