آسام پولیس کی وحشیانہ کارروائی: ’مجھے میرا بیٹا لاکر دے دو‘... نواب علی اختر

حالیہ کچھ سالوں میں پولیس بے لگام ہوگئی ہے، اس کا احتساب کیا جانا ناگزیر ہے، بصورت دیگر کل کسی دوسرے شہر میں غریب لوگ خون کے آنسو روتے ہوئے دیکھے جائیں گے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

آسام کے دھول پور میں پر امن مظاہرہ کر رہے لوگوں پر پولیس فائرنگ اور انہیں بے گھر کر کے ریاست کی بی جے پی حکومت ضرور ’جشن‘ منا رہی ہوگی مگر اپنے سینے میں دل رکھنے والا ہر انسان پولیس انتظامیہ کی اس غیر انسانی اور ظلم وجبر پر مبنی کارروائی پر آنسو بہا رہا ہے جس کی وجہ سے معصوم بچے اور خواتین پر مشتمل تقریباً ایک ہزار خاندان بھوکے پیاسے کھلے آسمان زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ یہ واقعہ انتہائی درد ناک اور تکلیف دہ ہے کیونکہ آج 4 روز بعد بھی آسام کے درنگ ضلع کے 3 نمبر دھول پورگاوٗں میں برہم پتر کی معاون ندی سوتا کے ساحل پر ایک عارضی ٹھکانے سے وقفہ وقفہ پر چھوٹے بچوں اور خواتین کے رونے کی آوازیں آرہی ہیں۔

کچھ روز پہلے اس گاوٗں کے لوگ معمول کی زندگی گزار رہے تھے لیکن 23 ستمبر کو آسام کی بی جے پی حکومت کے حکم پر ’ناجائز قبضہ‘ کے خلاف پولیس کی وحشیانہ کارروائی اور گاؤں والوں کے ساتھ پرتشدد جھڑپ کے ساتھ درندگی نے پورے گاوٗں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ کہیں لوگوں کی جلی ہوئی بائیک اور سائیکل نظر آرہی ہے تو کہیں منہدم کئے گئے مکان کے باہر برتن اور فرنیچر انتظامیہ کے ظلم کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری تصاویر میں اپنے اجاڑے گئے آشیانے کے باہر خواتین اپنا ٹوٹا پھوٹا اور بچا ہوا سامان تلاش کرتے دیکھ کر دل لرز جاتا ہے مگر وائے ہو ان حیوان صفت انسانوں پر جنہوں نے مسلم دشمنی میں درندگی کی تمام حدیں پار کر دیں۔


سوتا ندی کے ساحل پر بسے گاوٗں کے کچھ لوگوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں، بزرگوں اور خواتین کے ساتھ ایلومینیم کی چادر سے بنے عارضی چھت کے نیچے ڈیرا ڈال رکھا ہے۔ انہیں میں سے ایک ٹھکانے کے باہر کسی کے رونے کی آواز سن کر موقع پر پہنچے کچھ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جب انہیں پتہ چلا کہ یہ معین الحق کا خاندان ہے جن کو جمعرات کے روز پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ 28 سال کے معین الحق کو گولی مارنے اور پولیس کے ساتھ موجود ایک کیمرہ مین کے ان پر تشدد کرنے اور مقتول کے نیم مردہ جسم پر کودنے کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس کے بعد موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو جم کر لعنت ملامت کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

معین الحق کی ضعیف ماں مومنہ بیگم کا رو رو کر برا حال ہے۔ وہ تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص سے روتے ہوئے صرف ایک ہی بات کہتی ہیں کہ’ مجھے میرا بیٹا لاکر دے دو‘، ان لوگوں نے میرے بیٹے کے پیٹ میں گولی مارنے کے بعد اسے لاتوں سے بھی مارا، لوگ اس کے سینے پر کود رہے تھے۔ ایک ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کا یہ حال کیسے دیکھ اور برداشت کرسکتی ہے، میں نے وہ ویڈیو نہیں دیکھا لیکن مجھے گاوٗں کے لوگ آکر بتاتے رہتے ہیں کہ معین الحق کو مارنے کے بعد وہ لوگ اسے گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ معین الحق کے تین چھوٹے بچے ہیں جو اپنی 60 سالہ ماں، بیوی ممتا بیگم اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دہاڑی مزدوری کرتا تھا۔ اب ان کا خیال کون رکھے گا؟


انتظامیہ نے مہاجر اور سرکاری زمین پر قابض کہہ کر ان لوگوں کو وہاں سے ہٹانے کے لیے کارروائی کی بات کہی ہے جب کہ معین الحق کی ماں کا کہنا ہے کہ جب سے ان کا بیٹا گیا ہے، کسی نے کھانا نہیں کھایا ہے، ان لوگوں نے ہمارا گھر تباہ کر دیا اور میرے بیٹے کو بھی مار دیا، ہم اسی ملک کے شہری ہیں، یہی ہماری زمین اور گھر تھا۔ میری پیدائیش اسی ملک میں ہوئی ہے، ہم سبھی کا نام این آرسی میں آیا ہے، پھر ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ آسام حکومت کی ہدایت پر پولیس کے ظلم وبربریت سے کئی بے گناہ خاندان برباد کر دیئے ہیں، حالیہ کچھ سالوں میں پولیس بے لگام ہوگئی ہے، اس کا احتساب کیا جانا ناگزیر ہے بصورت دیگر کل کسی دوسرے شہر میں غریب لوگ خون کے آنسو روتے ہوئے دیکھے جائیں گے۔

تمام قانونی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی ذمہ داریوں کو نظر کرتے ہوئے آسام کے 900 سے زیاد ہ بسنے والے خاندانوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ بے دخل کئے جانے کا عمل انجام دیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ انتہائی کسمپرسی میں ہیں۔ انہیں فوری طور پر خوراک، پناہ گاہ اور قانونی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ بے گھر لوگ دہشت گرد نہیں تھے، یہ لوگ جمہوری طریقے پر مظاہرہ کر رہے تھے جنہیں پولیس نے نے سامنے سے گولی ماری ہے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور کئی شدید زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کی مکمل ذمہ داری آسام کی ریاستی حکومت کو لینی چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ اس طرح کے ظالمانہ حملے کے متعلقہ عہدیداروں اور پولیس افسروں کو سزا ملے۔


دیکھا جائے تو جب سے آسام میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، مسلم اکثریتی آبادی والے رہائشی علاقوں میں ہزاروں لوگوں کو ظلم و جبر کے ساتھ بے دخل کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اب سے تقریباً تین ماہ قبل دھبری ضلع میں 300 خاندانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا تھا۔ دو سال پہلے بسوا ناتھ ضلع کے چوٹیا علاقے سے 445 خاندانوں کو بے گھر کیا گیا تھا۔ آسام پولیس کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر سے جاری رپوٹ کا مطالعہ کرنا چاہئے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری کو حق آزادی کے ساتھ مناسب رہائش کا بھی حق حاصل ہے۔ شہریوں کو جو حقوق حاصل ہیں انہیں فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

ہندوستان نے اس بین الاقوامی قانون کی توثیق کی ہے جس میں رہائش کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے بھی اپنے کئی فیصلوں میں مانا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 21 جس میں ہر شہری کو محفوظ زندگی کا حق دیا گیا ہے، اس سے بھی ہر ایک کو مناسب رہائش کا انسانی حق حاصل ہوتا ہے۔ تاہم آسام میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہاں کی بی جے پی حکومت اس قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کی پرواہ نہیں کر رہی ہے۔ یہ غریبوں اور بے گھروں پر ناجائز قابضین اور غیرقانونی باشندوں کے طور پر الزام لگا کر ترقی کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ بے دخل کئے جانے کا یہ رویہ ہمارے آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔