وائس آف امریکہ: ٹرمپ کی کفایت شعاری کا نیا شکار
ناقدین نے امریکی غیر ملکی امداد میں کٹوتیوں کو غیر آئینی اور انسانیت کے خلاف قرار دیا۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ صدر ٹرمپ کے ان فیصلوں سے امریکی ساکھ، جمہوری اقدار اور عالمی استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے

یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا (یو ایس اے جی ایم)، جو وائس آف امریکہ (وی او اے) اور دیگر بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی نگرانی کرنے والا ادارہ ہے۔ اگست 2025 کے آخر میں ادارے نے عملے کی بڑی برطرفی کا اعلان کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی مقرر کردہ قائم مقام سی ای او کاری لیک نے 532 ملازمین کو "افرادی قوت میں کمی " کے طور پر برطرفی کے نوٹس جاری کر دیئے جن کا مقصد ادارے کے وفاقی آپریشنز کو محدود کرنا اور اخراجات کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔ وائس آف امریکہ میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں وہاں جاری ہنگامہ خیز صورتحال کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ سال کے شروع میں، ملازمین کو انتظامی چھٹیوں کا سامنا کرنا پڑا، تقریباً 600 ٹھیکیداروں کو برطرف کیا گیا، اور قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر، ایک وفاقی جج نے بین الاقوامی براڈکاسٹنگ ایڈوائزری بورڈ سے مطلوبہ منظوری کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے،وائس آف امریکہ کے ڈائریکٹر مائیکل ابرامووٹز کو ہٹانے کی کوشش کو روک دیا۔ جج نے کاری لیک اور ان کے معاونین کو حلف کے تحت گواہی دینے کا حکم دیا۔
امریکی اور بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ صحافیوں، یونینوں اور قانونی ماہرین سمیت ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات سے امریکی عوامی سفارت کاری کو نقصان پہنچتا ہے۔ ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی اور ریڈیو فری ایشیا جیسی ایجنسیاں 42.7 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی خدمت کرتی ہیں، جمہوری اقدار کو فروغ دیتی ہیں اور آمرانہ بیانیے کا مقابلہ کرتی ہیں۔ ان کو ختم کرنے سے نہ صرف ساکھ ختم ہوتی ہے بلکہ ان خطوں میں آوازیں خاموش کرنے کی بھی سازش ہوتی ہے جہاں پریس کی آزادی پہلے ہی خطرے میں ہے۔اس اقدام نے امریکی قانون اور بین الاقوامی اصولوں دونوں کی خلاف ورزی کا الزام لگانے والے مقدمات کو جنم دیا ہے۔ وائس آف امریکہ کے عملے کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کی نگرانی قانون کے مطابق ضروری ہے، لیکن اس کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
غیر ملکی امداد میں کٹوتی
وائس آف امریکہ کی کٹوتیوں کے متوازی، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی غیر ملکی امداد میں بڑے پیمانے پر نظر ثانی کی ہے—یو ایس ایڈ کو ختم کرنا، امداد کی فراہمی کو منجمد کرنا، اور نگرانی کو دوبارہ تفویض کرنا — ایسے اقدامات ہیں جن سے دنیا بھر میں انسانی بحرانوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ 20 جنوری کو صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر"ری ایویلیوٹنگ اور ریلائننگ یونائیٹڈ اسٹیٹس فارن ایڈ" پر دستخط کیے اور تمام ترقیاتی امداد کو 90 دنوں کے لیے روک دیا۔ انسانی بنیادوں پر صرف ہنگامی خوراک، ادویات اور پناہ گاہ کو استثنیٰ کی اجازت تھی۔
سال کے وسط تک، یو ایس ایڈ کے آپریشنز مؤثر طریقے سے بند کر دیے گئے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ یو ایس ایڈ غیر ملکی امداد پر عمل درآمد بند کردے گا، اور باقی کام محکمہ خارجہ کو منتقل کردے گا۔ اس ردوبدل میں گہرے کٹوتیاں شامل تھیں ۔ رپورٹس کے مطابق، خوراک، پانی اور طبی امداد جیسی ضروری خدمات فراہم کرنے والے پروگراموں میں 83 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ مزید برآں، ٹرمپ نے مالی سال کے اختتام پر کانگریس کی طرف سے منظور شدہ غیر ملکی امداد میں تقریباً 5 ارب ڈالر کو روکنے کے لیے شاذ و نادر ہی استعمال ہونے والی "جیب کٹوتی" کو استعمال کیا اور یوں امریکی ریاست اور یو ایس ایڈ دونوں کو فنڈز استعمال کرنے سے روک دیا۔
صحت و انسانی خدمات پر اثرات
عالمی اموات کے تخمینے: 'دی لینسٹ' میں ایک مطالعہ نے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یو ایس ایڈ کی کٹوتیوں سے 2030 تک کم از کم 1.4 کروڑ اضافی اموات ہوسکتی ہیں، جن میں 45 لاکھ پانچ سال سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ صرف ایچ آئی وی/ایڈز پروگرام کو ختم کرنے سے ایک کروڑ سے زائد نئے انفیکشن اور تقریباً 30 لاکھ ایچ آئی وی سے متعلق اموات ہو سکتی ہیں۔ زچگی اور بچوں کی اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں آدھے ارب سے زیادہ بچے نمونیا اور اسہال کے علاج سے محروم رہ جائیں گے، مردہ پیدائش، بچوں اور زچگی کی اموات میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہو سکتا ہے۔
فنڈنگ روکنے سے پہلے ہی ٹی بی کے ہزاروں اضافی کیسز اور اموات ہوئی ہیں۔ اگر فنڈز منجمد ہونے کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو تخمینہ لگایا گیا ہے کہ 2030 تک 22 لاکھ مزید ٹی بی اموات ہوں گی۔ اسی طرح فنڈزپر روک نے بیماریوں کی نگرانی اور پناہ گزینوں کی صحت کے تعلق سے متعدد ممالک میں امدادی پروگراموں کو بری طرح متاثر کیا ہے — صومالیہ اور جنوبی سوڈان میں ہیضے اور غذائی قلت کے علاج سے لے کر تھائی لینڈ، ہیٹی، جنوبی سوڈان اور افغانستان کے مہاجر کیمپوں میں ذہنی صحت اور تحفظ کی خدمات تک۔
خطرناک نتائج کا خدشہ
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے "اچانک اور افراتفری" امدادی کٹوتیوں کو غیر آئینی اور جان لیوا قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ ادارہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں — بشمول زندگی، صحت اور وقار کے حقوق — اور ایک انسانی رہنما کے طور پر امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت امریکی بجٹ میں کٹوتی کی بھاری قیمت ادا کرے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کفایت شعاری پر مبنی ایجنڈا امریکہ کے اہم سافٹ پاور انفراسٹرکچر اور عالمی قیادت پر قلیل مدتی بچت کو ترجیح دیتا ہے۔ وائس آف امریکہ اور یو ایس ایڈ جیسے اداروں کو ختم کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ وائس آف امریکہ کی برطرفیوں سے امریکی ساکھ اور عالمی سطح پر جمہوری اقدار کو پیش کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کا خطرہ ہے۔
یو ایس ایڈ اور غیر ملکی امدادی پروگراموں کے خاتمے سے ترقی پذیر دنیا میں صحت، استحکام اور انسانی حقوق کو خطرہ ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف فوری امداد کی فراہمی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یہ کئی دہائیوں کے ادارہ جاتی تعلقات، بیماریوں کی نگرانی کے نظام، اور جاری شراکت داریوں کو ختم کر دیتے ہیں جو لچکدار عالمی نظام کے لیے ضروری ہیں۔ حقیقی متاثرین دنیا کے سب سے زیادہ کمزور ہیں— خواتین، بچے، پناہ گزین اور بیماری سے لڑنے والے۔ اگر یہ رجحانات جاری رہتے ہیں، تو اس کے نتائج ناقابل طلافی ہو سکتے ہیں؛ جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کو فروغ اور انسانی تباہی کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔