استنبول: دنیا کی دو اہم تہذیبوں کا مرکز... سید خرم رضا

ٹوکاپی پیلس عثمانی بادشاہوں کی رہائش گاہ تو تھی ہی لیکن ساتھ میں ریاست کا تعلیمی اور انتظامی مرکز بھی تھا جس کی تعمیر 1460 میں ہوئی تھی اور 19 ویں صدی تک یہ عثمانی بادشاہت کا مرکز رہا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

ناشتہ میں ابلا ہوا انڈا، بریڈ، مختلف قسم کی سلاد، جوس اور کافی کے بعد پروگرام بنا کہ آج ٹوکاپی پیلس، ایا صوفیہ، بلو موسک (نیلی مسجد) اور سلیمان اسکوائر جانا ہے۔ موبائل پر فاصلہ دیکھا تو پتہ لگا کہ ہوٹل سے ایک کلو میٹر پر یہ تاریخی عمارتیں ہیں اور ایک دوسرے کے نہایت قریب ہیں، اس لئے پیدل ہی جانے کا ارادہ کیا۔ ہم لوگ تیار ہو کر جی پی ایس کی رہنمائی میں سفر کا آغاز کیا۔ پہلے ہی موڑ پر جو چڑھائی والی سڑک ملی اس پر چڑھنے سے سبھی کی حالت خراب ہو گئی۔ یہاں کی سڑکیں انتہائی ڈھلان اور چڑھائی والی ہیں۔ چونکہ پہلی ہی سڑک چڑھائی والی ملی اس لئے حالت خستہ ہو گئی، دو اسی طرح کی سڑکوں کے بعد ڈھلان والی سڑکیں آ گئیں جنھیں دیکھ کر راحت کا احساس ہوا۔ 40 منٹ کی مسافت کے بعد ہم سلیمان اسکوائر پر پہنچ گئے تھے۔

ایک دو کلومیٹر میں پھیلے ہوئے یہ مقامات کہنے کو تو تاریخی مقامات ہیں لیکن ان چند کلومیٹر میں سینکڑوں سال کی تاریخ سمٹی ہوئی ہے۔ پہلے طے ہوا کہ ٹوکاپی پیلس دیکھا جایا جائے۔ یہاں پر سب سے بڑا اور پہلا مرحلہ داخلہ کا ٹکٹ لینے کا ہے۔ لمبی لائن کے بعد 60 لیرا کا فی کس ایک ٹکٹ لیا گیا۔ یہاں مقامی اور غیر مقامی لوگوں کے لئے ٹکٹ شرح میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ٹکٹ لینے کے بعد پہلے ترکی کے بادشاہوں کے باورچی خانہ میں استعمال ہونے والے سامان کا دیدار کیا اور پہلی ہی نظر میں اندازہ ہو گیا کہ وہ بادشاہ صرف مختلف کھانوں کے شوقین ہی نہیں تھے بلکہ کیسے کھانا ہے اور کن برتنوں میں کھانا ہے اس کا اندازہ یہاں آکر بخوبی ہو گیا۔

آج ہم نے کتنی بھی ترقی کر لی ہو لیکن 16ویں اور 17 ویں صدی میں جو برتن اور کھانے کے لئے سامان یہاں استعمال ہو رہے تھے وہ بہت ہی نفیس اور اعلی قسم کے تھے۔ ہم لوگ باورچی خانہ کے سامان کی تعریف کرتے ہوئے باہر نکلے تو دیواروں پر آویزاں تصاویر نظر آئیں جن سے اندازہ ہوا کے ترکی کے بادشاہ سلطان کیوں اپنے زمانہ میں اتنے طاقتور تھے۔ یہ تصاویر اس وقت کے جدید ہتھیاروں کی تھیں۔ اندر جانے کے بعد پہلے ایک شاندار آڈینس روم تھا جہاں پر آکر لوگ اپنی جانب سے بادشاہوں کوتحائف پیش کرتے تھے۔ اس کے بعد ایک شاندار لائبریری تھی جس کے دروازہ پر لکھا تھا ’میرے دوست تعلیم کو بہت سنجیدگی سے لیں اور اعلان کر دیں ’میرے مالک میرے علم میں اضافہ کر دے‘ سورۃ طہٰ 20:114 تعلیم کی اہمیت نے یہ واضح کر دیا کہ پوری دنیا میں ترکی اور مسلمانوں کا دبدبا تھا۔

لائبریری دیکھنے کے بعد سب لوگ اس کمرے میں داخلہ کے لئے قطار میں کھڑے بے چین تھے جس کے لئے اس پیلس میں آئے تھے۔ تقریباً آدھا گھنٹے بعد ہمیں اس میوزیم میں داخلہ کا موقع ملا، میوزیم میں داخلہ کے وقت وہاں موجود گارڈ بار بار یہ اعلان دہرا رہے تھے کہ ’نو فوٹو پلیز‘ پھر بھی اندر داخل ہونے کے بعد لوگ تصاویر کھیچنے کے لئے بیتاب نظر آئے اور بیتاب بھی کیوں نہ ہوتے کیونکہ کچھ لوگوں کے لئے وہاں رکھی چیزیں مذہبی عقائد سے جڑی ہوئی تھیں تو کچھ لوگوں کے لئے یہ تاریخ کا ایک اہم باب تھا، جس کو وہ اپنے موبائل میں قید کرنا چاہتے تھے۔

اندر داخل ہونے پر اسلامی دور کی بہت سی اہم چیزیں دیکھنے کو ملیں جن میں حضرت موسیٰؑ کا عصا، آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تلوار، کمان، پینے کا کٹورا، دندان مبارک، مہر نبوت، داڑھی کا بال اور ان کی صاحب زادی حضرت فاطمہؐ اور ان کے نواسہ حضرت حسینؓ کے کپڑے وغیرہ شامل تھے۔ وہاں سے کوئی بھی نکلنا نہیں چاہ رہا تھا لیکن باہر اندر آنے والوں کی لائن لگی ہوئی تھی اس لئے باہر آنا سبھی کے لئے مجبوری تھی۔ یہاں سے باہر نکلنے کے بعد عالی شان میٹنگ روم میں پہنچے، یہاں رکھے سامان اور دستاویز سے یہ اندازہ ہوا کہ سلطان احمد بادشاہ ضرور تھے لیکن مشورہ کے بغیر وہ اپنی حکومت کا کام انجام نہیں دیتے تھے۔

واضح رہے ٹوکاپی پیلس عثمانی بادشاہوں کی رہائش گاہ تو تھی ہی لیکن ساتھ میں ریاست کا تعلیمی اور انتظامی مرکز بھی تھا جس کی تعمیر 1460 میں ہوئی تھی اور 19 ویں صدی تک یہ عثمانی بادشاہت کا مرکز رہا۔ 1922 میں جب عثمانی بادشاہت کا اختتام ہوا اور مصطفی کمال اتاترک نے اس عثمانی بادشاہت کے بعد حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی تو 3 اپریل 1924 کو اس پیلس کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔

استنبول: دنیا کی دو اہم تہذیبوں کا مرکز... سید خرم رضا

ٹوکاپی پیلس سے باہر نکلے تو اتنے تھک چکے تھے کہ کہیں اور جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی لیکن پھر بھی ایا صوفیہ میں داخل ہونے کے لئے ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے قطار میں کھڑے ہو گئے۔ کافی لمبے انتظار کے بعد اندر داخل ہونے کا موقع ملا اور ٹوکاپی پیلس کی طرح یہاں کا ٹکٹ بھی 60 لیرا فی کس تھا۔ ایا صوفیہ میں داخل ہوتے ہی خود بخود فن تعمیر کا اعتراف کرنے کو دل چاہا۔ مشرقی رومن حکومت نے یہ عالی شان تاریخی چرچ بنوایا تھا جہاں پر تمام بادشاہوں کی (کورونیشن) تخت نشینی ہوتی تھی۔

اس چرچ نے تاریخ کے کئی ادوار دیکھے اور اس کا اندازہ اس میوزیم کے باہر لگی تختی سے لگایا جا سکتا ہے جس پر لکھا تھا ’اس کو 916 سال تک چرچ کے طور پر استعمال کیا گیا اور 482 سال تک مسجد کے طور پر استعمال کی گئی۔ اس میں اندر داخل ہونے کے بعد اس بات کے واضح اشارے نطر آتے ہیں۔ جہاں نماز جمعہ کے خطبہ کے لئے ممبر بنا ہوا ہے، چھت پر اللہ، محمد اور صحابہ کے نام لکھے ہوئے ہیں تو وہیں بالکل درمیان میں حضرت عیسیٰؑ کی تصویر بھی بنی ہوئی ہے۔ اب یہ ایک میوزیم ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں مذاہب کا پورا احترام کیا جاتا ہے۔ یہ تصویر ہمارے ملک ہندوستان کے لئے بہت سبق آموز ہے۔ دراصل ایاصوفیہ استنبول کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے جو یوروپ اور ایشیا کا سنگم ہے۔

استنبول شہر کو دنیا کی دو بہترین تہذیبوں کا مرکز کہا جا سکتا ہے۔ ایا صوفیہ کے بعد بلو موسک یعنی نیلی مسجد جانے کی ہمت نہیں ہوئی چونکہ تاخیر بھی بہت ہو گئی تھی۔ آج پورے دن دس کیلومیٹر پیدل چلنا پڑا۔ واپسی میں کھانا لیتے ہوئے ہم اپنے ہوٹل واپس پہنچے، چونکہ تھک کے اتنے چور ہو گئے تھے کہ فوراً سو گئے۔ کل دیکھتے ہیں کہ کہاں کا سفر ہوگا جب تک کے لئے خدا حافظ، لیکن استنبول آنے کی کوشش ضرور کیجیےگا۔

Published: 9 Jul 2019, 8:09 AM