مسلمانوں کو بھی سماجی تبدیلی کی سخت ضرورت... ظفر آغا

بھلا اکیسویں صدی میں کوئی قوم اپنی آدھی آبادی یعنی عورتوں کو چہار دیواری میں قید کر کے ترقی کا تصور کر سکتی ہے، جبکہ اسلام نے ساری دنیا کو پہلی بار عورتوں کے حقوق دے کر آزادی نسواں کا پیغام دیا تھا

ہندوستانی مسلمان / Getty Images
ہندوستانی مسلمان / Getty Images
user

ظفر آغا

طالبان محض ایک سر درد ہی نہیں بلکہ خود مسلم سماج کے لیے ایک داغ ہیں۔ بھلا اس اکیسویں صدی میں کوئی قوم اپنی آدھی آبادی یعنی عورتوں کو چہار دیواری کے پیچھے قید کر ترقی کا تصور کر سکتی ہے۔ ادھر طالبان ہیں کہ عورتوں کو جدید تعلیم تک دینے کو تیار نہیں ہیں۔ اور وہ بھی اسلام کے نام پر۔ اسلام جس نے ساری دنیا کو پہلی بار عورتوں کے حقوق دے کر آزادی نسواں کا پیغام دیا تھا، اور اس طرح تاریخ میں پہلی بار اسلام کے ذریعہ عورتوں کے حقوق کی بات شروع ہو تھی۔ حضرت محمد سے اللہ نے سب سے پہلے جو سورہ پڑھوایا وہ ’اقرا‘ تھا۔ یعنی قرآن کا حکم تھا کہ پڑھو۔ اسی ذریعہ سے اللہ نے آگے واضح کیا کہ علم قلم کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ یعنی قرآن کی روشنی میں علم حاصل کرنا گویا مسلمان کے لیے واجب ٹھہرا۔ اور یہ حکم عورت اور مرد دونوں کے لیے ہی تھا۔ لیکن طالبان کا اسلام یہ کہتا ہے کہ نہیں ، عورت کے لیے علم حرام ہے۔ ادھر رسول اور قرآن کا یہ حکم کہ مسجد نبوی میں رسول کی جماعت میں عورت و مرد دونوں ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ کعبہ میں آج بھی حج کے موقع پر عورت و مرد ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ قرآن نے تو عورت کو خلا یعنی طلاق تک کا حق عطا کیا، جس کا تصور دنیا میں اس سے قبل تھا ہی نہیں۔ اور تو اور والدین اور شوہر کے مال و دولت میں حصہ دے کر اسلام نے عورت کو معاشی آزادی کا بھی راستہ دکھایا۔ لیکن طالبان قرآن اور رسول کے بتائے راستے پر چلنے کو تیار نہیں۔

لیکن پھر بھی مسلمانوں کے ایک طبقے میں آج بھی طالبان کے لیے ہمدردی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ آخر کیوں! بات یہ ہے کہ رسول اور اولین چار خلفاء کی موت کے بعد مسلم معاشرہ رسول اور قرآن کی قدروں سے بھٹکنا شروع ہو گیا اور مسلمان اقتدار کی سیاست میں دنیا پر حاوی ہو گیا۔ وہ خواہ بغداد کی عباسی خلافت ہو یا ترکی کی خلافت، یہ سب خلافتیں اپنے دور میں سپر پاور تھیں۔ جو حال آج امریکہ کا ہے، وہی حال میڈیویل دور میں مسلم خلافتوں کا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم سماج پر اسلامی قدروں کی جگہ میڈیویل دور کی زمیندارانہ اور قبائل قدروں کا اثر بڑھتا چلا گیا۔ ایسے معاشرے میں عورتوں کے حقوق تلف ہو گئے۔ آج طالبان اپنی قدروں کا پرچم بلند کر رہے ہیں، کیونکہ پورے مسلم معاشرے پر انہی زمیندارانہ اور قبائلی قدروں کے اثرات آج تک ہیں۔ اس لیے آج بھی ایک مسلم طبقہ میں طالبان کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ اس دور میں چلنے والا نہیں۔ دراصل مسلمانوں مین زمیندارانہ اور قبائلی قدروں کو توڑ کر ایک سماجی انقلاب کی ضرورت ہے، اور اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔

---


تصویر بشکریہ ٹوئٹر
تصویر بشکریہ ٹوئٹر

کانگریس ایک بڑی تبدیلی کے لیے تیار

پنجاب میں گزشتہ ہفتے وہ سیاسی ہلچل رہی کہ جس کے نتیجے میں امریندر سنگھ اقتدار سے باہر ہو گئے اور چرنجیت سنگھ چنّی صوبہ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے۔ اس طرح پنجاب کو کانگریس نے پہلے دلت وزیر اعلیٰ کا تحفہ دے دیا۔ کانگریس اعلیٰ کمان کی اس چال سے پارٹی کے اندر اور باہر سب حیرت زدہ رہ گئے۔ کیونکہ پنجاب کی یہ سیاسی روایت رہی ہے کہ وہاں اعلیٰ ذات کا جاٹ سکھ ہی وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوتا ہے۔ لیکن ایسے صوبہ میں اعلیٰ کمان نے ایک دلت چیف منسٹر دے کر اس روایت کو نہ صرف توڑ دیا بلکہ اپنے تمام حریفوں کو گویا گنگ کر دیا۔ کیونکہ یہ محض ایک سیاسی چال ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی سماجی تبدیلی کا بھی پیغام تھا۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ اس کے دور رس نتائج ہوں گے جس کے اثرات پورے ملک کی سیاست میں نظر آ سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے دو باتیں بالکل واضح ہو گئیں۔ سب سے پہلی بات جو ابھر کر آئی وہ یہ تھی کہ اب کانگریس پارٹی میں فیصلے خود راہل گاندھی کر رہے ہیں اور پارٹی پر ان کی گرفت مضبوط ہو چکی ہے۔ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ راہل ہی کانگریس کا مستقبل ہیں۔ یہ بات کسی کو پارٹی یا پارٹی کے باہر پسند یا ناپسند ہو لیکن اب راہل گاندھی ہی کانگریس کے کرتا دھرتا ہیں اور رہیں گے۔

کانگریس کا یہ فیصلہ محض پارٹی کے مستقبل ہی نہیں بلکہ تمام حزب مخالف کے مستقبل پر اثرانداز ہوگا۔ کیونکہ لیڈرشپ کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی میں جو کنفیوژن تھا اس کی وجہ سے حزب مخالف کی سیاست میں بھی کنفیوژن تھا۔ پنجاب میں راہل گاندھی نے جس طرح قدم اٹھایا اس سے یہ واضح ہو گیا کہ پارٹی کی کمان کس کے ہاتھوں میں ہے۔ ایسا لگتا ہے اب پارٹی میں صدارت کا فیصلہ بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اور بس پھر پارٹی ملک میں اپوزیشن کی سیاست کے لیے کمر کس کر میدان میں کود پڑے گی۔


پنجاب میں ایک دلت وزیر اعلیٰ منتخب کر ایک اور بہت اہم اشارہ دیا ہے۔ وہ یہ کہ کانگریس پارٹی ذات پات کے سنگین مسئلہ پر سیاست کرنے کو اب تیار ہے۔ دراصل سنہ 1990 میں منڈل سفارشات لاگو ہونے کے بعد سے ہی کانگریس میں ذات کے مسئلہ پر نہ صرف کنفیوژن تھا بلکہ کانگریس اس قسم کی سیاست سے پرہیز کر رہی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں منڈل اور کمنڈل جیسے ایشوز کا استعمال کر دوسری پارٹیوں کا ملک میں دبدبہ ہو گیا۔ اتر پردیش اور بہار جیسے اہم صوبہ بھی نہ صرف کانگریس کے ہاتھوں سے نکل گئے بلکہ فرقہ پرستی کا استعمال کر بی جے پی ملک کی سیاست پر حاوی ہو گئی۔ پنجاب میں ایک دلت وزیر اعلیٰ منتخب کر کانگریس پارٹی نے اب یہ واضح اشارہ دے دیا کہ منڈل کے بعد سے پچھلے تیس برسوں میں ملک میں جو سماجی تبدیلیاں آئی ہیں، پارٹی ان تقاضوں کے چیلنج کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔ اور یہ پارٹی کے لیے نظریاتی سطح پر ایک بڑا فیصلہ ہے جس کے دور رس نتائج خود پارٹی کے اندر اور پارٹی کے باہر جلد سامنے آ سکتے ہیں۔

...

پاکستان: چور کی داڑھی میں تنکا!

کہا جاتا ہے کہ چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ طالبان کے حوالے سے حکومت پاکستان کا بھی یہی حال ہے۔ سب سے پہلے تو پاکستان بین الاقوامی سطح پر طالبان جیسی حکومت کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اور ابھی گزشتہ ہفتہ ہی ہندوستان کو پریشان کرنے کے ارادے سے اس نے سارک میں افغانستان کی طالبان حکومت کی نمائندگی کا مطالبہ کر دیا۔ حکومت پاکستان اچھی طرح جانتی ہے کہ سارک میں ہندوستان سمیت بیشتر ممالک نے ابھی تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ پاکستان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے اور وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ بات واضح ہے کہ پاکستان سارک اجلاس کا انعقاد ہی نہیں ہونے دینا چاہتا۔ وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی اجلاس منعقد ہوتا ہے تو دہشت گردی کا مسئلہ ضرور اٹھایا جائے گا۔ ظاہر ہے، چور کی داڑھی میں تنکا! اب یہ مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان نے امریکہ میں ہونے والے سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہی منسوخ کرا دیا۔ نا رہے گا بانس اور نا بجے گی بانسری! یہ پاکستانی حکمت عملی تھی اور وہ اس میں کامیاب رہا۔


اگرچہ پاکستان کو اس معاملے میں کامیابی ملی ہے لیکن پوری دنیا بہت اچھی طرح سمجھتی ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں دہشت گردی کا مرکز ہے۔ اسامہ بن لادن ہو یا طالبان رہنما ملا عمر سب نے اپنی دہشت گردی کا آغاز پاکستان کی مدد سے کیا اور آخر کار وہیں دم توڑا۔ آج بھی القاعدہ ہو یا طالبان دونوں ہی خطرناک تنظیموں کا پاکستان سے گہرا تعلق ہے اور یہ دنیا کے لیے بڑی تشویش کا معاملہ ہے۔ افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے سے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کو زبردست حوصلہ ملا ہے، ایسی صورتحال میں عالمی برادری کا فرض بنتا ہے کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کے معاملے میں دنیا سے الگ تھلگ کر دے۔ چونکہ پاکستان کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کا سب سے بڑا ہدف ہندوستان رہا ہے، لہذا ہندوستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہل کر کے پاکستان کو اس معاملے میں بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کرے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 26 Sep 2021, 12:52 PM