وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن پر یوروپ کی خاموشی خطرناک... اشوک سوین

غزہ ایک سنگین شگاف تھا، جہاں بین الاقوامی عدالت کے فیصلوں کو کھلے عام نظر انداز کیا گیا۔ وینزویلا اس شگاف کو مزید گہرا کرتا ہے۔ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھنے پر ایک واضح پیغام بھی ملتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر: مصنوعی ذہانت (اے آئی)</p></div>
i
user

اشوک سوین

ڈونالڈ ٹرمپ کا وینزویلا میں فوجی آپریشن اور صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کا فرمان دینا بین الاقوامی نظام کے انہدام کی سمت ایک اہم موڑ ہے۔ یہ کسی ایسے دہشت گرد کے خلاف کوئی خفیہ حملہ نہیں تھا جو حکمرانی اور انتظامیہ کی نظروں سے دور کسی دشوار گزار علاقے میں چھپا ہوا ہو۔ یہ ایک ملک کے سربراہ کو اس کی اپنی راجدھانی سے ہتھیاروں کے زور پر پکڑنے کی کارروائی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر اس حملے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری بھی نہیں لی تھی۔ ظاہر ہے، یہ حملہ بین الاقوامی قوانین و ضوابط کے نہایت بنیادی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ جو بات اسے واقعی خطرناک بناتی ہے، وہ صرف کارروائی نہیں بلکہ اس کے بعد کا رد عمل ہے۔ یوروپ کا دبا دبا رد عمل، سوچ سمجھ کر دیے گئے بیانات کے الفاظ اور معاملے کو نظرانداز کرنے کا اس کا واضح رویہ یہ دکھاتا ہے کہ خاموشی اور چنیدہ غصے کا یہ ماحول قواعد پر مبنی نظام کی بنیادیں ہلا رہا ہے۔


ٹرمپ انتظامیہ نے اس آپریشن کو قانون کی حکمرانی قائم کرنے والا قدم دکھانے کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے مادورو کے خلاف نارکو ٹیررزم کے الزامات کو ہتھیار بنایا ہے۔ لیکن ذرا سا غور کرنے پر ہی ٹرمپ کی یہ دلیل نہایت کھوکھلی ثابت ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی ملک گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کے بہانے اپنی اسپیشل فورسز کو سرحدوں کے پار نہیں بھیجتا، غیر ملکی راجدھانیوں پر حملہ نہیں کرتا اور صدور کو معزول نہیں کرتا۔ اگر اس اصول کو مان لیا جائے تو کوئی بھی طاقتور ملک ان غیر ملکی رہنماؤں کو اغوا کرنے کا حق جتا سکتا ہے جنہیں وہ مجرم سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی قانون اس معاملے میں بالکل واضح ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل (4)2 کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے۔ ایسا کوئی تسلیم شدہ قانونی اصول موجود نہیں جو اغوا کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی کی اجازت دے، اور نہ ہی ایسا کوئی اصول ہے جو کسی ملک کو اس بنیاد پر دوسرے ملک پر ’حکمرانی‘ کی اجازت دے کہ اس کے رہنما کو بیرون ملک ناپسند کیا جاتا ہے یا اس پر الزامات لگائے گئے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اپنے اندرونی تضادات قانونی خلاف ورزی کو اور بھی واضح کر دیتے ہیں۔ محض چند ہفتہ قبل اعلیٰ حکام نے کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ وینزویلا میں کسی بھی زمینی حملہ کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔ لیکن حملے سے پہلے نہ تو منظوری لی گئی اور نہ ہی کارروائی کی کوئی واضح قانونی بنیاد پیش کی گئی۔ اس کے بجائے کارروائی کے بعد منشیات کی اسمگلنگ سے لے کر مائیگریشن اور تیل سے جڑی باتیں کی جاتی رہیں، اور وہ بھی بیک وقت۔ وینزویلا کے تیل کے انفراسٹرکچر کو دوبارہ بنانے اور ملک کو ’ٹھیک سے‘ چلانے کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات نے دکھاوے کی باقی رہ جانے والی کسر بھی پوری کر دی۔ یہ کارروائی خالصتاً طاقت اور وسائل سے جڑی ہوئی تھی۔


یوروپ میں اس کے بعد جو ہوا، وہ بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔ یوروپی رہنماؤں نے تشویش ظاہر کی، ضبط و تحمل کی اپیل کی اور بین الاقوامی قانون کے تئیں اپنے وعدوں کو دہرانے کی رسمی کارروائی کی۔ لیکن کسی نے بھی اس بنیادی مسئلے پر بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ ایک خود مختار ملک کے خلاف طاقت کا غیر قانونی استعمال تھا۔ یوروپ کی یہ ناکامی اس کے نسبتاً بڑے اور بااثر ممالک میں زیادہ واضح نظر آئی۔ فرانس، یونائیٹڈ کنگڈم اور جرمنی کے پاس بے باک رد عمل دینے کی سفارتی قوت، فوجی صلاحیت اور تاریخی ذمہ داری موجود ہے، پھر بھی ان تینوں نے احتیاط کی چادر اوڑھ لینا بہتر سمجھا۔

پیرس نے بین الاقوامی قانون کے بارے میں صرف طریقہ کار کی زبان استعمال کی اور جوابدہی کی کوئی بات نہیں کی۔ لندن نے صبر رکھنے اور حقائق کا پتہ لگانے کی بات کی، گویا کسی ملک کے صدر کو ہتھیاروں کے زور پر گرفتار کرنے کے بارے میں کوئی اخلاقی فیصلہ لینے کے لیے مزید تحقیق درکار ہو۔ روایتی طور پر خودمختاری کے معاملے میں یوروپ کی سب سے توانا آواز رہا جرمنی بھی اب ابہام میں چلا گیا، کیونکہ گہری اسٹریٹجک وابستگی کے اس دور میں وہ واشنگٹن کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ ان میں سے کسی نے بھی کوئی واضح سرخ لکیر متعین نہیں کی، نہ ہی معاملے کی سنگینی کے مطابق کوئی اقدام تجویز کیا۔ ان کی خاموشی غیر جانب داری کے بجائے رضامندی جیسی محسوس ہوتی تھی۔


وینزویلا پر یہ ہچکچاہٹ یوکرین پر یوروپ کی بیان بازی سے بالکل مختلف ہے، جہاں خود مختاری کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کو عالمی نظام کے لیے وجودی خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار صاف نظر آتا ہے۔ جب روس یوروپ میں سرحدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ تہذیب پر حملہ بن جاتا ہے۔ جب امریکہ لاطینی امریکہ میں یہی کرتا ہے تو یہ ایک افسوس ناک پیچیدگی قرار پاتا ہے۔

یہ دوہرا معیار باقی دنیا سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ اس پرانی سوچ کی تصدیق کرتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کو انتخابی انداز میں نافذ کیا جاتا ہے، جب سہولت ہو تو اس کا استعمال کیا جاتا ہے، اور جب طاقتور اتحادی اسے توڑتے ہیں تو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ نقصان بڑھتا جا رہا ہے۔ غزہ ایک سنگین شگاف تھا، جہاں بین الاقوامی عدالت کے فیصلوں کو کھلم کھلا نظرانداز کیا گیا اور لوگوں کی تکلیف کو معمول بنا دیا گیا۔ وینزویلا اس شگاف کو مزید گہرا کرتا ہے۔ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھنے سے ایک واضح پیغام ملتا ہے، اور وہ یہ کہ قوانین صرف ان پر نافذ ہوتے ہیں جن کے پاس طاقت نہیں ہوتی۔


اس کے اثرات کاراکس سے کہیں دور تک جائیں گے۔ ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ یہ آپریشن آخری نہیں ہے۔ ان کی انتظامیہ کیوبا کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہے۔ ان کی باتوں میں کولمبیا بھی شامل رہا ہے۔ ایران پہلے ہی براہِ راست امریکی حملوں کا سامنا کر چکا ہے۔ گرین لینڈ اب بھی ان کی نظر میں ہے، جس پر ڈنمارک کی ایک خودمختار اکائی کے بجائے ایک علاقائی انعام کے طور پر گفتگو ہو رہی ہے۔ اگر واشنگٹن فوجی طاقت استعمال کر کے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یوروپ کو ایک ایسی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے لیے وہ بالکل تیار نہیں۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ یوروپی ممالک ایسی کارروائی کو روک پائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ناٹو ایک بڑے بحران کا سامنا کرے گا، جو اتحاد کی وفاداری اور اس بنیادی اصول کے درمیان پھنس جائے گا کہ سرحدیں طاقت کے زور پر تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔

یہ یوروپ کے موجودہ رویے کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جب امریکہ سرخ لکیر عبور کرتا ہے تو یوروپ خاموش رہ کر ایک ایسی دنیا کو شکل دینے میں مدد کرتا ہے جس میں صرف طاقت یہ طے کرتی ہے کہ کیا قانونی ہے۔ یہ سوچنا کہ بین الاقوامی نظام اس صورت میں بچا رہے گا اگر صرف ’دشمن‘ ممالک ہی اس کی خلاف ورزی کریں، محض خام خیالی ہے۔ ایک بار جب طاقتور ملک قانون کو اپنی مرضی کی چیز سمجھنے لگتا ہے تو قانون کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی دوسرے ممالک بھی اس کی خلاف ورزی کریں گے۔


ٹرمپ انتظامیہ کا استدلال ہے کہ مادورو کی حکومت ناجائز، بدعنوان اور آمرانہ ہے۔ لیکن بین الاقوامی نظام تو ایسے ہی معاملات کو درست کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ خود مختاری اچھے رہنماؤں کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ انتشار کو روکنے کے لیے ہے۔ اگر طاقتور ممالک یکطرفہ طور پر جائز ہونے کا فیصلہ کرنے لگیں تو کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔ آج جن انتخابات پر تنازعہ ہے، انہیں کل کہیں اور مداخلت کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ اکیلے یہ سب نہیں کر رہے۔ ان کے اقدامات ایک بڑی تبدیلی کا حصہ ہیں، جو دنیا کو اثر و رسوخ کے علاقوں، وسائل پر کنٹرول اور طاقت کے مراکز کے حساب سے ترتیب دے رہی ہے۔ یہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی میں لپٹی انیسویں صدی کی سوچ کی واپسی ہے۔ یہ خواہش نئی نہیں، لیکن مزاحمت کی کمی یقیناً نئی بات ہے۔ یوروپ کا امریکہ پر انحصار سیاسی جمود میں بدل گیا ہے۔ چھوڑ دیے جانے کے خوف نے اصولوں کے تئیں وابستگی کو ختم کر دیا ہے۔ قلیل مدتی تحفظ کا انتخاب کرتے ہوئے یوروپ انہی قواعد کی قربانی دے رہا ہے جو اس کی اجتماعی سلامتی کو معنی دیتے ہیں۔


تاریخ ایک ملک کے صدر کی فوجی قوت کے ذریعے گرفتاری کو ایک اہم موڑ کے طور پر یاد رکھے گی۔ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اس بین الاقوامی نظام کو ختم کر رہا ہے جس کی قیادت کرنے کا اس نے کبھی دعویٰ کیا تھا۔ یوروپ، جوابدہی کے بجائے مفاہمت اختیار کر کے، اس تباہی کو تیزی سے آگے بڑھانے میں مدد کر رہا ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی نظام ایک جھٹکے میں ختم نہیں ہوتا۔ یہ تب ختم ہوتا ہے جب خلاف ورزیوں کے جواب بہانوں سے دیے جائیں، جب اصولوں کو انتخابی انداز میں نافذ کیا جائے اور جب خاموشی پالیسی بن جائے۔ وینزویلا کے ساتھ جو ہوا ہے، وہ ایک انتباہ ہے۔ اس پر سب سے خطرناک رد عمل یہ دکھانا ہوگا کہ یہ کسی اور کا مسئلہ ہے۔

(مضمون نگار سویڈن کی ’اُپسالا یونیورسٹی‘ میں ’پیس اینڈ کنفلکٹ ریسرچ‘ کے پروفیسر ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔