یہ ہندوستانی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے یا ناکامی؟

ہندوستان کی بدلتی خارجہ پالیسی میں امریکہ سے کشیدگی اور چین سے قربت نے سوالات کھڑے کیے ہیں۔ کیا یہ زمینی حقائق کے مطابق ایک مجبوری ہے یا پالیسی کی ناکامی، یہی اصل بحث ہے

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم مودی اور چینی صدر جنپنگ / تصویر بشکریہ ایکس</p></div>
i
user

سہیل انجم

ملکوں کی سیاست میں ایسے مقامات آتے رہتے ہیں جہاں انھیں اپنی پالیسیوں سے یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ کل کے دوست آج کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں۔ ان تغیر پذیر حالات کے جبر کے نتیجے میں بہت سے سخت فیصلے منسوخ کرنے پڑتے ہیں اور تازہ ترین صورت حال کے تناظر میں پالیسیوں کی تشکیل نو کرنی پڑتی ہے۔ ہندوستان، امریکہ اور چین آجکل اسی عبوری دور سے گزر رہے ہیں۔ کیا حالیہ برسوں میں کسی نے سوچا تھا کہ امریکہ جو ہندوستان کا بہت گہرا دوست بن گیا ہے اور جس سے ہندوستان کے اسٹریٹجک رشتے قائم ہو گئے ہیں وہ اس سے دور ہو جائے گا اور اس کے روایتی حریف پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا دے گا۔ کیا کسی نے سوچا تھا ہندوستان اور چین جو ایک طرح سے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں پاس آ جائیں گے اور دونوں ملکوں کے سربراہ گلے ملنے لگیں گے۔ سفارت کاری ایسے کرشمے دکھاتی ہے اور مذکورہ تینوں ملکوں میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اسے کچھ اسی انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔

جب 2020 میں لداخ میں ہندوستانی اور چینی افواج کے درمیان خونیں جھڑپ ہوئی تھی اور ہندوستان کے بیس فوجی ہلاک ہوئے تھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ سرحد پر کشیدگی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ فریقین کی جانب سے وہاں تعینات فوجیوں کی تعداد پچاس پچاس ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ دونوں نے وہاں انفرا اسٹرکچر قائم کیے۔ فوجی ساز و سامان اور ہتھیار ذخیرہ کیے۔ ایسی بہت سی سرگرمیاں انجام پانے لگیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں۔ لیکن رفتہ رفتہ کشیدگی کم ہونے لگی اور دوطرفہ مذاکرات کے نتیجے میں کچھ تنازعات کو حل کیا گیا۔ لیکن تمام تنازعات اب بھی حل نہیں ہوئے ہیں۔ چین پر الزام ہے کہ اس نے ہندوستان کی ہزاروں کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور ہندوستانی افواج پہلے جہاں تک رسائی رکھتی تھیں اب وہاں تک نہیں رکھ پاتیں۔

خونیں جھڑپ کے بعد حکومت ہند نے متعدد چینی ایپس پر پابندی لگا دی تھی۔ چینی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع ہو گیا تھا۔ دونوں ملکوں کی متعدد کمپنیوں نے باہمی تجارتی معاہدوں کو یا تو منسوخ یا ملتوی کر دیا تھا۔ ہندوستان کے اندر چین کے خلاف عوامی جذبات کا ریلا آگیا تھا۔ حزب اختلاف کی جانب سے چین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ جب یہ بات زبان زد عام ہو گئی کہ چین نے ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیا اور حکومت کو اس سلسلے میں سخت اقدامات کرنے چاہئیں تو وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بیان دے کر کہ نہ کوئی ہمارے ملک میں گھسا ہے، نہ ہی ہماری زمین پر کسی نے قبضہ کیا ہے تجزیہ کاروں کی زبان میں بزدلی کا مظاہرہ کیا تھا۔

چین کے تعلق سے حکومت کے فیصلوں پر دو قسم کا ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔ بڑا طبقہ حکومت کے موقف سے مطمئن نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ حکومت کو سخت قدم اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ چین لااعتبار ہے۔ وہ کب کیا بیان دے گا اور سرحد پر کب ہماری مزید زمینیں اپنے قبضے میں لے لے گا کہا نہیں جا سکتا۔ لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ چونکہ دونوں ملکوں کی فوجی قوت میں بہت فرق ہے اور اگر خدا نخواستہ جنگ ہوتی ہے تو ہندوستان ا س کا مقابلہ نہیں کر پائے گا لہٰذا حکومت نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ درست ہے۔ اسے ٹکراو کی پالیسی کے بجائے مصالحت کی پالیسی اپنانی چاہیے۔


حالانکہ اس درمیان دونوں ملکوں کے حکومتی اہل کاروں کی جانب سے سخت بیانات بھی دیے جاتے رہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی کہ ہم دبنے والے نہیں ہیں۔ ادھر بالخصوص سوشل میڈیا کی جانب سے نریندر مودی کا وہ بیان یاد دلایا جاتا رہا کہ من موہن حکومت کو چین کے ساتھ نرمی برتنے کے بجائے اس کو لال لال آنکھیں دکھانی چاہیے۔ مودی سے یہ پوچھا جانے لگا کہ وہ چین کو لال لال آنکھیں کب دکھائیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ شی جن پنگ کے ساتھ جھولا جھولنے کا نتیجہ دیکھ لیا۔ انھوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔ دراصل شی جن پنگ کے ہندوستانی دورے کے موقع پر گجرات میں مودی اور پنگ نے ایک جھولے پر بیٹھ کر گفت و شنید کی تھی۔

بہرحال حکومت کی جانب سے صرف بیانات دیے جاتے رہے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حالانکہ جنوبی ایشیا میں چین کی بڑھتی سرگرمی اور اس کے ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھرنے سے ہندوستان اور امریکہ اور بعض دیگر ممالک بھی تشویش میں مبتلا تھے۔ امریکہ چاہتا تھا کہ ہندوستان ہند بحر الکاہل میں چین کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ وہ چار ملکوں کے فورم کواڈ میں بھی چین کے خلاف زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ کرے۔ یاد رہے کہ کواڈ میں ہندوستان، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان ہیں۔ چین کواڈ کو اپنے خلاف تشکیل دیا گیا فورم بتاتا تھا۔ امریکی دباؤ کے باوجود ہندوستان نے چین کے خلاف کوئی سخت اقدام نہیں کیا جسے ہندوستان کی خود مختاری کے لیے اچھا نہیں سمجھا گیا۔

لیکن بہرحال اب حالات بہت بدل گئے ہیں۔ امریکی صدر اور نریندر مودی کے سابق دوست ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر پچاس فیصد ٹیرف عاید کیے جانے کی وجہ سے دونوں ملکوں میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔ ٹرمپ نے اسی سال کے اواخر میں ہندوستان میں ہونے والے کواڈ کے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ خبروں کے مطابق انھوں نے مودی سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے بات نہیں کی۔ ویسے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کی وجوہات اور دوسری بھی ہیں جن سے قارئین واقف ہیں۔ لہٰذا ان کے اعادہ کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔

ایسے میں جبکہ چین کی جانب سے ہندوستان کی قبضہ کی ہوئی زمینوں میں سے ایک انچ بھی نہ چھوڑنے کے باوجود مودی کا چین کا دورہ، ایس سی او اجلاس میں شرکت اور شی جن پنگ سے ملاقات پر بہت سے لوگ حیران ہیں۔ وہ اسے چین کے سلسلے میں ہندوستانی پالیسی سے مکمل یو ٹرن قرار دے رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستانی زمینوں پر اپنا قبضہ نہ ہٹانے کے باوجود مودی کا دورہ اور شی جن پنگ سے ملاقات ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی دلیل ہے۔ اگر چہ امریکہ نے ہندوستان پر پچاس فیصد ٹیرف لگا دیا ہے پھر بھی اسے چین کی جانب نہیں بڑھنا چاہیے تھا یا کم از کم اس وقت تک نہیں بڑھنا چاہیے تھا جب تک کہ وہ ہندوستان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا۔


تجزیہ کاروں کے مطابق چین پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ مودی شی جن پنگ ملاقات کے نتیجے میں مان سروور یاترا اور براہ راست پروازوں کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ تو کر لیا گیا ہے لیکن چین ہندوستان کی اس نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرحد پر اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح چین کے وعدوں اور باتوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اسی طرح ٹرمپ کی باتوں پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک بڑ بولے سیاست داں ہیں۔ وہ آج کیا کہتے ہیں اور کل کیا، کہا نہیں جا سکتا۔ لہٰذا ان کی جانب سے زیادہ ٹیرف لگانے کے فیصلے کو عارضی معاملہ سمجھنا چاہیے۔ ٹرمپ اپنی مدت ختم کر کے ریٹائر ہو جائیں گے اور کوئی دوسرا صدر آ جائے گا۔ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔

لیکن چین کی پالیسی ہی یہ ہے کہ اسے ہندوستانی زمین پر قبضہ کرنا ہے۔ اس کے تمام پڑوسیوں کو اس سے برگشتہ کر دینا اور وہاں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنا ہے۔ چین میں جمہوریت نہیں ہے۔ وہاں ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے انتخابات کے نتیجے میں سربراہ نہیں بدلتے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ شی جن پنگ ابھی مزید جانے کتنے برسوں تک برسراقتدار رہیں گے۔ لہٰذا تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان کے اس قدم کو کوئی بہت دانش مندانہ نہیں کہا جا سکتا۔ اس تجزیہ کی روشنی میں قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہندوستان کی امریکہ سے دوری اور چین سے قربت خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے یا ناکامی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔