’ورنہ تیل اور فنڈ روک دیا جائے گا‘، وینزویلا میں فوجی کارروائی کے بعد ٹرمپ نے کیوبا کو دی دھمکی
ٹرمپ نے کہا کہ ’’کیوبا کئی سالوں تک وینزویلا سے ملنے والے کثیر مقدار میں تیل اور فنڈ پر منحصر رہا۔ بدلے میں کیوبا نے وینزویلا کے پچھلے 2 تاناشاہوں کو سیکورٹی خدمات فراہم کیں، لیکن اب مزید نہیں۔‘‘

وینزویلا میں فوجی آپریشن کے کچھ دنوں بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کو دھمکی دے کر عالمی سطح پر جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے دی ہے۔ ٹرمپ نے 11 جنوری کو مشورہ دیتے ہوئے کیوبا سے کہا ہے کہ ’’اسے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر لینا چاہیے، کہیں بہت زیادہ دیر نہ ہو جائے۔‘‘ انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ دیگر صورت میں کیوبا کا تیل اور فنڈ روک دیا جائے گا۔
یہ مشورہ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دیا ہے۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’کیونا کو اب نہ تو تیل جائے گا اور نہ ہی پیسہ... صفر! میں انھیں مشورہ دیتا ہوں کہ وہ بہت تاخیر ہونے سے قبل ایک معاہدہ پر دستخط کر لیں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’کیونا کئی سالوں تک وینزویلا سے ملنے والے کثیر مقدار میں تیل اور فنڈ پر منحصر رہا۔ بدلے میں کیوبا نے وینزویلا کے پچھلے 2 تاناشاہوں کو سیکورٹی خدمات فراہم کیں، لیکن اب مزید نہیں۔‘‘ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ کے حملہ میں بیشتر کیوبا کے لوگ مارے گئے ہیں اور وینزویلا کو اب ان غنڈوں اور جبراً وصولی کرنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے جنھوں نے انھیں اتنے سالوں تک یرغمال بنا کر رکھا تھا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی باتوں کو یہیں پر ختم نہیں کیا، بلکہ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’وینزویلا کے پاس اب یو ایس اے ہے، جو دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے، جو ان کی حفاظت کرے گی اور ہم ان کی حفاظت کریں گے۔ کیوبا کو اب مزید تیل یا فنڈ نہیں بھیجا جائے گا۔ میرا مشورہ ہے کہ وہ بہت تاخیر ہونے سے پہلے ایک معاہدہ کر لیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے ہفتہ کے روز ہوانا میں امریکی سفارت خانہ کے سامنے ہزاروں لوگوں کے ساتھ ریلی میں وینزویلا پر حملہ کرنے اور اس کے صدر کو گرفتار کرنے کے لیے امریکہ کی مذمت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’کیوبا ان کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے اور انھیں ’اسٹیٹ ٹیررزم‘ جیسا عمل مانتا ہے۔‘‘ کینیل نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’یہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی ایک حیرت انگیز خلاف ورزی ہے۔ ایک پرامن ملک کے خلاف یہ فوجی جارحیت ہے، وہ بھی تب جب یہ ملک امریکہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔