وینزویلا کے بعد امریکہ کو اب ’خون منہ لگ گیا ہے‘... سید خرم رضا
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکہ نے کسی ملک کے صدر یا حکومت کو نشانہ بنایا ہو، مگر وینزویلا کا معاملہ اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ یہاں الزامات اور اصل محرکات کے درمیان واضح تضاد نظر آتا ہے۔

وینزویلا میں جو کچھ پیش آیا، وہ محض ایک ملک کے اندرونی سیاسی بحران کی کہانی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں طاقت، مفادات اور دوہرے معیار کی ایک واضح مثال ہے۔ جس انداز میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو مبینہ طور پر رات کے وقت سوتے ہوئے امریکی فوجیوں نے اغوا کیا، پھر امریکہ منتقل کر کے ان پر مقدمات قائم کیے گئے اور جیل بھیج دیا گیا، اس نے بین الاقوامی قوانین، خودمختاری اور انسانی حقوق سے متعلق کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر یہی عمل کسی اور طاقتور ملک کے سربراہ کے ساتھ ہوتا تو کیا عالمی برادری اسی خاموشی کا مظاہرہ کرتی؟ یہ سوال آج پوری دنیا میں گونج رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکہ نے کسی ملک کے صدر یا حکومت کو نشانہ بنایا ہو، مگر وینزویلا کا معاملہ اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ یہاں الزامات اور اصل محرکات کے درمیان واضح تضاد نظر آتا ہے۔ امریکہ نے صدر مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، لیکن عالمی سطح پر یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وینزویلا کے خلاف اس جارحانہ رویے کے پیچھے اصل وجہ تیل ہے۔ وینزویلا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں تیل کے ذخائر بے پناہ ہیں، اور یہی دولت ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی منشیات کی اسمگلنگ امریکہ کا اصل مسئلہ ہے یا یہ محض ایک بہانہ ہے تاکہ قدرتی وسائل پر قبضے کو اخلاقی جواز دیا جا سکے؟
یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ کو اب ’خون منہ لگ گیا ہے‘۔ ایک بار جب کسی طاقت کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ کسی ملک میں مداخلت کر کے بغیر کسی بڑے ردِ عمل کے اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے تو پھر یہ روش ایک عادت بن جاتی ہے۔ وینزویلا کے بعد گرین لینڈ اور اب ایران کے حوالے سے امریکی بیانات اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ گرین لینڈ کے معاملے میں امریکہ روس اور چین سے سلامتی کے خدشات کا حوالہ دے رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی نظریں وہاں موجود معدنی وسائل پر مرکوز ہیں۔ برف میں چھپا ہوا یہ خطہ نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ مستقبل میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھنے والی ہے۔ ایسے میں سلامتی کا نعرہ دراصل معاشی اور جغرافیائی مفادات کو چھپانے کا ایک پردہ محسوس ہوتا ہے۔
اسی طرح ایران کے حوالے سے بھی امریکی بیانیہ تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ ایران میں ہونے والے مظاہروں کو علی خامنہ ای کے خلاف ایک عوامی بغاوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، گویا ایران کے عوام خود امریکہ کی مداخلت کے منتظر ہوں۔ حالانکہ زمینی حقائق اس قدر سادہ نہیں۔ ایران ایک خود مختار ملک ہے جہاں داخلی مسائل بھی ہیں اور سیاسی اختلافات بھی، مگر ان مسائل کو بیرونی مداخلت کا جواز بنانا ایک خطرناک روایت ہے۔ خاص طور پر اس پس منظر میں کہ حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے معاملے میں سفارتی اور اسٹریٹجک سطح پر ناکامی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایران اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت بھی امریکہ کو کھٹک رہی ہے۔ دونوں ممالک امریکہ کی پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اور اسی لیے وہ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ مادورو کی ایران سے قربت اور ایران کا وینزویلا کی حمایت کرنا امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف مداخلت کے خیالات کو تقویت دی جا رہی ہے، اور اندرونی احتجاجات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکے۔
اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ کب تک دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہے گا؟ کب تک انسانی حقوق، جمہوریت اور سلامتی کے نام پر قدرتی وسائل اور جغرافیائی مفادات کی جنگیں لڑی جاتی رہیں گی؟ دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ اطلاعات کا بہاؤ تیز ہے، عوام زیادہ باخبر ہیں، اور ہر بیانیہ بغیر سوال کے قبول نہیں کیا جاتا۔ وینزویلا، گرین لینڈ اور ایران کے معاملات دراصل ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں، جن میں مرکزی کردار طاقت ہے اور پس منظر میں وسائل کی ہوس۔
یہ وقت ہے کہ عالمی برادری دوہرے معیار کو مسترد کرے اور یہ طے کرے کہ بین الاقوامی قوانین واقعی سب کے لیے برابر ہیں یا صرف کمزور ممالک کے لیے۔ اگر ایک طاقتور ملک کسی خودمختار ریاست کے صدر کو اغوا کر سکتا ہے اور اسے انصاف کا نام دے سکتا ہے، تو کل یہی عمل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ وینزویلا کا واقعہ ایک انتباہ ہے، صرف لاطینی امریکہ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے کہ طاقت کے بے لگام استعمال کے نتائج آخرکار عالمی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ چاہے وینزویلا ہو، گرین لینڈ ہو یا ایران، اصل مسئلہ نام نہاد الزامات یا سلامتی کے خدشات نہیں بلکہ وہ وسائل اور اسٹریٹجک مفادات ہیں جن پر عالمی طاقتیں نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ کیا کہہ رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کب اس کہانی کے پردے کے پیچھے چھپی حقیقت کو اجتماعی طور پر تسلیم کرے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔