کیا ایران-اسرائیل کشیدگی کم ہونے جا رہی ہے؟ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو تیل تنصیبات پر حملوں سے روکا
مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے ایران کی تیل اور توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل کی ہے، تاکہ ایرانی عوام اور جوابی کارروائی سے عالمی تیل بازار متاثر نہ ہوں

مغربی ایشیا میں جاری شدید جنگ کے دوران ایک اہم سفارتی موڑ سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ وہ ایران کی تیل اور توانائی سے متعلق بنیادی تنصیبات کو مزید نشانہ نہ بنائے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ دس دن سے جاری مشترکہ کارروائیوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ نے اسرائیل کو ایسے حملوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے، جسے بعض مبصرین کشیدگی کم کرنے کے ایک ممکنہ اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کے کئی علاقوں میں زہریلے دھوئیں کے بادل چھا گئے تھے۔ بعض مقامات پر تیزابی بارش جیسی صورتحال کی خبریں بھی سامنے آئیں، جس سے عام شہریوں کی صحت پر سنگین اثرات کے خدشات پیدا ہوئے۔ انہی خدشات کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ایران کے تیل کے ذخائر اور توانائی کے ڈھانچے پر حملوں سے گریز کیا جائے۔
امریکی حکام کا ماننا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے سے ایرانی عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنا ہے، نہ کہ انہیں ضروری سہولیات سے محروم کر دینا۔ اس پس منظر میں امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اگر توانائی کے شعبے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تو اس کے اثرات عام شہریوں پر زیادہ پڑیں گے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق اسرائیل کو روکنے کے پیچھے واشنگٹن کے تین بڑے خدشات بھی بیان کیے جا رہے ہیں۔ پہلا خدشہ یہ ہے کہ ایرانی عوام، جو موجودہ حکومت سے ناراض بتائے جاتے ہیں، انہیں مزید مشکلات میں نہ ڈالا جائے۔ دوسرا پہلو یہ بتایا جا رہا ہے کہ مستقبل میں ایران کے تیل کے شعبے کے ساتھ ممکنہ معاشی تعاون کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم خدشہ یہ ہے کہ اگر ایران کے توانائی کے مراکز پر حملے جاری رہے تو تہران خلیجی ممالک کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے عالمی تیل بازار میں شدید ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ ایران کے تیل کے مراکز پر حملوں کو ایک انتہائی قدم سمجھتے ہیں جسے وہ “قیامت کا اختیار” قرار دیتے ہیں اور اسے صرف اسی صورت میں استعمال کرنے کے حق میں ہیں جب ایران جان بوجھ کر خلیج کے تیل مراکز پر حملہ کرے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم پر بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے عالمی تیل رسد کو نقصان پہنچایا تو اسے کہیں زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی اس معاملے میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اہداف کے انتخاب میں اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ ایرانی عوام کو آزادی دینا مقصد ہے، جبکہ مستقبل میں ایران کی تیل معیشت عوام کے بہتر حالات کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے ایندھن کے ذخائر یا توانائی کے مراکز کو نشانہ نہیں بنایا۔ وائٹ ہاؤس، واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے اور اسرائیلی فوج نے اس معاملے پر فی الحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران اتحادی ممالک کے درمیان حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات کا یہ پہلا نمایاں اشارہ ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔