عظیم مجاہدِ آزادی شہید نواب خان بہادر خان، 161ویں یوم شہادت پر خصوصی پیش کش

خان بہادر خان 1781ء میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام ذوالفقار علی خان تھا جو روہیلہ سردار حافظ رحمت خان کے فرزند تھے ان کا ننہیال کٹیہار میں تھا۔

تصویر بذریعہ شاہد صدیقی علیگ
تصویر بذریعہ شاہد صدیقی علیگ
user

شاہد صدیقی علیگ

کس کس جگہ سے بیاض وطن سے مٹاؤ گے

ہر ہر ورق پہ مہر وفا کر چکے ہیں ہم

ہندوستان کی پہلی ملک گیر جہدو جد آزادی 1857ء میں جن شخصیات نے ہراول دستہ کا کردار ادا کیا ہے ان میں روہیلہ نواب خان بہادر خان کا نام حرف زریں سے درج ہے، جنہوں نے اپنی فراست، دانائی اور حکمت عملی سے انگریزوں کو دن میں تارے دکھا دیئے تھے مگر شہر میں بیٹھے آستین کے سانپوں نے خان بہادر خان کی مہم کو اس کے انجام تک پہنچنے نہیں دیا۔ آخرکار ملک کے دیگر محاذوں کی طرح روہیل کھنڈ میں بھی انقلابیوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا اور 24؍ مارچ 1860ء کو انقلاب کے روح رواں خان بہادر خان کو سخت پہرے میں سٹی چھاؤنی سے کوتوالی پیدل لے جاکر صبح سات بج کر دس منٹ پر پھانسی دے دی گئی، انہیں بغیر کفن کے ہی ہتھکڑی اور بیڑی سمیت ضلع جیل میں دفن کر دیا گیا، کیونکہ انگریزی حکومت کو خدشہ تھا کہ اگرا س عظیم انقلابی کی تدفین باہر کی گئی تو ان کا مزار انقلابیوں کا گڑھ نہ بن جائے۔

خان بہادر خان 1781ء میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام ذوالفقار علی خان تھا جو روہیلہ سردار حافظ رحمت خان کے فرزند تھے ان کا ننہیال کٹیہار میں تھا والد کا سایہ اٹھ جانے پر خان بہادر بریلی شہر میں آباد ہوگئے اور بھوڑ محلے میں نواب کٹھرے پر رہائش اختیار کرلی۔ ان کی شادی شاہجہاں پور کے میران پور کٹرا کے کمال خاں کی بیٹی ممتاز سے ہوئی تھی۔ خان بہادر خان برطانوی عدالت میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز تھے، انہیں ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے دو پنشن ملتی تھیں۔ ایک برطانوی حکومت کے ریٹائرڈ جج اور دوسرا حافظ رحمت خان کے خاندانی فرد کے حیثیت سے، لیکن انہوں نے مادر وطن کو برطانوی شکنجہ سے آزاد کرانے کے لیے شاہانہ زندگی چھوڑ کر انقلابی سنگلاخ راہوں کا انتخاب کیا اور آخری سانس تک انگریزی حکومت سے حیات مستعار کی بھیک نہیں مانگی۔

تصویر بذریعہ شاہد صدیقی علیگ
تصویر بذریعہ شاہد صدیقی علیگ

خان بہادر خاں دیگر انقلابی رہنماؤں کے ہمراہ تحریک آزادی کی مہم کے تانے بانے بن رہے تھے لیکن انگریزی کمشنر کے اعتماد کو آخری وقت تک برقرار رکھا۔ انہوں نے انگریز حکام سے اشاروں ہی اشاروں میں کہہ دیا تھا کہ ان لوگوں کے لئے اچھی بات ہوگی کہ وہ اپنی جان بچانے کے بعد بھاگ جائیں۔ اگرچہ دہلی اور میرٹھ کی خبریں بریلی میں مئی کے دوسرے ہفتہ میں پہنچیں، لیکن وہاں معمول کے کام بدستور جاری رہے۔ پریڈ بھی حسب دستور جاری رہی لیکن قرب وجوار کی خبریں سن کر بریلی کے برطانوی افسران میں گھبراہٹ پیدا ہوگئی، تو مصلحت یہ قرار پائی کہ سب میموں اور بچوں کو کسی بہانے روانہ کر دینا چاہیے۔ 20؍ مئی تک سب نینی تال چلے گئے۔ میرٹھ، بجنور، مرادآباد اور بدایوں اضلاع کی فضا کو دیکھ کر 30؍ مئی 1857ء کو الیگزینڈر نے خان بہادر خان کو بلاکر یہاں کی کمان سنبھالنے کو کہا کہ:

امروز فردا میں یہاں بلوہ ہونے والا ہے چونکہ یہ ملک آپ لوگوں کا موروثی ہے آپ اس کا بندوبست کیجیے۔ کمشنر کی اس پیش کش کو خان بہادر خاں نے ٹھکرا دیا۔ یہاں متعین تاریخ 31؍ مئی 1857ء کو ہی انقلاب کا بگل بجا۔ انقلابیوں نے جیل کا پھاٹک توڑ کر تین ہزار قیدی آزاد کر دیئے۔ کوتوالی کے سرکاری دستاویز کو نذر آتش کر دیا، خزانہ لوٹ لیا۔ اسلحہ خانے پر بھی قبضہ کرلیا۔ کوٹھیوں اور بنگلوں کو زمین دوز کر دیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے برطانوی عملداری کا بریلی سے خاتمہ ہوگیا۔ الیگزینڈر کمشنر اور مجسٹریٹ سمیت تمام انگریز جان بچاکر بھاگے۔ بریلی میں باہمی اتفاق سے خان بہادرخاں کو حاکم اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ انگریزوں سے قبل یہاں ان کے آباوء اجداد کا ہی اقتدار تھا۔ اپنی کبر سنی کی وجہ سے انہوں نے انکار کیا، لیکن صوبہ دار بخت خاں، دیوان شوبھارام، پٹھان مبارک شاہ خان، جے پال سنگھ کے عہدوپیماں پر بالٓاخر عنان حکومت سنبھال لی۔


خان بہادر خان کی دانشمندی سے بریلی امن وامان کا گہوارہ بن گیا۔ 21؍ جون 1857 کو مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر نے خان بہادر خان کو نواب انتظام الدولہ خاں بہادر تنویر جنگ رئیس اعظم روہیل کھنڈ کے خطاب سے نوازا۔ دلّی سے سند ملنے کے بعد خان بہادر خان نے مغل صوبہ دارکی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دینے شروع کر دیئے۔ ملکی و معاشی حالات کے لیے کونسل تشکیل دی گئی۔ فوج میں بھرتی کا آغاز ہوا، توپوں اور سکوں کی ڈھلائی کا کام شروع ہوا، تھانے اور تحصیلیں قائم ہوئیں، انقلابی انتظامیہ عوام میں جوش، اتحاد اور مالی تعاون حاصل کرنے کے لیے اعلامیہ جاری کرتے رہتے جو شہر کی چنندہ جگہوں پر چسپاں کر دئیے جاتے تھے جن کی طباعت اور اشاعت بریلی کالج میں فارسی کے استاد مولوی قطب شاہ اپنی پریس مطب بہادری سے شائع کرتے تھے۔ خان بہادر خان نے اپنی فوجوں کو دلّی سمیت ملک کے دیگر مقامات پر بھی لڑائی کے لیے بھیجا۔

لیکن انگریز خان بہادر خاں کی ہر سرگرمی پر عمیق نظر رکھے ہوئے تھے جو ڈیوائیڈ اینڈ رول یعنی پھوٹ ڈالو اور راج کرو کے پرانے کھلاڑی تھے چنانچہ انہوں نے 1857ء کے اواخر میں ہندو مسلم فرقہ وارانہ فساد کرانے کے لیے 50,000؍ روپے مختص کردیئے، لیکن ہندو ومسلم اتحاد کے آگے ان کا یہ زہریلا ہتھیار بھی کند ہوگیا، مگر وہ مایوس نہیں ہوئے کیونکہ انگریزوں کے ہمدرد نواب رام پور کے علاوہ غدار ِوطن بریلی کی ہر شاخ پر بیٹھے تھے، مصرا بیج ناتھ، اور لچھمی نرائن وغیرہ کے گروہ نے مفرور انگریزوں کو ہر طرح کی مدد مہیا کرائی، انہیں نینی تال روپیہ بھیجا، ایسے واقعات کو دیکھ کر خان بہادر خان کو احساس ہوگیا کہ شہر میں کچھ وطن فروش موجود ہیں، چنانچہ انہوں نے انگریزوں کے خفیہ تنتر کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی، مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔

تصویر بذریعہ شاہد صدیقی علیگ
تصویر بذریعہ شاہد صدیقی علیگ

خان بہادر خان کی حکومت تقربیاً ایک سال رہی، اس دوران بریلی میں مولوی احمد اللہ شاہ عرف ڈنکا شاہ، شہزادہ فیروز شاہ، نانا صاحب، نواب ولی داد خاں اور نواب اسماعیل خاں وغیرہ کی فوجیں جمع ہوگئی تھیں، جس کے خیمے بریلی کالج میں لگائے گئے۔ دلی، پنجاب اور راجستھان کو اپنے پیروں تلے روندنے کے بعد انگریزی فوج اپنے ہندوستانی حواریوں کے ساتھ روہیل کھنڈ کی جانب بڑھی، اگرچہ خان بہادر خان کے پاس بریلی سے محفوظ نکلنے کا موقع تھا لیکن غیور روہیلوں کی رگوں میں دوڑنے والے لہو نے بغیر مقابلہ کیے کنارہ کشی اختیار کرنے کی اجازت نہ دی، چنانچہ 4 ؍مئی کو انہوں نے فوجی صفوں کو درست کیا۔ 5؍مئی 1858ء کو جدید اسلحہ سے آراستہ، تجربہ کار سر کولن کی فوج اور انقلابیوں کے مابین بریلی میں نکٹیا ندی کے کنارے قوی قوت آزمائی ہوئی۔ خان بہادر خان کی سربراہی میں لشکر جرار نے انگریزوں کو نہلے پہ دہلا جواب دیا، لڑائی میں خان بہادر خان کے متعدد ارکان خاندان شہید ہوئے۔

لیکن عیار فرنگیوں سے دو بدو لڑنا سوائے نقصان کے کچھ نہ تھا۔ اس لیے انقلابی رہنماؤں کی مشاورت میں طے پایا کہ اب ان سے گوریلا جنگ کی جائے، مگر کچھ جانثارانِ وطن نے قدم ہٹانے کے بجائے موت کو ترجیح دی، لیکن بد قسمتی سے 6؍ مئی کو انگریزی کمانڈر جان کے تازدہ دم دستے نے بریلی پر مخالف سمت سے حملہ کیا تو انقلابی درمیان چکّی کے پاٹوں کے طرح پھنس گئے، لہٰذا انہوں نے شہر چھوڑنے اور پیلی بھیت چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ الحاصل 7؍ مئی کو بریلی پر دوبارہ یونین جیک لہرانے لگا۔ خان بہادر خان پیلی بھیت سے ترائی کے جنگلات میں نکل گئے لیکن، نیپال کے راجہ جنگ بہادر نے انہیں دھوکہ دے کر انگریزوں کے حوالے کر دیا، انہیں پھر لکھنؤ لایا گیا۔


جب کرنل برو نے خان بہادر خان سے پوچھا۔ تم نے اس سن پیری میں حکومت سے بغاوت کیوں کی۔؟ تو انہوں نے جواب دیا۔’’تم نے ہمارا ملک چھین لیا تھا۔ تمہاری فوج نے ہمارا سامنا کیا تھا۔ جب تم بھاگے تمہاری فوج نے ہمیں مستحق ریاست سمجھ کر حاکم ریاست کر دیا۔ ہم اسے عنایت خدا سمجھے کہ اپنے حق کو پہنچے اب تمہارے قابو میں آئے اختیار ہے جو چاہے کرو۔‘‘ کرنل برو نے حکم دیا کہ تمہاری سماعت بریلی میں ہوگی۔ چنانچہ یکم جنوری 1860ء میں بریلی لائے گئے۔ نمائشی چارہ جوئی کے بعد کمشنر رابرٹ نے خان بہادر خان کو 22؍فروری 1860ء کو پھانسی کی سزا سنائی، جب انہیں تختہ دار پر لایا گیا تو انگریز کمشنر گفتگو کرنے لگا توخان بہادر خان نے فرمایا کہ ’’دیر لگانے کی ضرورت کیا ہے۔؟‘‘ جب آخری وصیت کے بارے میں دریافت کیا تو یہ شعر پڑھا۔

بہ جرم کلمہ حق ہے کشندہ غوغائے است

زمرگ زند گیم ہے شود تماشائے است

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔