امریکی۔اسرائیلی حملے کے بعد ایران کے ردعمل نے واشنگٹن کے اندازے غلط ثابت کیے: رپورٹ

سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ وزیر دفاع نے بھی اعتراف کیا کہ ایران کے سخت جوابی حملے نے پینٹاگون کو کسی حد تک حیران کردیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ&nbsp;ٹرمپ </p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 کئی ممالک کو جنگ کے میدان میں گھسیٹنے اور بھاری جان ومال کی تباہی کے الزامات کا سامنا کرنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے امریکی اسرائیلی حملے پرایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل کا غلط اندازہ لگایا ہے۔ یہ سنسنی خیز دعویٰ ’نیویارک ٹائمز‘ نے کیا ہے۔ امریکہ کے بڑے میڈیا گروپ ’نیویارک ٹائمز‘کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے کم اندازہ لگایا کہ امریکہ۔ اسرائیل حملے کا ایران کیا جواب دے گا۔

رپورٹ کے مطابق حملے سے پہلے ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کر دیا تھا کہ جنگ سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکی توانائی کے سکریٹری کرس رائٹ نے فروری میں کہا تھا کہ انہیں مارکیٹ میں رکاوٹ کی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے کی اسٹرائک کے دوران تیل کی قیمتیں کچھ دیر کے لیے ہی بڑھی تھیں اور پھر مستحکم ہوگئی تھیں۔


کچھ مشیروں نے مبینہ طور پر ان انتباہات کو خارج کر دیا کہ ایران اقتصادی جنگ کے ساتھ جوابی کارروائی کر سکتا ہے جس میں دنیا کی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد لے جانے والے جہاز رانی کے راستے کو روکنا بھی شامل ہے۔ اس کارروائی سے خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور سپلائی کی رفتار کافی کم ہو گئی ہے۔ امریکہ اب ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں اپنے اڈوں پر میزائل حملوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبے بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔

ایران نے گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز جوابی کارروائی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے امریکی فوجی اڈوں، عرب شہروں اور اسرائیلی بستیوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ خلیجی خطے میں جہاز رانی کی آمدورفت میں کمی کے ساتھ انتظامیہ اب گھریلو سطح پر بڑھتی ہوئی گیس کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔


سینیٹر کرس مرفی نے انکشاف کیا ہے کہ انتظامیہ کے پاس آبنائے ہرمز کو بحفاظت دوبارہ کھولنے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اعتراف کیا کہ ایران کے سخت جوابی حملے نے پینٹاگون کو کسی حد تک حیران کردیا ہے۔ انتظامیہ کے اندر کچھ اہلکار اب جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی محسوس کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کے مطابق جہاں ٹرمپ ایران میں قیادت جیسی بڑی مانگ کررہے ہیں وہیں وزیرخارجہ مارکو روبیو اور سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ محدود اہداف کی بات کر رہے ہیں جس سے سفارتی راستے سے جنگ سے نکلا جاسکے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے انتظامیہ کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے تیل کی منڈی کو ایران کے خطرے  سے آزاد کرنا ضروری ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔