شہید شیرعلی خاں آفریدی: 149 ویں یوم شہادت کے موقع پر

شیر علی خاں آفریدی نے 11؍مارچ 1872 کو وائپر جزیرہ پہ مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندے کو چوما اور ہنستے ہنستے ملک وقوم کی عظمت و حرمت اور آزادی کی خاطر اپنی جان وتن قربان کردی تھی۔

شہید شیرعلی خاں آفریدی / تصویر شاہد صدیقی علیگ
شہید شیرعلی خاں آفریدی / تصویر شاہد صدیقی علیگ
user

شاہد صدیقی علیگ

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قوموں کے عروج وزوال کی پہچان ایسے مجاہدین سے ہوتی ہے جو ملک وقوم کی خاطر اپنی جان نچھاور کرنے میں بھی پیچھے نہیں ہٹتے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال قائم کرتے ہیں۔ ایسے ایک ہی عظیم مرد مجاہد کا نام ہے شیر علی خاں آفریدی جس نے برٹش انڈیا کے چوتھے وائسرائے کا سبزی کاٹنے والی چھری سے شکار کرکے انڈیا تا انگلستان کے ایوانوں میں ہلچل پیدا کردی تھی، لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو شیر علی خاں یا اس کے عظیم کارنامے سے واقف ہیں۔

ان کی قربانی تاریخ ہند میں سنہرے الفاظ میں لکھنے کا حامل ہے، لیکن شیرعلی ہندوستان کی سب سے بدنصیب اور مظلوم شخصیت ہے جسے نہ صرف برٹش انڈیا بلکہ آزاد بھارت میں بھی اچھوت سمجھا گیا، جبکہ حقیقی طور پر ہندوستان کی جانباز حریت پسندوں کے صف ِاول کی فہرست میں شہید شیرعلی خاں کا نام درجہ بالا اور حرفِ زریں سے لکھے جانے کا حامل ہے جن کی قربانی انقلابیوں کے لیے مشعل راہ بنی، لیکن ہم ان کی یاد کو بھی اس طرح برقرار نہ رکھ سکے جس کے وہ کم سے کم مستحق تھے۔


شیرعلی خاں آفریدی شہید منگل پانڈے کی طرح ہی برٹش فوج کا حصہ تھے اور منگل پانڈے کی طرح ہی شیر علی خاں نے اپنا منصوبہ پورا کرنے کے بعد اپنے ہونٹ سی لیے تھے، لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ جہاں منگل پانڈے جنگ آزادی کا نائک اور وہیں شیر علی گم نام۔ شیر علی خاں آفریدی نے 11؍مارچ 1872 کو وائپر جزیرہ پہ مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندے کو چوما اور ہنستے ہنستے ملک وقوم کی عظمت و حرمت اور آزادی کی خاطر اپنی جان وتن قربان کردی تھی، اس طرح آج ان کی شہادت کو 149؍ سال گزر چکے ہیں۔ شیر علی نے تختہ دار پہ کھڑے ہوکر پورے ضبط اور پختگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:

’’میں نے جب اس کا م کا ارادہ کیا تھا تو اپنے تئیں پہلے سے مردہ سمجھ لیا تھا، اگر میں اپنے تئیں مردہ نہ سمجھ لیتا تو وہ کام ہر گز مجھ سے صادر نہ ہو سکتا اور پھر کہا کہ مسلمان بھائیو میں نے تمہارے دشمن کو مار ڈالا اب تم شاہد رہو کہ میں مسلمان ہوں اور کلمہ پڑھا، دو دفعہ کلمہ ہوشیاری سے پڑھا، تیسری بار پھانسی کی رسی سے گلا گُھٹ کر پورا کلمہ ادا نہ ہوا۔‘‘ پھانسی کے بعد خاموشی سے ان کے جسد خاکی کو ڈنڈاس پوائنٹ کے جوار میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ جنگ آزادی کے گمنام مجاہد کی طرح اس کی آخری آرام گاہ بھی بے نام ونشاں رہی۔


شیر علی خاں آفریدی جسے بعض لوگ شیر علی نورانی بھی کہتے ہیں۔ وہ 1842ء میں ولی ساکن شمال مغربی سرحدی صوبے وادی تیراہ جمرود ضلع پشاور کے گھر پیدا ہوئے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد شیر علی کولیری دستہ میں شریک ہوگیا اور 1857ء پہلی ملک گیر جنگ آزادی کا طبل بجنے پر اودھ اور روہیل کھنڈ میں اپنی خدمات انجام دیں۔ پشاور واپس آنے پر اس نے پشاور گھوڑ سوار پولیس میں شمولیت اختیار کی، امبیلا مہم کے دوران کمشنر کے ساتھ رہا، میجرہیو جیمز اور رینیل ٹیلرکی ماتحتی میں کام کیا۔ ٹیلر اس سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے شیر علی کو ایک گھوڑا، ایک پستول اور ایک سر ٹیفکیٹ انعام میں دیا۔

ان کے خاندان میں مدت سے رنجش چلی آرہی تھی۔ انجام کار اپنے حریف حیدر کے قتل کے الزام میں اسے 2؍اپریل 1867ء کو کمشنر پیشاور نے پھانسی کی سزا سنائی۔ لیکن چونکہ اس کا عام چلن اچھا تھا۔ جنگ امبیلا میں بھی شریک رہا تھا اور انگریزوں کی خدمات انجام دی تھیں۔ لہٰذا سزائے موت کالاپانی میں بدل دی گئی، جسے سن کر شیر علی کو ایسا لگا کہ جیسے کسی نے اس کی تمام آرزؤں کا خون کر دیا ہو، کیونکہ شیر علی کے نزدیک کالا پانی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کا نام تھا، جبکہ سزائے موت ایک اعزاز، چنانچہ انگریزی جج کرنل پلاک کی تخفیف سزا کو شیر علی نے اپنے تئیں ناانصافی سے تعبیر کیا۔ شیر علی نے خود اپنی نظروں سے دیکھا تھا کہ کسی بھی انگریز کے خلاف بہ مشکل قانونی چارہ جوئی کا آغاز ہوتا تھا، حتیٰ کہ قتل کے انگریز مجرم کو مقدمے کی سماعت سے قبل ہی برطانیہ بھیج دیا جاتا تھا، اس طرح گویا برٹش انڈیا میں انگریز مجرم کے لیے انصاف کا ترازو خود انصاف کی بھیک مانگتا تھا، الغرض ان کا دو رخی برتاؤ دیکھ کر اس کے غضب کا ٹھکانہ نہ رہا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے مجھے ایک بار سنا، تم اور میری قوم مجھے ایک بار پھر سنے گی اور یہ انہوں نے کر دکھایا۔


شیر علی کو مئی 1869ء میں جز ائر انڈمان نکوبار میں لایا گیا اور قیدی نمبر 15557 بنے تو اس وقت انڈمان میں آزادی کے عظیم مجاہدین جعفر احمد تھانسیری، مولوی حکیم عبدالکریم (انبالہ)، مولانا علاء الدین (حیدر آباد) مولانا احمد اللہ صادق پوری (پٹنہ)، مولوی امیر الدین (مالدہ)، مولوی لیاقت علی الٰہ آبادی اور مفتی عنایت احمد کاکوروی وغیرہ کی نشستیں مسلسل ہوا کرتی تھیں۔ ان سورماؤں کی قربتوں سے شیر علی کی ذاتی دشمنی کب قوم پرستی میں تبدیل ہوگئی، انہیں احساس تک نہیں ہوا۔ انہوں نے بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے خود کو نہایت معصوم شریف، و جیہہ اور منکسر مزاج شخصیت کامالک ثابت کرنے کی غرض سے تین برس تک اکثر روزے رکھنے کے ساتھ اپنا حسن اخلاق اورچال چلن بھی اچھا رکھا، تنخواہ اور مزدوری سے جو کچھ بچتا، مہینے دو مہینے کے بعد اس کا کھانا پکا کر مسکینوں میں تقسیم کر دیتے انہی نیک خوبیوں کی بنا پر وہ قیدیوں کے ہردل عزیز اور ممتاز ہو گئے۔

جس کی بنا پر شیر علی خاں کو ٹکٹ چھٹّی قیدی کا درجہ عطا کر دیا گیا۔ لیکن وطن واپس جانے پر بدستور پاپندی قائم رہی اور انہیں بارک میں مشقّتی قیدیوں کی حجامت کا کام کرنے کی اجازت دے دی، جس سے شیر علی کو بنا روک ٹوک جزیروں میں آمدورفت کی سہولت فراہم ہو گئی اور جیل حکام بھی ان کی زیادہ دیکھ بھال نہیں کرتے تھے۔ دریں اثنا انہیں ہوپ ٹاؤن بھیج دیا گیا جہاں انہیں اپنے گھر سے ایک خط موصول ہوا جس میں نارمن (چیف جسٹس کلکتہ ہائی کورٹ) کے قاتل عبداللہ پنجابی کو تختہ دار پر چٹرھانے کی خبر تھی۔ جسے پڑھنے کے بعد ان کی رگوں میں بہنے والا لہو حب الوطنی کا طوفان جوش مارنے لگا اور مادر ہند کی خاطر کچھ کر گزرنے کی خواہش بیدار ہوئی تو انہوں نے اپنی اس آرزو کی تکمیل کے لیے کسی یورپی اعلیٰ عہدیدار کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا، جو وائسرائے کے قتل کی شکل میں منظر عام پر آیا۔


1869ء میں جب لارڈمیؤ گورنر جنرل اور وائسر اے منصب پر فائز ہوئے، تو انہوں نے میجر اسٹوارٹ کو اکتوبر1871ء میں انڈومان کے چیف کمشنر کے عہدے پر فائزکیا گیا۔ جو آج کے سب سے رسوائے زمانہ قید خانہ گوانتانامو سے بھی زیادہ اذیت ناک جگہ تھی۔ چیف کمشنر نے صرف چھ ماہ کی قلیل مدّت میں ہی قیدیوں کو ایسی دل سوز اذیتیں دیں کہ جن کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اسٹوارٹ نے اپنے انتظامات کے معائنہ کرنے کے لیے لارڈ میؤ سے بارہا التجا کی۔ جسے قبول کرتے ہوئے وہ ’24 جنوری 1872ء کو کلکتہ سے برما ہوتے ہوئے 8 فروری صبح 8 بجے پورٹ بلیر پر لنگر انداز ہوئے۔ چیف کمشنر نے ان کی حفاظت کے پیش نظر کوئی کسر نہ اٹھا کر رکھی، پورے علاقے کو قلعہ میں تبدیل کرتے ہوئے اتنے سخت حفاظتی اقدامات کیے کہ کوئی پرندہ بھی پر نہ مارسکے مگر موت کے آگے کس کا زور چلا ہے۔ ادھروائسرائے کا پرتپاک اور والہانہ استقبال 21 توپوں کی سلامی سے کیا جا رہا تھا۔ ادھر شیرعلی خاں کے دل میں آزادی کا لاوہ ابل رہا تھا۔ وہ تو اسی دن کا بے صبری سے منتظر تھا، اس نے سبزی کاٹنے والی چھری کو پتھر پر مزید تیز کیا اور اپنے شکار کا ایک بھوکے شیر کی مانند اننظار کرنے لگا۔

اسی اثنا میں ان کے دل میں ماؤنٹ ہیریٹ (Mount Harriet) دیکھنے کا بھی خیال آیا، لیکن پرائیوٹ سکریٹری اور چیف کمشنر نے غیر وقت ہونے کے سبب ان سے بارہا التماس کیا کہ وہ آج وہاں نہ جائیں بلکہ اگلے روز سیر کریں، مگر ان کی ضد کے آگے کسی کی ایک نہ چلی، البتہ ان کے پہنچنے سے قبل مزید ایک اور دستہ روانہ کر دیا گیا۔ انہوں نے اس حسین وادی میں تقریباً پندرہ منٹ گزارے، غروب آفتاب کی رنگیں شفق اور ساحل سے ٹکراتی ہوئی موجوں کی دلکش آمیزش نے ان کو فریفتہ کر دیا۔


وائسرائے اس بات سے بے بہرہ تھے کہ یہ دلفریب شام ان کی زندگی کی آخری شب میں تبدیل ہونے والی ہے۔ لگ بھگ شام 7 بجے وائسرائے واپسی کے لئے پہاڑی سے اترے، آفتاب اپنا سفر تمام کرچکا تھا اور فضا تاریکی کی بسیط چادر اوڑھ چکی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیر علی خاں نے نگاہ بچتے ہی اپنے شکار کو دبوچ لیا۔ اچانک لوگوں نے لارڈ میؤ کو ایک شخص کی گرفت میں دیکھا جب تک ان کا محافظ عملہ حرکت میں آتا تب تک شیر علی خاں مثل شیر اپنا کام انجام دے چکا تھا۔ وائسرائے کو چھری کے دو زخم لگے اور سمندر میں گر پڑے مگر انہوں نے اپنے پورے ہوش و حواس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: کچھ لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا ہے لیکن میں ٹھیک ہوں زیادہ چوٹ نہیں لگی۔

وائسراے کو سمندر سے نکال کر کنارے لایا گیا اور پاس کھڑی ڈیلے گاڑی پر بٹھا دیا گیا جو پل پر کھڑی تھی۔ وہ ایک دو منٹ تک چپ چاپ بیٹھے رہے۔ اس وقت دیکھا کہ ان کی پشت پر کوٹ کاٹ کر ایک چھید ہوگیا جس میں سے پرنالے کی طرح خون بہہ رہا ہے۔ اسے رومالوں سے بند کرنے کی کوشش کی گئی پھر ان کے پاؤں لڑکھڑائے اور پیچھے کی طرف گر پڑے۔ آہستہ سے کہا ’’میرا سر اوپر اٹھاؤ ‘‘ساتھ ہی ختم ہوگئے۔


اس ضمن میں یہ بات قابل غورہے کہ 1856ء تا 1947ء کے درمیان برٹش حکومت کے 20؍ گورنر جنرل وائسراے میں سے لارڈ میؤ کا ہی اپنے عہدے پر رہتے ہوئے قتل ہوا۔ وائسرائے کی لاش کو ان کے جنگی جہاز گلاسکو پر ہی سر کاری اعزاز دیا گیا اور مقدمہ کی سماعت میجر جنرل اسٹورٹ نے فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعہ اگلے روز اسی جنگی جہاز پر شروع کی۔ انگریز حکام نے شیر علی سے دریافت کیا کہ اس نے اتنا بڑا کام کس کے اشارے پر کیا اور اس سازش میں کون کون افراد اس کے معاون تھے۔ جذبۂ آزادی کے نشہ سے سرشار اس جری مجاہد نے شیر کی طرح گرجتے ہوئے کہا: ’’ میں نے خدا کے حکم سے کیا ہے خدا میرا شریک ہے۔‘‘

شیر علی کو 9؍ فروری یعنی ایک دن میں ہی پھانسی کی سزا سنا دی گئی اور 20؍ فروری 1872ء تحقیقات ضابطہ منظوری کلکتہ ہائی کورٹ نے بھی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔ لیکن انگریز حاکموں کو یقین نہیں تھا کہ شیر علی تنہا اس واردات کو انجام دے سکتا ہے بلکہ ان کے خیال میں اس کے پیچھے کوئی گہری سازش کار فرما ہے۔ انگریز تفتیش کاروں نے شیر علی خاں کے سینے میں دفن راز کو کو طشت از بام کرنے کی پوری کوشش کی، یہاں تک کہ انہوں نے ایک افسر کو بہروپیا بھی بنا کر ان کے پاس بھیجا مگر سب بے سود۔


وائپر آئی لینڈ جزیرہ (Viper) کی اس عمارت کے خستہ باقیات آج بھی موجود ہیں جہاں شیرعلی نے پھانسی کے پھندے کو بوسہ دے کر اس عارضی دنیا کو الوداع کہا تھا، وہ آج بھی اپنی بد حالی اور ویرانی کے عالم میں اس جانباز کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ:

تم ہی سے اے مجاہدوجہاں کا ثبات ہے

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

(عبد المجید سالک)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔