سفرنامہ: استنبول میں پہلا دن، ترکی کی معیشت میں سیاحت کا اہم کردار... سید خرم رضا

’کوم کاپی‘ کو یہاں کی زبان میں ’کوم کا پوہ‘ یعنی ’ریت کا دروازہ‘ کہا جاتا ہے، یہ پرانے روم اور آرمینیا کا مارمارا ندی کے پاس مچھواروں کا ایک ضلع تھا۔ ’کوم کاپی‘ مچھلی کے مختلف کھانوں کے لئے مشہور ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

استنبول بین الاقوامی ایئر پورٹ جہاں سے گزشتہ سال ہی پروازیں شورع ہوئی ہیں وہ چند سالوں بعد یعنی 2027 تک دنیا کا سب سے بڑا ایئر پورٹ بن جائے گا۔ یہ عالی شان ایئر پورٹ ابھی زیر تعمیر ہے لیکن پروازوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی ہے۔ ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ ہر نئے دن کے ساتھ ہوائی سفر آمد و رفت کا مرکزی ذریعہ بنتا جا رہا ہے، اس سفر کے لئے جو بھی حکومت مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرے گی ظاہر ہے اس کو دور اندیش ہی کہا جائے گا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

صبح 10 بجے نئی دہلی کے ٹرمینل۔3 ائیرپورٹ سے انڈیگو کی فلائٹ سے اپنا سفر شروع کر نے اور کچھ وقفہ دوحہ میں رکنے کے بعد شام 6 بجے استنبول کے نئے ائیر پورٹ پر ایمیگرین کروا کر بیلٹ نمر 16 سے اپنا سامان لے کر باہر نکلے تو جو ٹیکسی پہلے سے بک کی تھی اس کا ایجنٹ مراد نامی ترکی باشندہ ہمارے نام کی تختی لئے باہر کھڑا ہم لوگوں کا انتظار کر رہا تھا۔ مراد ہمیں باہر لے گیا جہاں ابراہیم نامی ڈرائیور ایک شاندار وولکس ویگن ٹیکسی لئے ہماری فیملی کا انتظار کررہا تھا۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی ابراہیم نے ہم سب کو ایک ایک پانی کی بوتل دی اور ہوٹل کی جانب سفر شروع کر دیا۔ استنبول کا پرانا شہر جہاں پر اہم نے قیام کے لئے ہوٹل بک کرایا تھا وہ اس نئے ایئر پورٹ سے 42 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع تھا۔ اس پورے سفر میں 50 منٹ کا وقفہ لگا۔ اس مختصر سفر کے دوران انتہائی صاف ستھری سڑکوں سے گزرتے ہوئے ہم اپنے ہوٹل پہنچے اور سیٹل ہونے کے بعد عشائیہ کے لئے باہر نکلے تاکہ شہر کو خود چہل قدمی کرتے ہوئے محسوس کریں اور شہر کی پہلی جھلک دیکھ سکیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

ہوٹل سے چلتے ہوئے ابھی 700 میٹر ہی ہوئے تھے کہ ایک سڑک پر ہمیں بہت زیادہ رونق نظر آئی وہاں کچھ ہوٹل بھی تھے، ہم لوگوں کا رخ خود بخود اس جانب مڑ گیا۔ جیسے جیسے ہم اس سڑک نما چوڑی گلی میں آگے بڑھتے گئے ہمیں وہاں کا نظارہ دیکھ کر مزہ آنے لگا۔ دونوں جانب نصف سڑک پر ہوٹل کی میز کرسیاں لگی ہوئی تھیں اور لوگ کھانا نوش فرما رہے تھے۔ کچھ میزوں کو پانچ چھ افراد گھیرے ہوئے کھانا کھا رہے لوگوں کو مقامی گانا سنا رہے تھے۔ آگے چلنے کے بعد ہم حیران رہ گئے کے درمیان میں ایک فوارہ ہے اور چھ سڑکیں یا انہیں چوڑی گلیاں کہیے وہ یہاں آ کر ملتی ہیں۔ زیادہ تر ان صاف ستھرے اور نفیس ہوٹلوں پر جو نام لکھے ہوئے تھے ان پر’کوم کاپی‘ (Kumkapi) لکھا ہوا تھا۔ یہاں کی رونق دیکھ کر ہم کھانا تو بھول ہی گئے۔ پہلے اس علاقہ اور اس تہذیب کو محسوس کرنے اور سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔ پہلی نظر میں یہ تو صاف ہو گیا کہ کھانا کھانے والے 99 فیصد لوگ سفید فام تھے اور یوروپی تہذیب کے نظر آ رہے تھے۔ تقریباً ہر کھانے کی میز پر مچھلی، کباب کے ساتھ مختلف قسم کی شراب کے برانڈ موجود تھے۔ کچھ میزوں پر مقامی میوزک گروپ گانا سنا رہے تھے۔ جب ہم نے کھانے کے ریٹس دیکھے تو ہم نے سوچا کہ پہلے دن اتنے پیسے خرچ نہیں کرنے چاہیے کیونکہ وہاں کے ہوٹل تھوڑے مہنگے نظر آئے، ویسے پہلے یہاں کے کھانوں کے ذائقہ کے بارے میں پوری معلومات حاصل کر لیں پھر ہاتھ آزمایا جائے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

ہر ہوٹل کے باہر اسمارٹ اور نفیس کپڑے زیب تن کیے ہوئے 45 سال سے اوپر کی عمر کے ہوٹل ملازم ہاتھ میں بڑا سا مینو کارڈ لئے کھڑے تھے اور لوگوں کو اپنے ہوٹل کے کھانوں کے بارے میں بتا کر اپنے یہاں کھانے کے لئے اصرار کر رہے تھے۔ یہاں کی ایک گھنٹے تک مفت میں رونق کے مزے لینے کے بعد ہم نے اس کے یعنی ’کوم کاپی‘ کے بالکل سامنے( درمیان میں مرکزی شاہراہ تھی) سڑک پر بیٹھ کر کباب، پلاؤ اور چکن کا عشائیہ بہت ہی کم پیسوں میں کیا۔ اس عشائیہ پر ہم چھ افراد کا بل صرف 65 ترکی لیرا کا بنا۔ واضح رہے یہاں کا ایک لیرا ہمارے 12 روپے کے برابر ہے یعنی ہندوستانی روپے کے حساب سے ایک ہزار روپے کے اندر ہمارا عشائیہ پورا ہو گیا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

’کوم کاپی‘ جس کو یہاں کی زبان میں ’کوم کا پوہ‘ یعنی ’ریت کا دروازہ‘ کہا جاتا ہے، یہ پرانے روم اور آرمینیا کا مارمارا ندی کے پاس مچھواروں کا ایک ضلع تھا۔ ’کوم کاپی‘ مچھلی کے مختلف کھانوں کے لئے مشہور ہے۔ وہاں سے ٹہلتے ہوئے اور شہر کو سونے سے پہلے دیکھتے ہوئے جب ہوٹل کی جانب واپس آ رہے تھے تو دیکھا کہ ہوٹل کے قریب ایک پارک میں جہاں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہاں کچھ چھوٹے بچے جھولوں اور کھیلوں کا مزہ لے رہے ہیں۔ وہاں موجود ایک دو سال کی بچی اعتماد کے ساتھ ان کھیلوں میں حصہ لے رہی تھی۔ قریب جاکر اس کے والد سے بات ہوئی تو پتہ لگا وہ لوگ ویسے تو ترکی کے رہنے والے ہیں لیکن اب جرمن میں مقیم ہیں اور وہیں کے اب شہری ہیں۔ وہ اپنے چار بچوں اور اپنی جرمن بیوی کو لے کر استنبول گھومنے آئے ہیں، ان کی اس دو سالہ بیٹی کا نام مارواہ نور ہے۔ پارک میں تھوڑا ٹھرنے کے بعد ہوٹل پہنچے اور پھر کب نیند آگئی پتہ ہی نہیں لگا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

حسب عادت صبح جلدی اٹھ کر کمرے کا تالا لگا کر شہر کو اٹھتے ہوئے دیکھنے کے لئے باہر نکلا۔ انتہائی پرسکون اور صاف ستھرا شہر جہاں صبح کے ناشتہ کی تیاری ہو رہی تھی۔ ٹہلتے ٹہلتے کوم کاپی پہنچ گیا وہاں دیکھا کہ چھ کی چھ چوڑی گلیاں پانی سے دھوئی جا چکی ہیں تمام کرسیاں بہت سلیقہ کے ساتھ میزوں پر اوندھے منہ رکھی ہیں، ایک دو ہوٹلوں کے باہر کچھ لوگ اخبار پڑھ رہے ہیں اور بلیوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔ اس شہر میں بلیوں کی بہتات ہے اور نہایت خوبصورت ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

صبح کی روشنی اور سکون میں نظر آیا یہ شہر کا پرانہ علاقہ ہے جہاں کچھ مکان خستہ حالت میں ہیں ویسے تو پورا علاقہ ہوٹلوں اور دوکانوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پہلی نظر میں یہ محسوس ہوا کہ ترکی کی معیشت میں سیاحت کا بڑا دخل ہے کیونکہ ہر دوسرا مکان ایک چھوٹے ہوٹل میں تبدیل ہو گیا ہے اور ہر تیسری دوکان کھانے کے ہوٹل کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دیکھتے ہیں کل استنبول میں کیا نظر آتا ہے جب تک کے لئے خدا حافظ۔

Published: 7 Jul 2019, 7:10 PM