سفر نامہ: ازمیر ایک خوبصورت شہر جہاں لوگوں کے چہروں پر اطمینان نظر آتا ہے... سید خرم رضا

ازمیر شہر کا تعارف ترکی کے مشہور ٹی وی سیریل ’فاطمی گل‘ سے ہوا تھا، اس سیریل سے محسوس ہوا تھا کہ یہ استنبول شہر کے مقابلہ ازمیر شہر بہت چھوٹاہوگا لیکن یہاں پہنچنے کے بعد ایسا بالکل محسوس نہیں ہوا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

جس ٹیکسی سے استنبول ائیرپورٹ سے ہوٹل پہنچے تھے اسی ٹیکسی والے کو صبح 6 بجے استنبول ائیر پورٹ چھوڑنے کے لئے بلا لیا، وہ ٹھیک 5.50 پر ٹیکسی لے کر آ گیا۔ آدھے گھنٹے میں ہم لوگ ائیر پورٹ پہنچ گئے اور اگلے آدھے گھنٹے میں تمام کارروائی سے فارغ ہو گئے۔ اس ائیرپورٹ کا روانگی کا حصہ بھی بہت جدید اور خوبصورت بنا ہوا ہے۔ 45 منٹ کی پرواز کے بعد ہم لوگ ترکی کے شہر ازمیر پہنچ چکے تھے۔ یہاں بیلٹ پر سامان آنے میں تھوڑا وقت لگا جبکہ مسافر صرف ہماری پرواز کے ہی تھے۔ باہر آکر دیکھا تو یہاں ہر طرح کی سواری دستیاب تھی لیکن ہم نے ٹیکسی کو ترجیح دی، ائیر پورٹ انتظامیہ نے ایک ٹیکسی والے کو ہمارے حوالہ کر دیا۔ ٹیکسی سے جیسے ہی پہلے سے بک کیے ہوئے ہوٹل کی جانب سفر شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ ازمیر ایک خوبصورت اور جدید شہر ہے لیکن یہاں لال بتی پر تھوڑا وقت لگتا ہے کیونکہ یہاں کاروں کی بھیڑ زیادہ ہے۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کا کرایا 75 لیرا یعنی 900 روپے لگا۔

ازمیر کا تعارف ترکی کے مشہور ٹی وی سیریل ’فاطمی گل‘ سے ہوا تھا، اس ٹی وی سیریل سے محسوس ہوا تھا کہ یہ استنبول شہر کے مقابلہ ازمیر بہت چھوٹا شہر ہوگا لیکن یہاں پہنچنے کے بعد ایسا بالکل محسوس نہیں ہوا۔ حالانکہ یہ استنبول شہر سے کم جدید اور چھوٹا ضرور ہے۔ افیہان ہوٹل میں سامان سیٹ کرتے کرتے دوپہر کا ایک بج گیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہوٹل کے نیچے ایک اسٹور سے کچھ کھانے کا سامان لایا گیا۔ گرمی کو دیکھتے ہوئے پہلے سونے کا ارادہ کیا، حالانکہ یہاں کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس ہونے کے باوجود گرمی زیادہ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ شام کو نماز عصر کے بعد ہم لوگوں نے سمندر کا رخ کیا۔ ابھی ہم لوگ تھوڑی دور ہی پیدل چلے تھے کہ بڑے بڑے شو روم نظر آنے لگے، ان شو روم میں بس ایک ہی طرح کے لباس موجود تھے۔ بعد میں پتہ لگا کہ اس مارکیٹ کا ایک حصہ صرف شادی کے لباس کے لئے ہی مشہور ہے۔ ہر شو روم میں انتہائی خوبصورت شادی کے لباس موجود تھے مگر سب سفید تھے کیونکہ یہاں پر عیسائی مذہب کی طرح شادی کا جوڑا خوبصورت سفید گاؤن ہی ہوتا ہے۔ ان لباسوں کو دیکھنے کے بعد ٹی وی شو ’ فاطمی گل‘ کی شادی کا منظر یاد آ گیا۔

تھوڑی دور چلنے کے بعد جب سمندر کے کنارے پہنچے تو وہاں جو سکون حاصل ہوا وہ کچھ جدا تھا۔ سمندر نے مجھے ہمیشہ اپنی جانب کھینچا ہے، پانی کو دیکھ کر ایک عجیب سی خوشی محسوس ہو تی ہے۔ سمندر کے ایک کنارے پر ’کونارک پائر‘ نام کا ایک بڑا سا شو روم ہے۔ اس کے اندر انتہائی عالیشان ایک منزلہ مارکیٹ بنی ہوئی ہے۔ مارکیٹ کے تین اطراف سمندر کی جانب ناشتے اور کھنانے کے ہوٹل بنے ہوئے ہیں۔ وہاں موجود ’برگر کنگ‘ کے آؤٹ لیٹ پر ہم لوگوں نے بھی ہلکا سا کھانا کھایا۔ اس کے بعد سمندر کے کنارے چہل قدمی کرنے لگا۔ یہاں شاپنگ کا انتظام تھا، کھانے کا انتظام تھا، پانی کے جہاز میں سفر کا انتظام تھا، بچوں کے لئے سائیکل کرائے پر دینے اور چلانے کا علیحدہ سے ٹریک موجود تھا، وہیں چھوٹے بچوں کے لئے کھیل کا علیحدہ سے انتظام تھا یعنی یہاں سیاحوں کی ہر سہولت کا خیال رکھا گیا تھا۔ جہاں لوگ تمام چیزوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے وہیں انتظامیہ کو پیسے بھی مل رہے تھے۔ یہاں آنے والے 95 فیصد لوگ ترکی اور باقی پانچ فیصد غیر ممالک کے تھے۔ باہر سے آنے والوں کے لئے وہاں موجود لوگوں سے بات چیت کرنا بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہاں کے لوگ ترکی زبان کے علاوہ اور کوئی دوسری زبان نہیں جانتے۔ یہاں کے رہائشی اپنے گھر آنے جانے کے لئے پانی کے جہاز کا بھی استعمال کرتے ہیں اور سب سے زیادہ کرایہ 10 لیرا ہے۔

ویسے تو یہاں سیاحوں کے لئے ہر طرح کے بیٹھنے کا انتظام تھا لیکن وہاں کچھ کچھ فاصلہ پر مختلف قسم کی گول سی نہایت خوبصورت جگہیں بیٹھنے کے لئے نظر آئیں، قریب جا کر پتہ لگا کہ یہاں مفت وائی فائی کی سہولت دستیاب ہے۔ اس سے جہاں شہر کے بڑے ہونے کا اندازہ ہوا وہیں یہ بھی پتہ لگا کہ ترکی میں جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال بھی ہے اور عوام کی سہولت کا بھی پورا خیال رکھا گیا ہے۔

سمندر کے کنارے ٹہلتے ہوئے ازمیر کو رات کی گرفت میں جانے کا اس وقت احساس ہوا جب ہم نے سڑک کے دونوں اعتراف بنے بڑے بڑے شو روم کو بند ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کے ساتھ ہی کچھ مقامات پر زبردست رونق بھی نظر آئی۔ غور سے دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ پب ہیں اور یہاں کی زندگی اس وقت ہی شروع ہوتی ہے۔ ازمیر شہر نے پہلے ہی دن بہت متاثر کیا۔ ایسا نہیں کہ جو سیاح کی نظر میں آئے ویسا شہر بھی ہو، لیکن ترکی کے دو شہروں سے اندازہ ہوا کہ یہاں خوشحالی ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات دستیاب ہیں۔ ازمیر شہر کی عوام میں زبردست سکون اور اطمینان نظر آیا۔ کل ہم ٹرین سے سفر کر کے ایک بہت خوبصورت مقام پر جائیں گے تو کل تک کے لئے خدا حافظ۔