’ایران کے ساتھ جنگ بندی پر مذاکرات شروع کریں‘، ڈیموکریٹس اراکین پارلیمنٹ نے امریکی صدر ٹرمپ پر بنایا دباؤ
ڈیموکریٹس اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے تباہ کن اقدامات نے بہت سے لوگوں کو امریکہ کے خلاف کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فوجی کارروائی سے ایران کے اقتدار میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری افراتفری کے دوران امریکہ کے ڈیموکریٹ اراکین پارلیمنٹ، یعنی قانون سازوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ معاملہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود ٹرمپ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس جنگ کے دوران بھاری جانی و مالی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے قانون سازوں نے فوری طور پر جنگ بندی اور سفارتی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹس قانون سازوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے خبردار کیا کہ مستقبل میں اس جنگ کی انسانی، اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی قیمت بہت بھاری پڑسکتی ہے۔ قانون سازوں نے گزشتہ شب صدرٹرمپ کے قوم سے خطاب سے قبل اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔
امریکی سینیٹ کے سینئر قانون ساز گریگوری میکس، ایڈم اسمتھ اور جم ہائمس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف یہ جنگ اپنی مرضی سے شروع کی ہے۔ جنگ شروع ہوئے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ٹرمپ اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے قریب بھی نہیں پہنچے ہیں۔ قانون سازوں کا یہاں تک کہنا تھا کہ اس فوجی کارروائی سے ایران کے اقتدار میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایران اب بھی جوہری پروگرام جاری رکھنے، میزائل تیار کرنے کے قابل ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ ایرانی عوام کو کوئی راحت دینے میں بھی ناکام رہے ہیں۔
جنگ میں جان و مال کے انسانی اور مادی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی قانون سازوں نے بیان میں مزید کہا کہ اب تک 13 امریکی فوجی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہو ئے ہیں۔ جنگ میں اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ اور فوجی ساز وسامان برباد ہوگئے ہیں یا شدید نقصان پہنچا ہے۔ وہیں انسانی نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے قانون سازوں نے کہا کہ ہزاروں ایرانی شہری مارے گئے ہیں جن میں 150 سے زائد اسکول کی طالبات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کے تباہ کن اقدامات نے بہت سے لوگوں کو امریکہ کے خلاف کر دیا ہے جو فکر انگیز ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل، کھاد اور ہیلیم جیسی ضروری اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے امریکہ اور عالمی معیشت بری طرح اثر انداز ہوا ہے۔ ڈیموکریٹس قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ ملک کو بتائیں کہ یہ جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی۔ انہوں نے صدر پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ایران کے ساتھ جنگ بندی پر مذاکرات شروع کریں۔ قانون سازوں کے مطابق اس تباہ کن جنگ کو روکنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔