بہادر شاہ ظفر: ’دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں‘ یوم ولادت کے موقع پر

27؍جنوری 1858ء کو ایک خود ساختہ ملٹری کمیشن نے بہادر شاہ ظفر کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا۔ جس کی کارروائی لال قلعے کے دیوان خاص میں 42 روز چلی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

شاہد صدیقی علیگ

آخری مغل بادشاہ ابوظفر سراج الدین بہادر شاہ غازی ظفرؔ (دوئم ) 24؍اکتوبر 1775ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام اکبر شاہ ثانی اور والدہ کا نام لال بائی تھا جوا یک راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، انہوں نے اردو، عربی، فارسی، زبانوں کے ساتھ گھوڑ سواری، تلوار بازی، تیراندازی اور بندوق چلانے میں کافی مہارت حاصل کرلی تھی، بہادر شاہ ظفر 1837 ء میں 62 سال کی عمر میں تخت نشیں ہوئے وہ ایک عظیم شاعر، خطاط، نیک، پرہیزگاراور غیرمتعصب شخصیت کے مالک تھے، بہا در شاہ ظفر بھی اپنے پیش روؤں کی طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک پنشن خوار حکمراں تھے، ان کے والد اکبر شاہ ثانی اپنی بیگم ممتاز محل پر اپنی جان چھڑکتے تھے جو مرزا جہانگیر کو ولی عہد بنانے کے لیے خواہشمند تھیں لیکن حالات نے ایسی کروٹ لی کہ خود بہ خود ان کی جانشینی میں حائل کانٹے صاف ہوگئے۔

بہادر شاہ ظفر نے 1840ء میں زینت محل کو اپنا شریک حیات بنایا جن کے بطن سے اکلوتی اولاد مرزا جواں بخت پیدا ہوئے، زینت محل بادشاہ سلامت کی نہ صرف سب سے چہیتی بیگم تھی بلکہ ان کی مشیر خاص بھی تھی، زینت محل اپنے نور نظر مرزا جواں بخت کو علامتی بادشاہ کا ولی عہد بنانے کے لئے بہت کوشاں رہی، شومیٔ قسمت تینوں نے دلّی سے بہت دور رنگون میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔

بہادر شاہ ظفر کو حکومتی امور کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی دلچسپی تھی، وہ چار دیوان تخلیق کرچکے تھے، ناسازگار حالات کے باوجود بادشاہ سلامت اہل سخن اور ارباب فن کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے، قلعہ معلی میں شعروشاعری کی محفلیں آراستہ ہوتی رہتی تھیں، جس میں اس وقت کے نام چین شاعر شیخ ابراہیم ذوق، اسد اللہ خاں غالب، مومن خاں، مولانا صبہائی، پنڈت سکھا نند، مرزا نازنین، احمد علی تشنہ اور الیکزنڈر جیسے شعراء شریک ہوتے تھے۔

10؍مئی 1857ء کو ہندوستانی سپاہیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی درازدستی، دوغلی پالیسی اور مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت کے خلاف میرٹھ میں بغاوت کا بگل بجا یا جو انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کی پہلی ملک گیر جدوجہد تھی، 11؍مئی 1857ء کو باغی سپاہی انقلاب کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے بہادر شاہ ظفر کے حضور میں پیش ہوئے 82؍سالہ آخری مغل تاجدار ہند نے اپنی کبر سنی اور بیماریوں کے سبب انقلابی عنان سنبھالنے سے گریز کیا، سپاہیوں اور کمپنی کے مابین گلے شکوے دور کرنے کے لیے ثالثی کردار ادا کر نے کی پیش کش کی، لیکن سپاہی ہر حالت میں وطن عزیز سے انگریزوں کو بھگانے کے درپے تھے، وہ راضی نہ ہوئے، الحاصل بادشاہ سلامت نے انقلابی تحریک کی باگ ڈور سنبھالی اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، بادشاہ سلامت کے معتدد اقدامات نے باغی فوجیوں کے حوصلوں میں ایک نئی روح پھونکی، چنانچہ دلّی میں کثرت سے غازیان ہند کے جتھوں کا تانتا بندھ گیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ غیرملکی سوداگروں کو اس بات کا پورا علم تھا کہ وہ ہندوستانی غیور عوام سے سیدھی جنگ میں کبھی بھی جیت حاصل نہیں کرسکتے، چنانچہ انہوں نے ہڈسن کی نگرانی میں ایک شعبہ خبر رسانی کا محکمہ قائم کیا جس نے دلّی کے چپے چپے پر اپنے مخبروں کا ایک وسیع جال بچھا دیا، مرزا الہی بخش، منشی جیون لعل، حکیم احسن اللہ، محبوب علی، کوتوال معین الدین، مبارک شاہ اور جاٹ مل وغیرہ نے بے لوث وطن پرستوں کی قربانیوں کو خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جنہوں نے بادشاہ سلامت کی چہیتی بیگم زینت محل کو بھی شیشے میں اتار لیا کیونکہ بادشاہ کی چہیتی بیگم زینت محل مرزا جواں بخت کو ولی عہد بنوانا چاہتی تھیں، تمام ضمیر فروشوں کو ایک دھاگے میں پیرونے کا کام شیطان صفت سید مولوی رجب علی کے ذمہ تھا۔

2 جولائی 1857ء کو بریلی سے ایک تجربہ کار افسر بخت خاں وارد دہلی ہواجس کی آمد انگریزی اعلیٰ حکام کے منصوبوں پر بجلی بن کر گری جو انگریزی فتح میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہوگیا، بخت خاں نے محصور دلّی کو پٹری پر لانے کی پوری تگ ودو کی، جس میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی رہا، بخت خاں کی کمان میں انقلابیوں نے فرنگیوں کو دلیری اور بہادری سے دن میں تارے دکھا دیئے لیکن حریت پسندوں کو ایک ساتھ متعدد محاذ پر لڑنا پڑ رہا تھا ایک پیٹ کی آگ، دوسری گولہ بارود کی کمی اور سب سے بڑی انگریزوں کے مخبروں کی بھیڑیں جو ہر شاخ پر الّو کی طرح بیٹھی تھی،اگرچہ انگریزی خیر خواہوں کو ان کے بد بختانہ اعمال کی سزا برابر مل رہی تھی، لیکن انقلابی لاکھ کوششوں کے باوجود مخبروں کے خفیہ تنتر کو توڑ نہیں سکے۔ بہادر شاہ ظفر نے ہندوستان کے اوپر منڈلاتے ہوئے خطرہ کو بھانپتے ہوئے راجپوتانہ سمیت تمام ریاستوں کو تعاون کے لیے خطوط روانہ کیے۔

’’میری خواہش ہے کہ فرنگی جس طرح بھی ممکن ہو ہندوستان سے نکال دیئے جائیں اور ملک آزاد ہو لیکن آزادی کی جنگ اس وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب ایک قابل شخص جو تحریک کا تمام بار اپنے کاندھوں پہ لے کرمنتشر قوتوں کو منظم کرسکے اور اس بغاوت کی رہنمائی کے لیے آگے بڑھیں، میں ذاتی طور پر حکومت کی کوئی خواہش نہیں رکھتا اگر تم دیسی راجگان اپنی تلوار دشمن کے خلاف بے نیام کرنے کو تیار ہو تو میں ان کے حق میں شہنشاہی سے مستعفی ہوجاؤں گا۔

اس طرح انہوں نے کشادہ قلبی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے تخت وتاج سے دستبرداری کی منشا بھی ظاہر کردی تھی لیکن ان حکمرانوں نے ان کی صدا پہ لبیک نہیں کہا کیونکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دنیا ’چڑھتے ہوئے سورج کو سلام کرتی ہے‘ البتہ ان انگریز ہوا خواہوں کو ملک کی غلامی کا ذرا بھی احساس نہیں تھا، افسوس صد افسوس وہ غیر جانبدار بھی نہ تھے بلکہ یہ مفاد پرست فرماںروا ازآغاز تا انجام انگریزوں کی روپیہ اور فوج سے ہر ممکن مدد کرتے رہے۔

معاملہ شناس بادشاہ سلامت نے اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے بھی عاجلانہ انداز میں انتھک کوشش کی کیونکہ حکومت کی آمدنی کے تمام وسائل تقربیاً منجمد تھے انہوں نے دلّی کے بنکوں سے شاہی خزانے کو بھرنے کی اپیل کی، تاہم سپاہیوں کو تنخواہ ادا کرنے کے لیے ایک لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم جمع نہ ہوسکی، یہاں تک کہ ان کے حکم سے ایک ٹکسال بھی قائم کی گئی لیکن وہ بھی لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کرنے میں کامیاب نہ رہی۔

مغلیہ سلطنت میں ہندو مسلمان گاڑی کے دو پہیوں کے مترادف تھے جس کی وجہ سے انقلاب کا سور پھونکتے ہی دونوں شانہ بہ شانہ انگریزی فوج سے معرکہ آزمائی کرنے لگے، جو انگریزوں کو پھوٹی آنکھ نہیں بھاتا تھا چنانچہ انگریزوں نے تحریک کی شروعات میں ہی ایسے عوامی پوسٹر چسپاں کردیئے تھے جن میں کارتوسوں کی چربی کا حوالہ دیکر انقلابی مسلمانوں اور ہندوؤں میں جھگڑا پیدا کرنے کی تلقین کی گئی تھی کہ یہ چربی صرف (گئو) کی تھی اس لیے مسلمان سپاہ نہ صرف ہندو باغیوں سے الگ ہوجائیں بلکہ ہمارے شریک ہوکر اہل ہنود کو قتل کریں، دورانِ انقلاب عید الاضحی آگئی تو مکر وفریب کے پتلے فرنگیوں کی باچھیں کھل گئیں کیونکہ گائے کی قربانی کے نام پر ہندو-مسلم اتحاد اور یگانگتی کا شیرازہ بکھر سکتا تھا جو ایک بہت بڑے المیے سے کم نہیں ہوتا، مگر بخت خاں نے عالم پناہ کے حکم سے9 ؍جولائی کو ڈھنڈورا پٹوایا کہ جو گائے ذبح کرے گا وہ توپ کے منھ سے اڑایا جائے گا، اس منادی سے انگریزوں کے خواب چکنا چور ہو گئے۔

حضور والا نے ہاتھی پر بیٹھ کر شہریان اور انقلابیوں سے پوری جو ش ولولے کے ساتھ انگریزوں کا مقابلے کرنے کی اپیل کی، وہ بے ذات خود مور چے اورآلاتِ حرب کے تئیں پورے فکر مند تھے بعض موقعوں پر انہوں نے محاذ پر جاکر ہتھیار و توپوں کا جائزہ لیا اور سرفروشوں کی پیٹھ تھپتھپائی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انقلابیوں کی تعداد، ہتھیار، رسد اور دیگر ذرائع بھی محدود ہوتے جا رہے تھے اس کے برعکس فرنگی خیمے میں نہ افراد وزر کی تنگی نہ اسلحہ کی اور نہ غلے کی اس سے بڑھ کران کو تعاون دینے والے وطن فروشوں کے گروہ میں بھی روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔

تحریک آزادی میں شریک غیر منظم انقلابیوں اور آزمودہ کار انگریزوں، اوران کے ہندوستانی کاسہ لیسوں کی فوجوں کے مابین 11 ؍مئی تا20 ؍ستمبر1857 ء مقابلہ جاری رہا، نا سازگار حالات کے باوجود کفن بدوش انقلابیوں نے انگریزی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیہے، دلّی کا ہر کو چہ و بازار میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا سڑکوں پر خون کی ندیاں بہہ گئیں، لیکن حفاظت دشمنوں سے تو کرلیتے کوئی اپنا دشمنی پر اُتر آئے تو کیا کیا جائے۔ انگریزی بوٹوں کی آوازوں کے درمیان جنرل بخت خاں نے سلطنت مغلیہ کے آخری مغل شہنشاہ کو اپنے ساتھ چلنے کی ضد کی، لیکن سب بے سود کیونکہ ظل سجانی مرزا الہی بخش کی مٹھی چھری کا شکار ہوچکے تھے، الغرض مورخہ21 ؍ستمبر1857ء مغلیہ تاریخ کاوہ سیاہ دن ہے جب بہادر شاہ ظفر، ز ینت محل اور شہزادے جواں بخت نے جا ن بخشی کے وعدے پر خود کو ہڈسن کے حوالے کیا، اگر بہادر شاہ ظفر بھی نسل تیمور کی طرح تپتے ہوئے صحراؤں کی جنگی آندھیوں میں بخت خاں کے ہمراہ دلّی سے نکل جاتے تو انگریزوں کے رحم وکرم پر رنگون میں غربت اور گمنامی کی زندگی جینے سے وہ موت کہیں زیادہ قابل فخر تھی جو مغلیہ سلطنت کے تاریخی وقار میں بھی ایک زریں ورق کا اضافہ کرتی۔ بہر حال انگریزوں نے بوڈھے بادشاہ کوحراست میں لے کر ذلیل وخوار اور ذہنی تکالیف دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ بے رحم ہڈسن نے مرزا مغل، مرزا خضرسلطان اور مرزا ابوبکر کو گولی مار کر ان کا سرتن سے جدا کرکے بادشاہ کو نذرانہ پیش کیا۔تو ناتواں بادشاہ نے بے ساختہ فقرہ کہ’’تیموری نسل کے غیور شہزادے اپنے بڑوں کے سامنے اسی طرح سرخرو ہوتے ہیں۔‘‘

27؍جنوری 1858ء کو ایک خود ساختہ ملٹری کمیشن نے بہادر شاہ ظفر کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا۔ جس کی کارروائی لال قلعے کے دیوان خاص میں 42 روز چلی۔ اس دوران انہیں مختلف روحا نی اور جسمانی اذیت ناک کرب سے دوچار ہونا پڑا۔ پنجاب کمشنر لارنس کی ایما پر تشکیل شدہ عدالت نے فیصلہ سنایا کہ معزول مغل بادشاہ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھنے کے لیے انہیں سمندر یا کسی جزیرے میں بھیج دیا جائے۔

چنانچہ 2؍اپریل 1858ء کو جلاوطنی کی سزا پر مہر ثبت کر د ی گئی۔ 7؍اکتوبر کو اس پر عمل کرتے ہوئے بادشاہ سلامت کو رنگون روانہ کر دیا گیا۔ جہاں وہ نہایت کسمپرسی کے عالم میں زندگی کے آخری ایام گزار کر 7؍نومبر 1862ء کو اپنے رب حقیقی سے جا ملے۔ بہادر شاہ ظفر نے جلاوطنی میں بھی اپنے شعری ذوق کو پروان چڑھایا۔ اس دوران انہوں نے جو غزلیں لکھیں۔ ان میں استعارتی انداز اور کنایوں کی شکل میں اپنی دلی کیفیتوں کا عکس صاف جھلکتا ہے۔

یہ شعر ان کے ذہنی کرب، احساس اور بے بسی کا شاہد ہے:

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

next